ڈاکٹر مصدق کی یاد آئی پہلاحصہ

ڈاکٹر مصدق جیسا عالم فاضل، قانون داں، دانشور، دانش مند سیاستدان ایران کی سرزمین نے پھر نہیں دیکھا ۔۔۔


Zahida Hina August 26, 2014
[email protected]

میری زندگی کا آغاز ان علمی، ادبی اور سیاسی گفتگوئوں اور مباحثوںکی گونج میں ہوا جو ہمارے گھر میں صبح سے شام اور رات تک جاری رہتیں ۔ والد اور ان کے فاضل دوست، والدہ جو پردے کے پیچھے سے کچھ سوال کرلیتیں اور کبھی اپنی رائے کااظہار بھی کرتیں ۔ ڈاکٹرمصدق اور اس کے بعد نہرسوئز پر ہونے والی جنگ ، جمال ناصر اور ٹیٹو کے نام ان ہی دنوں کان میں پڑے ۔ ڈاکٹر مصدق کے المناک انجام نے کئی دن دل گرفتہ رکھا ، لیکن شاہِ ایران کے کروفر اور ملکہ ثریا اسفندیاری کے حسنِ جہاں سوز نے دل پر مرہم رکھا ۔

وقت گزرا، بین الاقوامی معاملات اور عالمی سیاست سے دلچسپی شروع ہوئی تو مصدق کا المیہ سمجھ میں آنے لگا ۔ اب جب کہ ڈاکٹرمصدق کی ایران کے منظرنامے سے گمشدگی کو 60برس گذرچکے ہیں ، ان دنوں اُن کی یاد بہت شدت سے آئی ۔ یہ ایران کا وہ قوم پرست اور محب وطن وزیراعظم تھا جو عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوا تھا اور جس نے اپنے غریبوں کی زندگی سہل بنانے کے لیے سر توڑ کوشش کی لیکن اس سے ایک بھیانک جرم سرزد ہوگیا تھا جس کی سزا میں اسے درسِ عبرت بنادیا گیا ۔

ڈاکٹر مصدق جیسا عالم فاضل، قانون داں، دانشور، دانش مند سیاستدان ایران کی سرزمین نے پھر نہیں دیکھا اور سچ تو یہ ہے کہ گزشتہ 68برس میں ہمارے یہاں بھی کوئی ایسا دانشور، کوئی ایسا عبقری سیاستدان پیدا نہیں ہوا ۔ ڈاکٹرمصدق جب منتخب ہوکر ایران کی پارلیمنٹ میں پہنچا تو اپنی کامیابی کا جشن منانے کے بجائے وہ زمینی اصلاحات ، ایرانی کسانوں اور مزدوروں کی حالت بہتر بنانے میں مصروف ہوگیا ۔ ایران تیل کی دولت سے مالا مال ایک ملک تھا لیکن اس کے لوگ غریب ہی نہیں غریب ترین تھے۔ حکمران اشرافیہ اس وقت کی عظیم عالمی طاقت برطانیہ کے سامنے سرفگندہ رہتی ۔ ایرانی تیل پر 1913سے برطانوی قبضہ تھا۔

اینگلو پرشین آئل کمپنی ہرسال کروڑوں پونڈ اسٹرلنگ کماتی تھی لیکن ایرانی کسانوں کے پیر میں ٹوٹی ہوئی جوتیاں بھی نہیں ہوتی تھیں۔ ڈاکٹر مصدق کا تعلق ایران کی حکمران اشرافیہ سے تھا ۔ اس کی ماں شاہ قاچار کے خاندان سے تھی۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وہ ایرانی عوام کی طرف نظر بھر کر بھی نہیں دیکھتا لیکن وہ ایک سچا قوم پرست تھا ۔ اس کے لیے یہ بات ناقابل برداشت تھی کہ برطانیہ کی اینگلو پرشین آئل کمپنی ایرانیوں کے وسائل کی ایک ایک بوند نچوڑ لے ۔ اس نے آئل کمپنی سے رائلٹی میں اضافے کا مطالبہ کیا لیکن اسے مسترد کردیاگیا ۔

ایران کی قومی اسمبلی اور سینیٹ نے تیل کی صنعت کو قومیانے کے حق میں ووٹ دیا اور مصدق کو وزیراعظم منتخب کرلیا ۔ جس کے بعد اس نے تیل کی صنعت کو قومیا لیا اور یوں برطانیہ جو ایک معاہدے کے تحت 1993 تک ایرانی تیل کا مالک و مختار تھا ، وہ اس سیال سونے سے یکسر محروم ہوگیا ۔ یہ ایک ناقابل برداشت گستاخی تھی ۔ ملک کے حالات دگرگوں ہوئے اور رضاشاہ نے راہِ فرار اختیار کی ۔ برطانیہ اور امریکا نے ڈاکٹر مصدق سے نجات کی سازش تیار کی ، اس سازش میں برطانوی اور امریکی خفیہ ایجنسیاں شریک تھیں ۔ صدر ٹرومین اور ونسٹن چرچل کی آشیرباد اس سازش کو حاصل تھی ۔

اس صورت حال کا ڈاکٹرمصدق کو بہ خوبی اندازہ تھا۔ اس نے 26مئی 1951 کو تہران کے روزنامہ، اطلاعات کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ ''میں خبردار کرتا ہوں کہ موجودہ صورت حال پائیدار نہیں ہے کیونکہ انسانی صبر اور اس کی قوت برداشت کی ایک حد ہوتی ہے ۔ میں اس وقت سے ڈرتا ہوں جب تباہ حال لوگوں کی برداشت کا پیمانہ چھلک جائے ۔ صرف خدا ہی جانتا ہے کہ پھر مشرقِ قریب میں کیا خوفناک صورت حال ہوگی اور اس کے نتیجے میں ساری دنیا کن حالات کا سامنا کرے گی۔''

اس کے بعد ایران میں جو اتھل پتھل ہوئی ۔ برطانوی اور امریکی سازش نے کس طرح اپنا جال ڈاکٹر مصدق کے گرد بُنا ، اس کی تفصیل میں جانا اس مختصرکالم میں ممکن نہیں ۔ یوں سمجھ لیجیے کہ مصدق کے گرد گھیرا ڈالنے والوں پر پونڈ اسٹرلنگ اور ڈالر کی بارش ہوئی ۔مظاہروں اور جلوسوں کا اہتمام کیا گیا ۔ کل تک جولوگ ڈاکٹر مصدق کے حق میں نعرے لگاتے نہیں تھکتے تھے ۔ اب اسے 'غدار'، 'بدعنوان' اور 'برطانوی ایجنٹ' قرار دے رہے تھے ۔ آخر کار مصدق کو اس کے عہدے سے معزول کیا گیا اور بکے ہوئے افسروں نے اس کی اس قدر توہین کی کہ اس کی بیٹی خدیجہ سے یہ منظر برداشت نہ ہوسکا اور اس کا نروس بریک ڈائون ہوگیا ۔ پھر وہ کبھی ٹھیک نہ ہوسکی ۔

امریکی سیکرٹ سروس کی خفیہ فائلوں پر سے پابندی جب ہٹتی ہے تو کیا کیا کہانیاں سامنے آتی ہیں ۔ ڈاکٹر مصدق کے خلاف سازش کی فائلیں جب کھلیں تو معلوم ہوا کہ سی آئی اے نے 6000 سے زیادہ مظاہرین کو 'انقلاب' کے اسٹریٹ تھیٹر میں 'کام' کرنے کے لیے کتنے ڈالر دیے تھے۔ یہ خبر جب دوسروں کو پہنچی تو وہ بھی اس 'کارِثواب' میں شامل ہوگئے اور یوں مصدق کے خلاف کیسے شاندار جلوس نہ نکلے جو اس کی پھانسی کا مطالبہ کررہے تھے ۔ جس شخص سے نجات کا اسکرپٹ برطانوی اور امریکی خفیہ ایجنسیوں نے لکھا تھا، انھوں نے اس تھیٹر کی کامیابی کے بعد جنرل زاہدی کو 50لاکھ ڈالر دیے، 10لاکھ ڈالر بعد میں، 'جیب خرچ' کے طور پردیا گیا۔

یہ وہی جنرل زاہدی ہے جو مصدق کے بعد ایران کا وزیراعظم بنایا گیا اور ہاں شاہ کی جڑواں بہن شہزادی اشرف کا ذکر کیوں نہ کیا جائے جسے تحفے میں نہایت قیمتی 'منک کوٹ' اور جیب خرچ بھی دیا گیا تھا ۔ واقعی جب کسی ملک کی اشرافیہ میں بدعنوان اور دولت کی ہوس میں گرفتار لوگ ہوں ، غیرملکی طاقتوںکے ہاتھوں بکے ہوئے جرنیل اور پارلیمنٹ کے کچھ اراکین ہوں ۔ جیب خرچ لینے والے صحافی، اخباروں کے مدیر اور ناشر صبح شام جھوٹی خبروں کو پھیلانے پر کمربستہ ہوں ، حد تو یہ ہے کہ شاہ کی جڑواں بہن کو سمور کے قیمتی کوٹ کی خواہش ہو ، وہاں مصدق کے ساتھ وہی ہونا تھا جوہوا ۔

دسمبر1953میں ڈاکٹر مصدق پر مقدمہ چلا ۔ پھانسی کی سزا کی سفارش کی گئی جسے پھر 3 برس کی قید تنہائی سے بدل دیا گیا۔ اسے جب سزا سنائی گئی تو اس نے کہا۔

''اس عدالت نے مجھے جو سزا سنائی ہے، اس نے میری تاریخی شان میں اضافہ کیا ہے۔ میں آپ لوگوں کا ممنون ہوں کہ آپ نے مجھے سزا دی ۔'' عدالت نے جب اسے غدار قرار دیا تو اس نے کہا، ''ہاں میںنے گناہ کیا ہے۔ میرا بدترین گناہ یہ ہے کہ میں نے ایران کی تیل کی صنعت کو قومیانے کی جرأت کی اور دنیا کی سب سے بڑی شہنشاہی (برطانیہ) کے سیاسی اور معاشی استحصال کو مسترد کردیا ہے ۔''

اکتوبر2006 میں ایک ایرانی مصور رضا کریمی نے ایک روغنی تصویر بنائی جس کا نام 'جمہوریت کٹہرے میں' رکھا ہے۔ اس میں فوجی عدالت ہے جس میںبوڑھے، نحیف اور بیمار مصدق کو جمہوریت کا مقدمہ لڑتے ہوئے دکھایا ہے ۔ فوجیوں میں گھرا ہوا یہ بوڑھا شیر کی طرح دھاڑ رہا ہے اور اس کے سامنے بیٹھے ہوئے فوجی افسروں کی نگاہیں جھکی ہوئی ہیں ۔

ہمارے ایک بے مثال شاعر ن م راشد کے مجموعے 'ایران میں اجنبی' میں ہمیں ایک نظم 'تیل کے سوداگر' ملتی ہے جس میں اسی دور کی تصویر کشی کی گئی ہے ۔

بخارا سمرقند کو بھول جائو/اب اپنے د رخشندہ شہروں کی/طہران و مشہد کے سقف و دروبام کی فکر کرلو،/تم اپنے نئے دور ہوش و عمل کے دلآویز چشموں کو/اپنی نئی آرزوئوں کے ان خوبصورت کنایوں کو/محفوظ کر لو!/ان اونچے د رخشندہ شہروں کی / کوتہ فصیلوں کو مضبوط کر لو/ہر اک برج وبارو پر اپنے نگہباں چڑھادو،/گھروں میں ہوا کے سوا،/سب صداؤں کی شمعیں بجھادو!/کہ باہر فصیلوں کے نیچے/ کئی دن سے رہزن ہیں خیمہ فگن، /تیل کے بوڑھے سوداگروں کے لبادے پہن کر، /وہ کل رات یا آج کی رات کی تیرگی میں،/چلے آئیں گے بن کے مہماں /تمہارے گھروں میں، /وہ دعوت کی شب جام و مینا لنڈھائیں گے/ ناچیں گے، گائیں گے،/ بے ساختہ قہقہوں ہمہموں سے/ وہ گرمائیں گے خون محفل!/ مگر پَوپھٹے گی /تو پلکوں سے کھودو گے خود اپنے مُردوں کی قبریں/ بساطِ ضیافت کی خاکستر سوختہ کے کنارے / بہائو گے آنسو!

ایران کی سیاست اور ریاست پر ایک اہم کتاب لکھنے والے شہرت یافتہ ادیب اورصحافی ریشاد کا پوشنسکی نے ڈاکٹر مصدق کے بارے میں لکھا ہے کہ کیا آپ اس بات پر یقین کرسکتے ہیں کہ پچیس سال تک ایران میں اس کا نام برسرِ عام لینے پر پابندی تھی؟ کہ 'مصدق' نام کو تمام کتابوں سے، ساری ایرانی تاریخ سے نکال دیا گیا تھا؟ اور ذرا سوچیے: آج نو عمر لوگ، جن کے بارے میں فرض کیا گیا تھا کہ انھیں اُس کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں، اُس کی بڑی بڑی تصویریں ہاتھوں میں اٹھائے اپنی موت کا سامنا کرتے ہیں۔

اس سے آپ کو اس بات کا ثبوت مل سکتا ہے کہ تاریخ سے کسی کو نکالنا اور تاریخ کو از سرِ نو تحریر کرنا کن نتائج کا سبب بنتا ہے ۔ لیکن یہ بات شاہ کی سمجھ میں نہیں آئی ۔ وہ نہیں سمجھ سکا کہ آپ کسی شخص کو مار ضرور سکتے ہیں، لیکن مار دینے سے اس کا وجود ختم نہیں ہوتا ۔ بلکہ اس کے برعکس، میں تو کہوں گا کہ اس کا وجود اور زیادہ بلند قامت ہوجاتا ہے۔

(جاری ہے...)

مقبول خبریں