سیاسی تبدیلی کا خدشہ حصص مارکیٹ میں بڑے پیمانے پر فروخت مزید 275 پوائنٹس کمی

انڈیکس بیک وقت 3 حدیں گنوا کر 28243 پوائنٹس پر بند، 330 میں سے 239 کمپنیوں کے بھاؤ میں کمی


Business Reporter August 27, 2014
سرمایہ کاروں کو مزید 64 ارب 42 کروڑ کا نقصان، کاروباری حجم 7 فیصد نیچے، 7 کروڑ 64 لاکھ حصص کے سودے۔ فوٹو: پی پی آئی/فائل

سیاسی کشیدگی بڑھنے اور کسی بھی وقت سیاست میں تبدیلی کے خطرات کے پیش نظر حصص کی وسیع پیمانے پر آف لوڈنگ بڑھنے سے کراچی اسٹاک ایکس چینج میں منگل کو بھی مندی کے بادل چھائے رہے جس سے انڈیکس کی28500 ،28400 اور28300 پوائنٹس کی 3 حدیں بیک وقت گرگئیں، 72.42 فیصد حصص کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی جبکہ سرمایہ کاروں کے مزید 64 ارب 42 کروڑ 4 لاکھ 68 ہزار 479 روپے ڈوب گئے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ دھرنوں سے تجارتی وصنعتی سرگرمیاں متاثر ہونے اور مقامی سیمنٹ ساز کمپنی کی سائوتھ افریقہ ایکسپورٹ پر اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹی نافذ ہونے جیسے عوامل نے مارکیٹ میں مندی کو غالب کیا، ٹریڈنگ کے دوران مقامی کمپنیوں، بینکوں ومالیاتی اداروں اور این بی ایف سیز کی جانب سے مجموعی طور پر 31 لاکھ 58 ہزار 567 ڈالر مالیت کی تازہ سرمایہ کاری کی گئی جبکہ اس دوران غیرملکیوں کی جانب سے8 لاکھ 72 ہزار 129 ڈالر، میوچل فنڈز کی جانب سے8 لاکھ 98 ہزار 475 ڈالر، انفرادی سرمایہ کاروں کی جانب سے10 لاکھ 1 ہزار 985 ڈالر اور دیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے 3 لاکھ 85 ہزار 979 ڈالر مالیت کے سرمائے کا انخلا کیا گیا جس سے مندی کے اثرات غالب ہوئے۔

کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 275.75 پوائنٹس کی کمی سے28243.59 ہوگیا جبکہ کے ایس ای 30 انڈیکس 182.59 پوائنٹس کی کمی سے19697.56 اور کے ایم آئی 30 انڈیکس 415 پوائنٹس کی کمی سے 46025.60 ہوگیا، کاروباری حجم پیر کی نسبت 7.39 فیصد کم رہا اور مجموعی طور پر 7 کروڑ 64 لاکھ 19 ہزار 480 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار 330 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں 73 کے بھاؤ میں اضافہ، 239 کے دام میں کمی اور 18 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔