حماس کی بڑی کامیابی؛ اسرائیل غزہ میں ابو سالم اور رفح کراسنگ کھولنے پر مجبور

اسرائیل اور امریکا کے ایران پر حملوں کے بعد رفح کراسنگ بند کردی تھی اور امدادی سامان کی غزہ میں ترسیل رک گئی تھی


ویب ڈیسک June 08, 2026
اسرائیل نے تین ماہ محدود پیمانے پت رفح کراسنگ کھول دی

اسرائیل نے بالآخر غزہ میں کرم ابو سالم اور رفح راہداری کھولنے کا اعلان کردیا جس کے بعد اس کراسنگ سے امدادی سامان اور محدود آمدورفت بھی بحال ہوگئی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ رفح کراسنگ کو ابتدائی مرحلے میں صرف محدود نقل و حرکت کے لیے کھولا جائے گا، جبکہ غزہ میں امدادی سامان کی ترسیل کرم ابو سالم کراسنگ کے ذریعے مرحلہ وار بحال کی جائے گی۔

اسرائیلی حکام کا مزید کہنا ہے کہ کرم ابو سالم اور رفح راہداری سے یہ تمام سرگرمیاں سخت سیکیورٹی نگرانی اور پیشگی منظوری کے نظام کے تحت ہوں گی۔ بغیر اجازت کسی کو آنے یا جانے نہیں دیا جائے گا۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ آمدورفت صرف ان افراد تک محدود ہوگی جنہیں سیکیورٹی کلیئرنس حاصل ہوگی، جبکہ طبی مریضوں، غیر ملکی شہریت رکھنے والوں اور خصوصی انسانی بنیادوں پر سفر کرنے والوں کو ترجیح دی جا سکتی ہے۔

خیال رہے کہ یہ فیصلہ کئی ماہ کی بندش اور شدید انسانی المیے کے بعد سامنے آیا ہے جب کہ امدادی سامان سرحد پر ٹرکوں میں پڑا سڑ رہا ہے اور غزہ میں فلسطینی بھوک اور بیماری سے اپنی جانیں گنوا رہے تھے۔

رفح کراسنگ غزہ اور مصر کے درمیان واحد براہِ راست زمینی رابطہ ہے جو گزشتہ کئی ماہ سے عملی طور پر بند تھی جس کی نگرانی میں مصر، اسرائیل اور بین الاقوامی فریقین بھی کردار ادا کریں گے۔

دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیموں اور امدادی اداروں نے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں خوراک، ادویات اور دیگر بنیادی ضروریات کی شدید قلت پائی جاتی ہے لہٰذا سرحدی گزرگاہوں کا کھلنا لاکھوں فلسطینیوں کے لیے ریلیف کا باعث بن سکتا ہے۔

تاہم انہوں نے خبردار کیا ہے کہ محدود پیمانے پر کھولے جانے والے راستے غزہ کی تمام انسانی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی نہیں ہوں گے۔ 

واضح رہے کہ اسرائیل نے مارچ میں ایران پر امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی کارروائیوں کے بعد غزہ کی سرحدی گزرگاہیں بند کر دی تھیں جس سے امدادی سامان کی فراہمی اور شہریوں کی نقل و حرکت بری طرح متاثر ہوئی تھی۔