ماہر تعلیم، پروفیسر انیتا غلام علی

نسرین اختر  اتوار 24 اگست 2014
علم کا روشن ستارہ ڈوب گیا    فوٹو : فائل

علم کا روشن ستارہ ڈوب گیا فوٹو : فائل

ممتاز دانش ور اور ماہر تعلیم پروفیسر انیتا غلام علی تعلیم کے میدان میں گراں قدر کارہائے نمایاں انجام دینے کے بعد جمعہ 8 اگست 2014 کو اپنے خالق حقیقی سے جا ملیں۔

پروفیسر انیتا غلام علی 2 اکتوبر 1934 کو کراچی میں پیدا ہوئیں ان کے والد کا نام جسٹس فیروز نانا تھا۔ ابتدائی تعلیم سینٹ جوزف کانونٹ اسکول ’’پنج گنی‘‘ (مہاراشٹر، بھارت) اور سینٹ لارنس کانونٹ اسکول، کراچی سے حاصل کی۔ 1957 میں ڈی جے سائنس کالج سے بی ایس سی اور 1960 میں کراچی یونی ورسٹی سے ایم ایس سی (مائیکرو بیالوجی) سیکنڈ پوزیشن سے کیا۔

زمانۂ طالب علمی میں وہ نہ صرف مختلف طلبہ تنظیموں سے منسلک رہیں، بل کہ کالج اور یونی ورسٹی کی ٹیبل ٹینس، بیڈ منٹن اور نیٹ بال ٹیموں کی چیمپئن بھی رہیں۔ اس کے علاوہ انیتاغلام علی 1955 میں ٹوکیو میں ہونے والے ورلڈ یونی ورسٹی سروس سیمینار میں پاکستانی طلبہ کے وفد کی نمائندگی کرنے والی واحد ایشیائی طالبہ تھیں۔

پروفیسر انیتا غلام علی کی والدہ شیریں بیگم، شمس العلماء مرزا قلیچ ببیگ کی نواسی تھیں۔ مرزا قلیچ بیگ کا خاندان تین پشت پہلے جارجیا (روس) سے ایران کے راستے ہجرت کرکے حیدرآباد سندھ میں آکر آباد ہوا۔ یہ لوگ جارجین کرسچین تھے۔ نقل مکانی کے دوران انھوں نے آٹھ دس سال ایران میں قیام کیا۔

وہیں اسلام قبول کیا اور نام تبدیل کیے۔ پھر وہ ایران سے ہوتے ہوئے حیدرآباد سے ذرا باہر ایک گاؤں ’’ٹنڈو ٹھوڑو‘‘ میں آکر آباد ہوئے۔ اس گاؤں کے لوگ اب تک مرزا یا گُرجی کہلاتے ہیں۔ انیتا غلام علی کے نانا نادر بیگ مرزا، مرزا قلیچ بیگ کے سب سے بڑے صاحب زادے تھے۔ مرزا قلیچ بیگ کی تین بیویوں سے اکیس بچے تھے، جن میں لڑکیاں صرف دو تھیں اور دونوں ہی شاعرات تھیں۔ وہ دونوں مرثیے لکھا کرتی تھیں اور فارسی، عربی روانی سے بولتی تھیں۔

ان میں بڑی بیٹی یعنی انیتا غلام علی کی والدہ کی بڑی پھوپھو فخر النساء بیگم نے تو فارسی شاعری کے علاوہ سندھی اور اردو میں بھی بہت کچھ لکھا۔ انیتا غلام علی کے دادا خان بہادر نور الدین احمد غلام علی محکمہ تعلیمات میں تھے۔ وہ اپنی ملازمت کے سلسلے میں برصغیر کے کونے کونے میں تعینات ہوئے۔ راج کوٹ کے راج کمار کالج کے پرنسپل بنے، حیدرآباد کے ٹریننگ کالج کے پرنسپل رہے، جب وہ حکومت ہند کے شعبۂ تعلیم سے ریٹائر ہوئے تو انھیں چیف آفیسر وارسک کا عہدہ دے کر کراچی میں تعینات کردیا گیا۔ انیتا غلام علی کے دادا سندھ مدرسہ بورڈ کے ممبر تھے۔

اس بورڈ میں ہاشم گزدر، پیرالٰہی بخش، سر غلام حسین، ہدایت اﷲ اور ڈاکٹر داؤد پوتا بھی شامل تھے اور انہی کی کوششوں سے سندھ مدرسہ بورڈ کے تحت تقسیم سے قبل نو ادارے کھولے گئے، جن میں ایس ایم سائنس، ایس ایم آرٹس کالج کامرس کالج اور ایس ایم بی فاطمہ جناح کالج وغیرہ شامل ہیں۔ انیتا غلام علی کو اپنے آباواجداد اور والدین پر فخر رہا۔

انیتا غلام علی خاندان کی پہلی بیٹی تھیں۔ ان کی پیدائش پر ان کے دادا نے بے تحاشا خوشیاں منائیں۔ انھوں نے اپنے نام کے ساتھ اپنے دادا کا نام غلام علی کا اضافہ کیا۔ ان کا بچپن بہت ہی شان دار، دل کش اور بھرپور تھا۔ بچپن میں خوب شرارتیں کیں، تعلیم کی طرف ان کی توجہ ابتدا میں بہت کم رہی، بعدازاں کالج پہنچنے پر انھوں نے تعلیم کی طرف بھرپور توجہ دی اور کام یاب رہیں۔ زمانۂ طالب علمی میں 1953 سے آواز کی دنیا میں داخل ہوئیں اور ریڈیو اسٹیشن جاکر آڈیشن دیا، پاس ہوئیں اور باقاعدہ ریڈیو سے منسلک ہوگئیں۔

وہ نیوز کاسٹر کی حیثیت سے ریڈیو سے منسلک ہوئیں۔ 1960 سے 1972 تک ریڈیو پاکستان سے انگریزی میں قومی خبریں پڑھتی رہیں۔ ریڈیو کے بیس، بائیس سالہ عرصے کے دوران انھوں نے کالج، یونی ورسٹی سے پڑھا، ملازمت کی اور ساتھ ساتھ ریڈیو کے پروگرام کو بھی جاری رکھا۔ ریڈیو پر ابتدا اناؤنسمنٹ سے کی پھر چھوٹی موٹی کمنٹری شروع کی جو دراصل خبروں ہی کا ایک حصہ ہوتی تھی، جس میں سیاسی واقعات کا خلاصہ پیش کیا جاتا تھا۔

انیتا غلام علی تقریباً دو گھنٹے روزانہ ریڈیو کو دیتی تھیں۔ وہ بحیثیت اسٹاف آرٹسٹ کام کررہی تھیں۔ آغاز میں انھیں 80 روپے ماہوار ملا کرتے تھے اور جب ریڈیو کو خیر باد کہا تو ان کی تنخواہ 1100 روپے تھی۔ 1973 میں انھوں نے ریڈیو چھوڑدیا، کیوں کہ خبریں اسلام آباد سے ہونے لگی تھیں۔ انھوں نے بہ طور براڈکاسٹر بھرپور دور گزارا۔

پروفیسر انیتا غلام علی نے عملی زندگی کا آغاز 1961 سے سندھ مسلم سائنس کالج میں درس و تدریس سے کیا اور ساتھ ہی 1961 سے 1983 تک پاکستان کالج ٹیچرز ایسوسی ایشن سے سرگرم کارکن، نائب صدر اور صدر کی حیثیت سے بھی منسلک رہیں۔ وہ کالجوں کو قومیائے جانے کی تحریک کا حصہ بھی رہیں۔ 1980 میں اقوام متحدہ کی کانفرنس میں پاکستانی وفد کی ڈپٹی لیڈر تھیں۔

یونیسکو کے لیے تعلیم کی سفیر بنیں اور دنیا کی واحد خاتون تھیں جو انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (I.L.O) اور یونیسکو کی جوائنٹ کمیٹی آف ایکسپرٹس کے ساتھ رکن اور صدر کی حیثیت سے منسلک رہیں۔ 1983 میں سندھ ٹیچرز فاؤنڈیشن کی منیجنگ ڈائریکٹر بنیں۔ 1990 میں سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن قائم ہوا توا انیتا غلام علی اس کی منیجنگ ڈائریکٹر مقرر ہوئیں۔ 1992 میں وہ اپنی سرکاری ملازمت سے ریٹائر ہوئیں اور رواں سال جنوری تک مسلسل سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کی منیجنگ ڈائریکٹر کے طور پر کام کرتی رہیں۔

سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن (SEF) کے تحت انھوں نے فروغ علم کے لیے جہاں اور بہت سے اقدامات کیے ان میں ایک اہم پروگرام Adopt A School بھی تھا، جس کے تحت کراچی میں مختلف لوگوں نے تقریباً 120 اسکولوں کی دیکھ بھال کا ذمہ لیا۔ SEF کے ا غراض و مقاصد میں چار باتیں شامل تھیں:

(1) تعلیمی سہولتوں کو وسعت دینے کے لیے ضروری اقدامات کرنا۔

(2) پس ماندہ یا محروم توجہ علاقوں میں تعلیمی ادارے قائم کرنے کے لیے منصوبے تیار کرنا، یا ان منصوبوں کی تیاری میں حصہ لینا۔

(3) ایسے تعلیمی ادارے جو غیرتجارتی بنیادوں پر قائم کیے جارہے ہوں، کے لیے زمین کی خرید، عمارت کی تعمیر، فرنیچر، آلات، کتابوں، تعلیمی ساز و سمان اور اسٹیشنری وغیرہ کی خریداری پر مجموعی طور پر ایک تہائی حصہ نرم شرائط پر بطور مالی اعانت مہیا کرنا۔

(4) ایسے تعلیمی اداروں کو اپنے فنڈز میں سے غیر سودی قرضے فراہم کرنا یا شیڈولڈ بینکوں کے قرضے حاصل کرنے میں ان کی مدد کرنا۔

انیتا غلام علی ایک فعال رکن کی حیثیت سے کام کرتی رہیں۔ انھیں دو مرتبہ سندھ کی وزیر تعلیم رہنے کا بھی اعزاز حاصل ہوا۔ نگراں حکومت میں تعلیم و ثقافت، سائنس و ٹیکنالوجی، نوجوان اور کھیل کی صوبائی وزیر رہیں۔ انیتا غلام علی کو لازمی پرائمری تعلیم کے سلسلے میں 2000 میں سینیگال میں منعقدہ ڈکار کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی اور اس کی دستاویزات پر دستخط کرنے کا اعزاز بھی حاصل ہوا۔ وہ سندھ کی سابق وزیر تعلیم کے علاوہ سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کی بانی منیجنگ ڈائریکٹر بھی تھیں۔ انھیں سابق صدر پرویز مشرف کے ابتدائی دور میں سندھ کا صوبائی وزیرتعلیم مقرر کیا گیا تھا۔

انیتا غلام علی کی فروغ تعلیم اور اساتذہ کے حقوق، سندھ کی ثقافت، تہذیب و تمدن کے لیے خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ ان کی اعلیٰ تعلیمی خدمات کے اعتراف میں انھیں تمغہ حسن کارکردگی، ستارہ امتیاز اور بے نظیر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ بے شمار اعزازات اور اسناد سے بھی نوازی گئیں۔

اس کے علاوہ انھوں نے متعدد ملکی اور بین الاقوامی کانفرنسوں، بالخصوص اقوام متحدہ کے زیراہتمام تعلیم اور خواتین سے متعلق کانفرنسوں میں پاکستان کی نمائندگی کی۔ نیز تعلیمی اور معاشرتی مسائل پر سیکڑوں مضامین، مقالات اور تحقیقی رپورٹیں بھی لکھیں۔ پروفیسر ام سلمیٰ زمن نے انیتا غلام علی کے دس پندرہ مضامین کو کتابی صورت اور اردو ترجمہ کرکے ’’دکھتی رگ‘‘ کے عنوان سے شائع کیا۔

یہ بات کم ہی لوگ جانتے ہیں کہ انیتا غلام علی کو گَدھوں سے خاص لگاؤ تھا اور وہ ان کی تصاویر اپنے کیمرے میں محفوظ کرلیا کرتی تھیں۔ انھوں نے اپنی 80 سالہ زندگی بھرپور انداز میں گزاری، وہ بہت سادہ مزاج اور سادہ لباس تھیں۔ زندگی بھر ایک ہی طرز کے چائنیز کالر اور لمبی آستینوں کی قمیص اور سادہ شلوار پر مشتمل لباس کو ترجیح دی۔

بلاشبہ پروفیسر انیتا غلام علی کی زندگی ہمہ جہتی، رنگا رنگ، بھرپور اور بیک وقت سادگی اور جدوجہد کا بہترین نمونہ تھی۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔