انمول پنکی کیخلاف ہائی پروفائل قتل کیس کی تفتیش میں سنگین غفلت سامنے آگئی

محکمہ پراسیکیوشن نے تفتیش میں ہونے والی سنگین غفلت خود ہی بے نقاب کی


ناصر بٹ June 08, 2026

منشیات کے ایک ہائی پروفائل قتل کیس کی تفتیش پر سنگین سوالات اٹھ گئے ہیں، ڈرگ ڈیلر انمول عرف پنکی کیخلاف مقدمہ قتل میں پولیس تفتیش کی متعدد خامیاں خود محکمہ پراسیکیوشن نے بے نقاب کر دی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق انمول عرف پنکی کیخلاف قتل کے مقدمے میں عبوری چالان کی اسکروٹنی  ڈپٹی ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر عارف سیتائی نے کی۔

ڈپٹی ڈسٹرکٹ پراسیکیوٹر عارف ستائی کے مطابق بغیر کسی جواز کے ایف آئی آر کے اندراج میں تقریباً 30 دنوں کی تاخیر کی گئی، عبوری چالان جمع کرانے میں بھی 12 دن کی تاخیر کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ تفتیشی افسرنے لاپتا افراد کے ریکارڈ کی جانچ پڑتال نہیں کی، متوفی کی شناخت کے لیے لاپتا افراد کی معلومات اکٹھی کرنے میں ناکام رہا ہے۔ تفتیشی افسر ڈیجیٹل اور الیکٹرانک شواہد کو محفوظ کرنے میں ناکام رہے جبکہ جائے وقوعہ اور گرد و نواح سے سی سی ٹی وی فوٹیج جمع کرنے یا اسے محفوظ کرنے میں غفلت برتی۔

پراسیکیوشن نے کہا کہ یہ ثبوت ثابت کرنے کے لیے انتہائی اہم تھا کہ آیا متوفی کا موت سے قبل ملزمہ یا منشیات کے دیگر ڈیلروں کے ساتھ کوئی رابطہ تھا یا نہیں؟ چشم دید گواہوں کو تلاش کرنے یا ان کے بیانات ریکارڈ کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔

ایسے گواہ جنہوں نے مقتول کو منشیات خریدتے ہوئے یا ملزمہ اور اس کے کارندوں کے ساتھ ملتے ہوئے دیکھا ہو۔

محکمہ پراسیکیوشن نے اپنی رائے اور سفارشات کیں ہیں کہ تفتیش نامکمل ہے، یہ انتہائی ضروری ہے کہ مزید شواہد اکٹھے کیئے جائیں، مدعی کا بیان  ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت عدالت میں ریکارڈ کرایا جائے۔

ڈپٹی ڈسٹرکٹ پراسیکیوٹر عارف ستائی کے مطابق تفتیش مکمل ہونے اور فارنزک لیبارٹری کی رپورٹس کے بعد حتمی چالان  پیش کردیا جائے گا۔

دوسری جانب انمول عرف پنکی کے وکیل راحیل الدین ایڈووکیٹ نے ایکسپریس سے گفتگو میں کہا کہ آئے منشیات استعمال کرنے والوں کی نعشیں ملتی ہیں، جو بنا شناخت کے رضا کار ادارے لے جاتے ہیں اور تدفین کردیتے ہیں، شاذ و نادر کسی کی کوئی فیملی ملتی ہے، لیکن یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ ایک نشئی جس کی کوئی شناخت نہیں ہے اور مقدمے میں بھی نسئی لکھا ہے اس کی موت کا ذمہ دار میری موکلہ کیسے؟؟؟

انہوں نے کہا کہ مدعی مقدمہ کو کیسے خیال آیا کہ وہ لاش کے ہمراہ تھانے پہنچا، کس قانون کے تحت متوقی کو اسپتال کے بجائے تھامے کیجائا گیا۔ کوئی پنچ نامہ نہیں ہے، مدعی کے بیان پر تفتیشی افسر کا بیان نہیں ہے۔ ریکارڈ موجود نہیں ہے مقدمہ قتل کے گواہ موجود نہیں ہیں۔ ناجانے چار لائنوں کا مقدمہ کیسے درج کرلیا گیا اک موٹر مکینک کے کہنے پر، ویسے تو مقدمہ درج کرانے کے لیے عام آدمی کو پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔

وکیل صفائی نے کہا کہ مقدمے کے ٹرائل میں سامنے آئے گا کہ عجلت میں درج کیئے گئے مقدمے کے کیا محرکات ہیں۔ وکیل صفائی اسد اللہ جدون نے بتایا کہ ان ملاقات انمول عرف پنکی سے جیل میں ہوئی۔ ملاقات میں ان کی موکلہ نے بتایا کہ ان پر تشدد کیا جاتا ہے بہت ہی ناروا سلوک کیا جارہا ہے جبکہ ان کی حالت ٹھیک نہیں۔

انہوں نے کہا کہ میڈیا سے معلوم ہوا کہ کڈنی کا ایشو ہے جس کی تصدیق ان کی موکلہ نے ملاقات کے دوران کی اور بتایا پیشاب میں خون آرہا ہے لیکن اس کو طبی سہولیات ویسے فراہم نہیں کی جارہی بہت جلد عدالت میں اس حوالے درخواست دائر کرینگے اور استدعا کی جائیگی کہ بہتر طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔