دنیا تیزی سے بدل رہی ہے، بعض اوقات تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہم ایک ایسی صدی میں سانس لے رہے ہیں جس کے بارے میں چند دہائیاں پہلے صرف قیاس آرائیاں کی جا سکتی تھیں۔ مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی نے جہاں انسانیت کے سامنے نئے سوالات اور نئے خدشات کھڑے کیے ہیں وہیں زندگی کو کئی حوالوں سے آسان بھی بنا دیا ہے۔ وہ کام جو چند سال پہلے تک ناممکن دکھائی دیتے تھے، آج روزمرہ معمولات کا حصہ ہیں۔
میں اکثر مختلف پروگرام اور نشستوں میں زوم کے ذریعے شریک ہوتی ہوں اور ٹیکنالوجی کی پیدا کردہ اس تبدیلی کو اپنی زندگی میں محسوس کرتی ہوں۔ آج میں گھر بیٹھے بلکہ اپنے موجودہ حالات میں گھر میں لیٹے ہوئے بھی دنیا کے مختلف حصوں میں ہونے والی علمی ادبی اور فکری نشستوں میں شریک ہو پاتی ہوں۔
فاصلے گویا سکڑ گئے ہیں ،گزشتہ روز میری بیٹی فینی کے ساتھ میں بھی ارتقاء انسٹیٹیوٹ آف سوشل سائنسز کے پروگرام میں لاگ ان ہوئی اور اس تقریب میں شریک ہونے کا موقع ملا۔ یہ تقریب ان شخصیات کی یاد میں منعقد کی گئی تھی، جو اب ہمارے درمیان نہیں رہیں مگر جن کی خدمات، یادیں اور فکری ورثہ آج بھی زندہ ہے۔
31 مئی 2026 کو ارتقاء انسٹیٹیوٹ آف سوشل سائنسز اور پروگریسو رائٹرز ایسوسی ایشن نے رضا کاظم، پروفیسر وجے سنگھ اور ممتاز مہر کی یاد میں تعزیتی اجلاس رکھا تھا۔ رضا کاظم کا نام سنتے ہی ذہن میں ایک ایسی شخصیت ابھرتی ہے جو بیک وقت قانون، فلسفے، موسیقی اور سماجی فکر سے وابستہ تھی۔
وہ ان چند لوگوں میں شامل تھے جو علم کو خانوں میں تقسیم نہیں کرتے تھے۔ ان کے لیے موسیقی بھی انسانی آزادی کی ایک صورت تھی اور فلسفہ بھی۔ لاہور میں قائم ان کا ادارہ سنجن نگر انھوں نے فلسفہ اور موسیقی کی ترویج کے لیے قائم کیا تھا جو ان کی فکری جستجو کا مظہر تھا۔ ان سے میری ملاقات برسوں پہلے لاہور میں ہوئی تھی۔ ان کی گفتگو میں روایت بھی تھی اور جدیدیت بھی، تنقید بھی اور محبت بھی۔
پروفیسر وجے سنگھ کا شمار برصغیر کے ان دانشوروں میں ہوتا تھا جنھوں نے اپنی زندگی تحقیق، تاریخ اور انسانی ترقی کے سوالات کے لیے وقف کر دی۔ وہ محض ایک مؤرخ نہیں بلکہ ایک سنجیدہ مارکسی محقق تھے۔
انھوں نے ماسکو سمیت دنیا کے مختلف ممالک کی بڑی لائبریریوں اور آرکائیوز میں برسوں تحقیق کی۔ ان کی علمی تحقیق کا بنیادی مرکز مارکسی نظریہ، روسی تاریخ، عالمی کمیونسٹ تحریک کی تاریخ اور سوشلزم سے متعلق تاریخی ونظریاتی مباحث تھے۔ ان کے لیے تاریخ محض ماضی کے واقعات کا مجموعہ نہیں بلکہ حال کو سمجھنے اور مستقبل کی سمت متعین کرنے کا ایک ذریعہ تھی۔
ان کی تحقیق کا دائرہ دنیا کی بڑی لائبریریوں اور آرکائیوز تک پھیلا ہوا تھا جہاں انھوں نے تاریخ کے مختلف پہلوؤں کو براہ راست ماخذات کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کی۔ ان سے ملاقاتیں زیادہ تر کراچی میں ہوئیں۔
وہ جب کئی برس قبل اپنی شریک حیات ترپتا کے ساتھ پاکستان آئے تھے تو فینی اور کامران کے ساتھ ہمارے گھر کھانے پہ آئے تھے اور ان دونوں سے بڑی سیرحاصل گفتگو ہوئی تھی۔ سحینا جب ہندوستان گئی تھی تو دہلی میں وجے اور ترپتا نے اسے کھانے پہ مدعو کیا تھا۔ ان کی گفتگو میں سادگی، علم کی گہرائی اور فکری دیانت نمایاں تھی۔
ممتاز مہر سندھی زبان وادب کا ایک معتبر نام تھے۔ وہ ادیب بھی تھے، صحافی بھی اور دانشور بھی۔ سندھ کی تاریخ، ثقافت اور سماجی زندگی پر ان کی گہری نظر تھی۔ ان کی تحریروں میں اپنی دھرتی سے محبت بھی تھی اور عام انسان کے دکھ درد کا احساس بھی۔ ان کا تعلق اس روایت سے تھا جس میں لکھنے والا اپنی زمین اور اپنے لوگوں سے جڑا رہتا ہے۔
اس نشست میں ان شخصیات سے وابستہ اہل علم اور رفقاء جن میں پروفیسر ریاض احمد شیخ، چوہدری شوکت، خادم منگی، کلیم درانی، ڈاکٹر ہما غفار، پروفیسر سجاد لغاری اور ہندوستان سے سبرا منیم شامل تھے۔ ان سب نے اپنی یادیں اور تاثرات پیش کیے۔
ان میں سے بعض نے ان کے ساتھ وقت گزارا تھا جب کہ بعض نے ملاقاتوں اور علمی تعلق کی بنیاد پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ پروگرام میں ہونے والی گفتگو میں مجموعی طور پر یاد اور وابستگی کے مختلف رنگ شامل تھے۔
رضا کاظم کی دونوں صاحبزادیاں اس تقریب میں موجود تھیں۔ ان میں سے نور زہرہ نے مختصر مگر نہایت خوبصورت گفتگو کی۔ ان کے لہجے میں باپ کی یاد بھی تھی اور اس فکری ورثے پر فخر بھی۔ ان کی گفتگو سن کر یہ احساس مزید گہرا ہوا کہ بعض شخصیات اپنے کام اور اپنی اولاد کے ذریعے زندہ رہتی ہیں۔
پروفیسر وجے سنگھ کی اہلیہ ترپتا واہی نے بھی نہایت محبت کے ساتھ اپنے تاثرات پیش کیے۔ انھوں نے بتایا کہ ان کے خاندان کا تعلق لاہور سے تھا اور ان کی پیدائش لاہور ہی کی تھی جب کہ پروفیسر وجے سنگھ کا خاندان راولپنڈی سے تعلق رکھتا تھا اور ان کی جائے پیدائش پنڈی تھی۔
بعدازاں تقسیمِ ہند کے بعد ان خاندانوں کو ہجرت کا تلخ تجربہ بھی درپیش رہا جو برصغیر کے لاکھوں خاندانوں کی مشترکہ تاریخی یاد کا حصہ ہے۔ ان کی گفتگو میں یہ احساس نمایاں تھا کہ شہر شناخت اور یادیں وقت اور ہجرت کے باوجود انسان کے ساتھ سفر کرتی رہتی ہیں۔
شیما کرمانی نے ہمیشہ کی طرح نہایت جامع انداز میں اظہار خیال کیا۔ انھوں نے فن ثقافت اور سماجی شعور کے باہمی تعلق پر بات کرتے ہوئے یاد دلایا کہ رضا کاظم اور وجے سنگھ دونوں کا فنون لطیفہ اور ثقافتی سرگرمیوں سے گہرا تعلق تھا۔ آرٹ صرف تفریح نہیں بلکہ ایک سماجی قوت بھی ہے جو انسانوں کو قریب لاتی ہے۔
پروگرام کی نظامت کامران عباس نے کی۔ انھوں نے یادوں کے دھاگوں کو ایک مربوط سلسلے میں پرو دیا۔ اس نوعیت کی تقریب میں نظامت محض نام پکارنے کا عمل نہیں ہوتی بلکہ ایک فکری فضاء کو برقرار رکھنے کی ذمے داری بھی ہوتی ہے اور یہ ذمے داری انھوں نے خوش اسلوبی سے نبھائی۔
تقریب اپنے اختتام کو پہنچی تو دل ایک عجیب سی کیفیت سے دوچار تھا۔ دکھ بھی تھا کہ ہمارے بہت سے دوست اب ہمارے درمیان نہیں رہے مگر ایک سکون بھی تھا کہ ان کی یادیں، ان کے خیالات اور ان کی خدمات ابھی تک لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔
آخر میں ارتقاء انسٹیٹیوٹ آف سوشل سائنسز کے لیے دل سے تحسین کے چند الفاظ کہنا چاہوں گی۔ ایسے زمانے میں جب زندہ لوگوں کو بھی جلد فراموش کر دیا جاتا ہے، ان شخصیات کو یاد کرنا جو ہمارے درمیان نہیں رہیں، ایک نہایت اہم روایت ہے۔ یہ روایت ہمیں اپنی فکری، ثقافتی اور انسانی تاریخ سے جوڑتی ہے۔ رضا کاظم وجے سنگھ اور ممتاز مہر اب ہمارے درمیان نہیں ہیں مگر ان کی محبتیں اور ان کے خیالات زندہ ہیں۔
ارتقاء انسٹیٹیوٹ اور انجمن ترقی پسند مصنفین اس بات کے مستحق ہیں کہ انھیں اس باوقار تقریب کے انعقاد پر بھرپور سراہا جائے۔