شہر قائد میں ریڈ زون کے علاقے میں سندھ اسمبلی کے قریب نامعلوم ملزمان موبائل فون کے تاجر سے 40 لاکھ روپے سے زائد مالیتی کے 55 قیمتی موبائل فونز چھین کر فرار ہوگئے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق کراچی موبائل اینڈ الیکٹرانک ڈیلرز ایسوسی ایشن کے صدر منہاج گلفام نے انکشاف کیا کہ سندھ اسمبلی کے قریب ملزمان تاجر سے 40 لاکھ روپے مالیت کے 55 قیمتی موبائل چھین کر فرار ہوگئے۔
منہاج گلفام کے ویڈیو پیغام اور واردات پر کراچی پولیس چیف آزاد خان نے سندھ اسمبلی کے قریب موبائل کے تاجر کے ساتھ ہونے والی ڈکیتی کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا سے تفصیلی رپورٹ طلب کرلی۔
کراچی پولیس چیف نے واردات میں ملوث ملزمان کی فوری گرفتاری اور چھینے جانے والے موبائل فونز کی برآمدگی کی ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے تمام دستیاب وسائل کو بروئے کار لایا جائے، شہریوں کی جان و مال کا تحفظ کراچی پولیس کی اولین ترجیح ہے اور ایسے جرائم میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
قبل ازیں دوسری جانب کراچی موبائل اینڈ الیکٹرانک ڈیلرز ایسوسی ایشن (کمیڈا) کے صدر منہاج گلفام نے شہر کے اہم ترین علاقے ریڈ زون سندھ اسمبلی کے قریب سے موبائل فون کے تاجر سے 40 لاکھ روپے سے زائد مالیت کے 55 موبائل فونز چھین جانے کی واردات کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔
انھوں نے کراچی پولیس چیف آزاد خان سے مطالبہ کیا ہے کہ واردات میں ملوث ملزمان کو گرفتار چھینے گئے لاکھوں روپے مالیت کے موبائل فون برآمد کرائے جائیں۔
دوسری جانب وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے موبائل مارکیٹ میں ڈکیتی کی واردات کا نوٹس لیتے ہوئے ایس ایس پی ساؤتھ سے فوری رپورٹ طلب کر لی۔ انہوں نے کہا کہ تاجر برادری کو تحفظ فراہم کرنا پولیس کی اولین ذمہ داری ہے۔
ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے سی سی ٹی وی فوٹیج اور جدید تکنیکی وسائل بروئے کار لائے جائیں، واردات میں ملوث عناصر کو جلد گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ تاجروں اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مارکیٹوں اور تجارتی مراکز کے اطراف سیکیورٹی مزید مؤثر بنائی جائے۔ وزیر داخلہ نے صدر اور دیگر کاروباری علاقوں میں پولیس گشت بڑھانے اور مؤثر نگرانی کے احکامات جاری کردیے۔