لاپتہ افراد اور اقوام متحدہ

خفیہ ایجنسیوں کے اہلکار خفیہ آپریشن کا سہارا لے کر انسانی حقوق کی پامالی کے مرتکب ہوتے ہیں


Dr Tauseef Ahmed Khan September 26, 2012
[email protected]

KARACHI: ملک میں سیاسی کارکنوں کے لاپتہ ہونے اور ان کی مسخ شدہ لاشیں ملنے کا سلسلہ اتنا بڑھا ہے کہ انسانی حقوق کے عالمی اداروں کو اس کا نوٹس لینا پڑا۔

اس ہی بنا پر اقوام متحدہ کے لاپتہ ہونے والے افراد کے معاملات کی تحقیقات کرنے والے ورکنگ گروپ نے پاکستان کا دورہ کیا۔

یہ مشن دو افراد پر مشتمل تھا۔ اس مشن کی آمد پر ذرایع ابلاغ میں اس کے خلاف مہم چلائی گئی۔ صدر، وزیراعظم، چیف آف آرمی اسٹاف، خفیہ عسکری اور سول ایجنسیوں کے سربراہوں نے مشن کے وفد سے ملاقات کرنے سے انکار کیا۔

اس مشن کے ارکان سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عزت مآب افتخار چوہدری سے ملنے کے خواہشمند تھے مگر چیف جسٹس نے لاپتہ افراد کا مقدمہ زیر سماعت ہونے کی بنا پر وفد سے ملاقات نہیں کی۔

اس مشن کی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر، سیاسی رہنمائوں، انسانی حقوق کی تنظیموں کے کارکنوں سے ملاقاتیں ہوئیں۔ وفد نے ملک کے مختلف شہروں کا دورہ کیا اور اپنی ابتدائی رپورٹ پیش کی۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر خفیہ ایجنسیوں کو شہریوں کو گرفتار کرنے، ان سے تفتیش کرنے کے لیے مزید اختیارات دیے گئے تو ملک میں انسانی حقوق کے حوالے سے صورتحال مزید خراب ہوجائے گی۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خفیہ ایجنسیوں کے اہلکار خفیہ آپریشن کا سہارا لے کر انسانی حقوق کی پامالی کے مرتکب ہوتے ہیں۔ مشن نے اس نکتے کو بھی اپنی رپورٹ میں خاص طور پر شامل کیا ہے کہ پاکستان میں عسکری فورس کے اہلکاروں کے خلاف سول عدالتوں میں مقدمات نہیں چلتے۔

مشن کا کہنا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی اور سیاسی تشدد کے ماحول میں انسانی حقوق کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں اور خاص طور پر خفیہ تحقیقاتی ایجنسیوں کا احتساب کرنا ضروری ہے۔

اقوام متحدہ کے اس تحقیقاتی مشن کے سربراہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ حکومت کے اقدامات کے باوجود شہریوں کے لاپتہ ہونے کے واقعات مسلسل رپورٹ ہورہے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شہریوں کو لاپتہ کرنے کے معاملے کو ایک مربوط جرم قرار دینے کی ضرورت ہے اور لاپتہ افراد کے لواحقین کی مدد کے لیے سماجی پروگرام Social Assistance Programmes شروع ہونے چاہئیں۔

مشن نے اپنی رپورٹ میں تحریر کیا ہے کہ بلوچستان میں لاپتہ افراد کا معاملہ انتہائی خطرناک ہے۔ کمیشن کے سامنے مختلف لوگوں نے 1400 افراد کے لاپتہ ہو نے کا ذکر کیا مگر حکومت نے 100 سے کم افراد کے لاپتہ ہونے کا اقرار کیا۔

کمیشن کو پورے ملک میں 500 لاپتہ افراد کے مقدمات کے بارے میں حقائق ملے ہیں۔ مشن نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ لواحقین کو اپنے لاپتہ رشتے داروں کے بارے میں تمام حقائق جاننے کاحق ہے۔ مشن کا کہنا ہے کہ اگرچہ پاکستان کو دہشت گردی کی بدترین صورتحال کا سامنا ہے۔

اس صورتحال کے باوجود شہریوں کو اغوا کرنے کے بھیانک جرم کی اجازت نہیں دی جاسکتی، اس لیے اس جرم میں ملوث افراد کو قانون کے مطابق سزا دینے کا طریقہ کار واضح اور شفاف ہونا چاہیے اور یہ طریقہ کار اقوام متحدہ کے 2006 کے Convention for Protection of all Persons against forced disappearances کے مطابق ہونا چاہیے۔

پاکستان میں شہریوں کے لاپتہ ہونے کا سلسلہ اس صدی کے آغاز سے بلوچستان سے ہوا۔ خفیہ عسکری ایجنسیوں نے مری قبیلے کے کچھ افراد کو کوئٹہ سے اغوا کیا، انھیں بعض اطلاعات کے مطابق کوئٹہ قلی کیمپ میں رکھا گیا۔

بلوچستان کے بعض منتخب اراکین نے افراد کی رہائی کے لیے کوشش کیں اور عسکری ایجنسیوں کے اہلکاروں سے رابطے کیے مگر ان افراد کو رہائی نہیں ملی۔ جیسے جیسے بلوچستان میں مری اور بگٹی قبائل کے خلاف آپریشن ہوتا گیا اغوا ہونے والے سیاسی کارکنوں کی تعداد بڑھتی گئی۔ پورے بلوچستان اور کراچی کے بلوچ کارکن اغوا ہونے لگے۔

ان میں مختلف سیاسی جماعتوں کے علاوہ بلوچستان کے نوجوانوں کی تنظیم بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن BSO کی ایک بڑی تعداد بھی شامل تھی، ان میں سے کچھ کارکن ایک دوسال بعد رہا ہوئے۔

جب نائن الیون کا سانحہ ہوا تو ملک میں دہشت گردی کے خلاف امریکا اور پاکستانی خفیہ ایجنسیوں کے نیٹ ورک کے یہ آپریشن شروع ہوئے یوں جہادی تنظیموں سے تعلق رکھنے والے افراد کے لاپتہ ہونے ایک نیا سلسلہ شروع ہوا۔

جب جنرل پرویزمشرف اور کراچی کے کور کمانڈر کی گاڑی پر حملوں کے علاوہ جی ایچ کیو اور دوسری فوجی تنصیبات کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا تو فوجی افسروں اور جوانوں سمیت بہت سے سویلین گرفتار ہوئے ان میں سے کچھ کا پتہ نہیں چل سکا۔

سپریم کورٹ کے حکم پر کچھ افراد بازیاب ہوئے اور عدالتوں نے دہشت گردی کے الزام میں گرفتار ملزمان کو بری کیا تو کچھ افراد جیلوں سے لاپتہ ہوگئے، ان میں سے کچھ افراد کی لاشیں برآمد ہوئیں۔ سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس کے تحت بہت سے افراد نے ایجنسیوں کے ٹارچر کیمپوں سے رہائی پائی۔

امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے اہلکار کچھ جہادی عناصر امریکی براعظم میں کیوبا کی سرزمین پر قائم کیمپ میں لے گئے۔ امریکی حکام نے کئی سال کی تحقیقات کے بعد کچھ لوگوں کو رہا کیا، اب بھی کئی پاکستانی امریکا کی جیلوں میں مقید ہیں۔

پیپلزپارٹی نے 2008 میں اقتدار سنبھالا تو لاپتہ ہونے والے سیاسی کارکنوں کی رہائی شروع ہوئی۔ اس وقت بلوچستان کے قوم پرست رہنما حاصل بزنجو نے بھی بعض لاپتہ افراد کے اپنے گھروں میں پہنچے کی تصدیق کی مگر جب بلوچستان میں دوسرے صوبوں سے آنے والے افراد کی ٹارگٹ کلنگ شروع ہوئی تو پھر اغوا ہونے والے سیاسی کارکنوں کی مسخ شدہ لاشیں ملنے کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوا۔

انسانی حقوق کمیشن HRCP کے اس سال کے وسط میں گمشدہ افراد کے معاملات کی تحقیقات کے لیے ایک فیکٹ فائنڈنگ مشن بلوچستان بھیجا تھا، اس مشن کی رپورٹ گزشتہ دنوں شایع ہوئی۔ اس رپورٹ میں 2000 سے اب تک لاپتہ ہوئے افراد کی تعداد کی فہرست شایع کی گئی ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق 2000 سے 2005 تک 13 افراد، 2006 میں 30 افراد، 2007 میں 17، 2008 میں 4، 2009 میں 40، 2010 میں 34 افراد، 2011 میں 40 افراد، 2012 میں 20 افراد، کل 1198 افراد کی فہرست شایع کی ہے۔ اس فہرست میں اغوا ہونے کی تاریخ بھی درج ہے اور جس ضلع سے مذکورہ شخص کو اغوا کیا گیا اس کا تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے۔

اس رپورٹ میں ان 57 سیاسی کارکنوں کے بارے میں تفصیلات درج ہیں جو مختلف وجوہات کی بنا پر لاپتہ ہوئے اور ان کی لاشیں ملیں۔ بلوچستان کے سیاسی کارکن سپریم کورٹ کی لاپتہ افراد کے بارے میں طویل سماعت پر مایوسی کا شکار ہیں، ان کارکنوں کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ، نیم عسکری ایجنسی، فرنٹیر کور کے سیاسی کارکنوں کے اغوا کے بارے میں حقائق سے آگاہ ہوچکی ہیں اور معزز عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا ہے کہ عدالت جن لاپتہ افراد کو عدالت میں طلب کرتی ہے ان کی لاشیں برآمد ہوتی ہیں مگر پھر بھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

اقوام متحدہ کے مشن کی رپورٹ میںلاپتہ ہونے والے افراد کے الزام کی تصدیق عالمی سطح پر پاکستان کا امیج خراب کررہی ہے۔ جب مشن کی اس رپورٹ پر اقوام متحدہ کے مختلف فورمز میں بحث ہوگی تو پاکستان کے لیے مشکلات بڑھ جائیں گی۔

مسلم لیگ ق کے رہنما رضا حیات ہراج اور جماعت الدعوۃ کی قیادت نے مشن کی آمد پر احتجاج کرتے ہوئے اس کو ملک توڑنے کے مترادف قرار دیا تھا مگر حکومت کی جانب سے لاپتہ ہونے والے افراد کی تعداد کی تصدیق ہونے اور عدالتوں کے اس بارے میں ریمارکس سے صورتحال تبدیل ہوگئی اور یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ خفیہ ایجنسیاں شہریوں کو لاپتہ کرنے کے واقعات میں ملوث ہیں۔

اب سوال ایک مہذب ملک کا ہے جہاں کا امن شہریوں کے بنیادی حقوق کا محافظ ہے۔ اب یہی فیصلہ کرنا ہے کہ ایک جمہوری ملک کے طور پر رہنا ہے تو پھر ملک میں انسانی حقوق کی صورتحال کو بہتر کرنا ہوگا۔

مشن کی یہ بات درست ہے کہ شہریوں کو لاپتہ کرنے کو سنگین جرم قرار دینا چاہیے اور تمام ایجنسیوں کو قانون کا پابند ہونا چاہیے اگر ریاستی اداروں نے غیر قانونی طریقہ کار اختیار کیا تو جمہوری نظام کمزور ہوگا اور ملک کا مستقبل خطرے میں پڑ جائے گا۔