کیا ڈیجیٹل دور کتابوں کو شکست دے رہا ہے؟ لاہور کے اتوار کتب بازار کی دلچسپ کہانی

مال روڈ اور انارکلی کے قریب سجنے والا یہ بازار کتب بینی کی ثقافت کو زندہ رکھنے کی ایک خاموش کوشش ہے


آصف محمود June 08, 2026

لاہور:

مال روڈ اور انارکلی کے قریب ہر اتوار کو سجنے والا پرانی کتابوں کا بازار صرف خرید و فروخت کی جگہ نہیں بلکہ لاہور کی علمی اور ثقافتی تاریخ کا ایک زندہ باب ہے۔

تاہم ڈیجیٹل دور کی تیز رفتار تبدیلیوں نے اس بازار کی رونقوں کو بھی متاثر کیا ہے۔ موبائل فون، ٹیبلیٹ اور انٹرنیٹ نے جہاں علم تک رسائی کو آسان بنایا ہے، وہیں کتابوں سے جڑی کئی روایات خاموشی سے ماند پڑتی جا رہی ہیں۔

کبھی لاہور کے محلوں، گلیوں اور بازاروں میں قائم چھوٹی چھوٹی لائبریریاں علم کے متلاشیوں کے لیے پناہ گاہ ہوا کرتی تھیں۔ اسکول اور کالج کے طلبہ شام کے اوقات میں وہاں بیٹھ کر کتابیں پڑھتے، اخبارات کا مطالعہ کرتے اور علمی مباحث میں حصہ لیتے تھے۔

وقت کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی نے زندگی کے تقریباً ہر شعبے کو بدل دیا۔ آج معلومات کے حصول کے لیے ایک موبائل فون کافی سمجھا جاتا ہے، جس نے کتاب اور لائبریری کے روایتی تصور کو چیلنج کیا ہے۔

لاہور کا اتوار کتب  بازار برسوں سے نایاب ناولوں، درسی کتابوں، تاریخی دستاویزات اور ادبی شاہکاروں کا مرکز رہا ہے۔ یہاں آنے والے بزرگ آج بھی ماضی کی یادوں میں کھو جاتے ہیں جب فٹ پاتھوں پر کتابوں کے ڈھیر لگے ہوتے تھے اور خریداروں کا رش رہتا تھا۔

اب یہاں منظر پہلے جیسا نہیں رہا۔ کئی کتاب فروش بتاتے ہیں کہ گزشتہ چند برسوں میں خریداروں کی تعداد نمایاں طور پر کم ہوئی ہے۔

یہاں پرانی کتابوں کے زرد صفحات، نایاب ایڈیشن اور گمنام مصنفین کی تحریریں اب بھی ایسے قارئین کا انتظار کرتی ہیں جو الفاظ سے دوستی نبھانا جانتے ہیں۔  اگرچہ وقت بدل چکا ہے اور علم تک رسائی کے ذرائع پہلے سے کہیں زیادہ وسیع ہو گئے ہیں، لیکن کتاب کی اہمیت ختم نہیں ہوئی۔

 گزشتہ 30 سال سے یہاں کتابیں فروخت کرنےو الے عمیر اکبر کہتے ہیں کہ مہنگائی نے بھی کتابوں کی فروخت کو متاثر کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ لوگ اب اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے میں مصروف ہیں، اس لیے کتاب خریدنا بہت سے خاندانوں کے لیے ترجیح نہیں رہا۔

وہ کہتے ہیں کہ حکومت کو کتب بینی کے فروغ کے لیے خصوصی پروگرام شروع کرنے چاہییں جبکہ والدین اور اساتذہ کو بھی بچوں میں مطالعے کی عادت پیدا کرنے کے لیے کردار ادا کرنا ہوگا۔

بازار میں کتابیں دیکھنے آئے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کے طالب علم احمد رضا کا کہنا ہے کہ آن لائن مواد آسانی سے دستیاب ہے لیکن امتحانات کی تیاری کے لیے کتاب اب بھی سب سے قابل اعتماد ذریعہ ہے۔ پرانی کتابوں کے بازار سے کم قیمت پر معیاری کتب مل جاتی ہیں جو طلبہ کے لیے بڑی سہولت ہے۔

ایک اور خریدار، نجی ادارے میں ملازمت کرنے والی مریم فاطمہ کہتی ہیں کہ وہ بچپن سے ناول پڑھنے کی شوقین ہیں۔ ان کے مطابق موبائل فون پر مطالعہ جلد تھکا دیتا ہے جبکہ کتاب ہاتھ میں لے کر پڑھنے کا اپنا ہی لطف ہے۔ وہ ہر ماہ کم از کم چند کتابیں ضرور خریدتی ہیں تاکہ مطالعے کی عادت برقرار رہے۔

بازار میں موجود ریٹائرڈ استاد پروفیسر سجاد حسین کے مطابق کتاب انسان کو صرف معلومات نہیں دیتی بلکہ سوچنے کا سلیقہ بھی سکھاتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ نوجوان نسل میں مطالعے کی عادت کم ہونے سے تنقیدی سوچ اور زبان پر گرفت بھی متاثر ہو رہی ہے۔

تعلیم کے شعبے سے وابستہ محمد عثمان کہتے ہیں کہ کسی بھی معاشرے کی فکری ترقی کا تعلق مطالعے کی ثقافت سے ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کتابیں انسان میں تجسس، سوال کرنے کی صلاحیت اور گہری سوچ پیدا کرتی ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر دستیاب مختصر مواد اکثر سطحی معلومات تک محدود رہتا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ مسلسل اسکرین کے استعمال سے نوجوانوں کی توجہ منتشر ہو رہی ہے۔ کتاب کا مطالعہ ذہنی ارتکاز اور تجزیاتی صلاحیتوں کو بہتر بناتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی ترقی یافتہ اقوام آج بھی لائبریریوں اور کتابوں پر سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔

نفسیات کی طالبہ خدیجہ آصف کے مطابق مطالعہ ذہنی دباؤ کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ کتاب پڑھنے والا فرد کچھ دیر کے لیے روزمرہ کی مصروفیات سے نکل کر ایک الگ دنیا میں داخل ہو جاتا ہے، جس سے ذہنی سکون اور مثبت سوچ کو فروغ ملتا ہے۔

ادبی نقاد اور مصنف کیپٹن (ر) ڈاکٹر خالد پرویز کا کہنا ہے کہ کتابیں کسی قوم کی اجتماعی یادداشت ہوتی ہیں۔ اگر مطالعے کی روایت کمزور پڑ جائے تو معاشرے کا فکری اور ثقافتی رشتہ بھی متاثر ہوتا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اسکولوں، کالجوں اور جامعات میں کتب بینی کے فروغ کے لیے خصوصی سرگرمیوں کی ضرورت ہے۔

ہر اتوار مال روڈ اور انارکلی کے قریب سجنے والا یہ بازار دراصل کتب بینی کی ثقافت کو زندہ رکھنے کی ایک خاموش کوشش ہے۔

ڈیجیٹل دور کے تیز بہاؤ میں یہ فٹ پاتھ آج بھی اس حقیقت کی یاد دلاتے ہیں کہ اسکرین پر پڑھے جانے والے الفاظ اور ہاتھ میں تھامی ہوئی کتاب کے درمیان ایک ایسا جذباتی اور فکری رشتہ موجود ہے جسے ٹیکنالوجی مکمل طور پر تبدیل نہیں کر سکی۔

کتابوں کی خوشبو شاید پہلے جیسی تیز نہ رہی ہو، لیکن اس کی کشش اب بھی ان لوگوں کے دلوں میں زندہ ہے جو علم کو صرف معلومات نہیں بلکہ ایک تجربہ سمجھتے ہیں۔