بجٹ کی آمد آمد ہے، وفاقی بجٹ دس جون کو پیش کیا جائے گا، بجٹ کے حوالے سے مختلف قسم کی خبریں آ رہی ہیں، کون سے شعبے پر ٹیکس لگے گا، کسے رعایت ملے گی، صنعت کاروں اور تاجروں کی آراء بھی سامنے آ رہی ہیں جب کہ عوامی رائے کو بھی میڈیا میں جگہ مل رہی ہے۔
اسی دوران وفاقی حکومت نے چھوٹے تاجروں کے لیے فکس ٹیکس اسکیم متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے۔ اسکیم کا اطلاق ایسے دکانداروں پر ہوگا جن کا سالانہ ٹرن اوور20کروڑ روپے یا اس سے کم ہوگا، دکاندار اپنی مرضی سے موجودہ ٹیکس نظام میں بھی رہ سکیں گے۔
اگلے روز وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کیا ہے، اس میں بتایا گیا ہے کہ وفاقی حکومت ٹیکس نظام میں وسعت لانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے اور ٹیکس کی شرح بڑھانے کے بجائے اسے کم کرنے پر توجہ دی جا رہی ہے تاکہ موجودہ ٹیکس دہندگان پر بوجھ کم کیا جا سکے۔
چھوٹے دکانداروں پر ٹیکس اسکیم کے تحت دکاندار اپنی آمدنی پرایک فیصد انکم ٹیکس دیں گے، اگر کسی دکاندار نے ودہولڈنگ ٹیکس دیا ہوا ہے تو وہ اسے ایڈجسٹ کرا سکیں گے لیکن شرط یہ ہوگی کہ ریٹرن فائل کرتے وقت کم ازکم 25 ہزار روپے ٹیکس کیش کی صورت میں ضرورجمع کرائیں گے۔
اس کے لیے ایک صفحے کا فارم اردو اور علاقائی زبانوں میں تیارکیا گیا ہے،جسے سادہ موبائل ایپ کے ذریعے ارسال کیا جاسکے گا۔ یہ اسکیم مالی سال 2026 سے نافذ ہوگی جب کہ ٹائر سپلائرز، ہول سیلرز، ڈسٹری بیوٹرز، مینوفیکچررز، درآمدکنندگان، وکلا اور ڈاکٹرز اس کے دائرہ کار میں شامل نہیں ہوں گے۔
اسکیم میں شامل تاجروں کو پوائنٹ آف سیل مشینیں نصب کرنے اور ڈیجیٹل انوائس جاری کرنے کی شرط سے بھی استثنیٰ دیا گیا ہے۔ حکومت کو اسکیم سے سالانہ 50 ارب روپے ریونیوحاصل ہونے کی توقع ہے۔
بظاہر یہ اقدام بہتر نظر آتا ہے لیکن اس میں کون کون سے نقائص ہیں یا پھر کہاں کہاں پیچیدگیاں حائل ہیں، اس کے بارے میں اس وقت پتہ چلے گا جب اس اسکیم پر عملدرآمد کا آغاز ہو جائے گا۔
بظاہر تو یہ اسکیم اچھی نظر آتی ہے لیکن پاکستان کے بیوروکریٹک کلچر اور سرکاری ملازمین کی روایتی ’’فائل روکو اور سائل کو تنگ کرو‘‘ پالیسی کو مدنظر رکھا جائے تو صورت حال مختلف نظر آتی ہے۔
بہرحال وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے یہ کہا کہ گزشتہ سال سیلاب اور مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورت حال کے باوجود ملکی معیشت مستحکم رہی اور حکومت نے مختلف چیلنجز کا مقابلہ اپنے وسائل سے کیا، کسی بیرونی مدد کی ضرورت پیش نہیں آئی۔
اب اس میں کس حد تک صداقت ہے، اس کے بارے میں تو اعداد وشمار سامنے آئیں تو پتہ چلتا ہے کہ کس کس ملک نے سیلاب زدگان کی مدد کی ہے اور کن غیرسرکاری انجمنوں نے وہاں کام کیا ہے البتہ وفاقی وزیر خزانہ نے یہ ضرور تسلیم کیا ہے کہ ملک میں ایک منصفانہ اور مؤثر ٹیکس نظام کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ پاکستان کا ٹیکس نظام خاصا پیچیدہ اور بیوروکریسی فرینڈلی ہے۔ افسرشاہی کو وسیع اختیارات تو دیئے گئے ہیں لیکن ان پر جوابدہی کا نظام انتہائی کمزور ہے۔ ٹیکس اکٹھا کرنے والے سرکاری افسروں اور اہلکاروں کے غیرقانونی اور بے ضابطہ کاموں پر فوری چیک رکھنے کا میکنزم موجود نہیں ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ٹیکس کے اہداف پورے نہیں ہوتے۔ ٹیکس دہندگان بھی اسی لیے گھبراتے ہیں کہ انھیں پتہ ہے کہ اگر انھوں نے کسی افسر یا اہلکار کے خلاف کوئی کارروائی کی کوشش کی تو اس کا نتیجہ اچھا نہیں نکلے گا۔ وفاقی حکومت کو اس حوالے سے ضرور کوئی میکنزم بنانا چاہیے۔
فکس ٹیکس اسکیم کے حوالے سے وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی نے پریس کانفرنس کے دوران بتایا ہے کہ فکس ٹیکس اسکیم تاجروں کی مشاورت سے تیار کی گئی ہے،اسکیم میں شامل دکانداروں کو ایف بی آر کی جانب سے خصوصی شناختی پلیٹ جاری کی جائے گی، جس پر دکان کا نام، این ٹی این اور ٹیکس سے متعلق معلومات درج ہوں گی۔ پلیٹ پر موجود کیو آر کوڈ کے ذریعے ایف بی آر انسپکٹر تصدیق کرے گا اور کیو آر کوڈ سکین کیے بغیر کسی انسپکٹر کو دکان میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوگی۔
انھوں نے مزید کہا کہ اسکیم میں شامل دکانداروں کو عمومی آڈٹ سے استثنیٰ حاصل ہوگا جب کہ کسی خصوصی آڈٹ سے قبل تاجر تنظیموں سے مشاورت کی جائے گی۔ آڈٹ معاملات کے لیے ایک باقاعدہ کمیٹی بھی قائم کی جائے گی۔
وزیرمملکت کا کہنا تھا کہ ملک میں 30سے 40 لاکھ چھوٹے دکاندار موجود ہیں اور انھیں ٹیکس نیٹ میں لانا ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔انھوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تاجروں کے ساتھ مل کر اس اسکیم کو کامیاب بنایا جائے گا۔
انھوں نے کہا یہ سہولت موجودہ فائلرز کے لیے بھی دستیاب ہوگی بشرطیکہ ان کا سالانہ ٹرن اوور گزشتہ تین سال میں کسی بھی ایک سال میں 20 کروڑ روپے سے زائد نہ ہو اور وہ کم از کم پچھلے سال کے برابر ٹیکس ادا کر رہے ہوں۔
انھوں نے کہا کہ جو دکاندار نہ اس اسکیم میں شامل ہوں گے اور نہ ہی ٹیکس فائل کریں گے ان پر پہلے ماہ 10 ہزار روپے، دوسرے ماہ 25 ہزار روپے اور تیسرے ماہ 50 ہزار روپے ماہانہ جرمانہ عائد کیا جائے گا۔
اس اسکیم کے حوالے سے ابھی تک کم سے کم آمدنی کے حوالے سے کوئی بات سامنے نہیں آئی ہے۔ دیکھنا یہ ہو گا کہ جن دکانداروں کی آمدنی چند لاکھ روپے ہے، ان کا کیا ہو گا؟ ٹیکس سے استثنیٰ کی سطح کیا ہے؟
بہرحال آل پاکستان انجمن تاجران اور مرکزی تنظیم تاجران پاکستان نے حکومت کی نئی فکسڈ ٹیکس اسکیم کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے خوش آئند قرار دے دیا ہے۔ تاجر تنظیموں کے عہدیداروں نے حکومت کی جانب سے متعارف کروائی گئی ٹیکس اسکیم پر رد عمل جاری کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ٹیکس آسان اسکیم متعارف کرائی ہے، پہلی بار حکومت کی معاشی ٹیم نے ایف بی آر سے نکل کر یہ اسکیم بنائی ہے۔
تاجر رہنماؤں کا کہنا تھا کہ ہم ہر حکومت سے جھگڑا کرتے تھے آسان ٹیکس فارم دیا جائے، اتنی پیچیدہ فارم پڑھا لکھا شخص بھی نہیں فل کرسکتا تھا، پہلی بار حکومت کی معاشی ٹیم نے ایف بی آر سے نکل کر یہ اسکیم بنائی، تاجر ٹیکس دینا چاہتے ہیں پہلی مرتبہ پانچ زبانوں میں فارم بنایا گیا ہے۔
تاجر ٹرن اوور پر ایک فیصد ٹیکس دیں گے،اس اسکیم کے تحت گوشوارہ بھرنے والے کی دکان پر ایف بی آر کا نمایندہ نہیں جائے گا۔ تاجروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ 27قسم کے ٹیکسز دینے کے باوجود الزام تھا کہ ریٹیلر ٹیکس نیٹ میں نہیں ہے، چھوٹا تاجر ایف بی آرکی وجہ سے گوشوارے جمع کرانے سے گھبراتاتھا، اب چھوٹے تاجروں کے لیے ٹیکس گوشوارہ پر کرناآسان ہو گا۔
تاجر نمایندوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ حکومت اور اداروں کے ساتھ اس حوالے سے کئی اجلاس ہوئے،ہم نے بارہا مطالبہ کیا کہ آسان اور سادہ ٹیکس گوشوارہ لایاجائے، دکاندار سے 25 ہزار روپے ٹیکس لیا جائے گا،اب تمام چھوٹے تاجر گوشوارے جمع کرائیں گے حکومت باعزت طریقے سے تاجروں سے ٹیکس وصول کرے گی تو اعتماد بڑھے گا۔
ٹیکس کا نظام جتنا بہتر ہو گا، بیوروکریسی پر جتنا زیادہ چیک رکھا جائے گا، ٹیکس دہندگان کا اعتماد اتنا ہی زیادہ بڑھتا چلا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ وفاقی اور صوبائی حکومتوں اور تمام پارلیمنٹیرینز کی یہ بنیادی ذمے داری ہے کہ وہ ٹیکس سسٹم کو کھنگالیں اور چیک کریں کہ ٹیکس استثنیٰ کن کاروباروں پر ہے یا وہ کون سے ایسے سیکٹر ہیں جہاں بے جا قسم کی ٹیکس رعایتیں دی گئی ہیں۔
یہ رعایتیں ختم ہونی چاہئیں کیونکہ ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ آئی ایم ایف کے ٹیکسوں میں دی جانے والی چھوٹ اور رعایت ختم کرنے کے مطالبے پرآئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں اسٹیشنری پر جی ایس ٹی میں 8 فیصد اضافے کی تجویز زیر غور ہے۔
اگر ایسا ہوتا ہے تو کاپیاں، رجسٹر، قلم، پنسل، سیاہی وغیرہ مہنگا ہونے کا خدشہ ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اسٹیشنری وغیرہ پر جاری رعایتیں ختم کرنے کے بجائے ان کاروباروں اور سیکٹرز پر ٹیکس عائد کرے جو بظاہر فلاح عامہ کا لبادہ اوڑھے ہوئے ہیں۔
اس کے علاوہ مختلف قسم کے رفاعی وخیراتی اداروں اور ٹرسٹ وغیرہ کے آڈٹ کا نظام بھی سخت کرے اور ان اداروں کے مالیاتی حجم کو قومی اسمبلی میں بحث کے لیے پیش کیا جائے تاکہ پتہ چل سکے کہ ایسے اداروں اور ٹرسٹ وغیرہ نے ٹیکس استثنیٰ سے کتنی مالیت کا فائدہ اٹھایا ہے۔
ادھر حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں فی لیٹر 4 روپے کمی جب کہ ڈیزل کی قیمت برقرار رکھنے کا اعلان کردیا۔ پیٹرولیم ڈویژن نے اگلے ایک ہفتے کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔
اصولی طور پر وفاقی حکومت کو پٹرولیم مصنوعات اور توانائی کے دیگر ذرائع کے نرخ مقرر کرنے کا ایسا میکنزم تیار کرنا چاہیے جس کے ذریعے توانائی کی قیمتیں کم از کم ایک سال کے لیے مقرر کی جائیں۔ اس طریقے سے ملک کی معیشت میں استحکام آئے گا اور عوام کو بہتر انداز میں ریلیف فراہم کیا جا سکے گا۔