وادی سون کے کیڈٹ کالج میں مستقبل کے سپہ سالار
میں طویل قامت بلند ہمت میجر خالد کو پیار کے ساتھ سلام کرتا ہوں جو یہاں مستقبل کے جرنیل اور سپہ سالار بنا رہا ہے
جب تک انگریز دنیا کی سپر پاور بن کر دنیا پر حکمرانی کرتے رہے تو ان کی مقبوضات میں شامل ہندوستان کا ایک کوہستانی علاقے بھی ان کی فوج کے لیے ایندھن کا کام دیتا رہا۔
یہ پنجاب کا شمالی علاقہ تھا اور میں اس کے جس حصے کا ذکر کرنے والا ہوں وہ اس وقت کے ضلع شاہ پور کا علاقہ وادی سون تھا۔
میں اسی علاقے میں پیدا ہوا اور میں نے زندگی میں پہلی بار اگر کسی سرکاری ملازم کو دیکھا تو وہ فوج کا سپاہی تھا۔
یہ لوگ سالانہ چھٹیوں پر گائوں آتے تو گھر والوں کے لیے کپڑے لے کر آتے، بچوں کے لیے کھلونے اور اہل محلہ کے لیے فوج کی گپ شپ۔
ان کی تنخواہیں اتنی کم ہوتی تھیں کہ یہ اپنے گائوں اور اہل و عیال کے ساتھ چھٹیوں کے یہ پر مسرت دن بس جوں توں کر کے گزار لیتے۔ سنتے ہیں کہ اٹھارہ روپے ماہوار کی تنخواہ پر اگر کوئی نوجوان فوج میں بھرتی ہو جاتا تھا تو گھر والوں کے ہاں مبارک باد دینے والوں کا تانتا بندھ جاتا تھا۔
نقد پیسہ ان کی زندگیوں میں نہیں تھا۔ گندم، باجرے اور مکئی کی فصل ہوتی اور بھیڑ بکری جس پر وہ زندگی بسر کر دیتے۔ سخت سردیوں میں اگر کوئی فوجی اپنا کمبل بوڑھے والد کو دے جاتا یا اپنا سویٹر کسی بھائی کو دے دیتا تو یہ ایک بہت بڑا تحفہ سمجھا جاتا تھا۔
اٹھارہ روپے ماہوار والے یہ سپاہی دور دراز کے ملکوں میں برطانوی فوج کے ساتھ جنگوں پر بھی جاتے، قید بھی ہو جاتے اور بعض اوقات لاپتہ بھی لیکن یہ سب ان کے گھر والوں کے لیے قابل برداشت ہوتا کیونکہ ان کی زندگی میں چند روپے مل جاتے اور وفات کے بعد پنشن اور وظیفہ بھی۔
غربت خون کے رشتوں پر پانی ڈال دیتی تھی۔ بیوہ پنشن پا کر آنسو پونچھ لیتی اور بزرگ اس پنشن کا کچھ حصہ لے کر صبر شکر کر لیتے۔
پوری وادی سون میں ایک ہائی اسکول تھا البتہ دیہات میں پرائمری اسکول موجود تھے جن کا پرائمری پاس نوجوان ان پڑھوں کے مقابلے میں آسانی کے ساتھ بھرتی ہو جاتا تھا۔
مجھے اپنے گائوں کا ادھیڑ عمر کا وہ شخص اب بھی یاد ہے جس کے پاس ایک لمبی سی ڈانگ ہوتی تھی، اس پر جگہ جگہ نشان بنے ہوئے ہوتے تھے، اس لمبی ڈانگ سے وہ نوجوانوں کے قد ناپتا تھا، چھاتی سینے کی پیمائش کے لیے اس کے پاس درزیوں والا فیتہ ہوتا تھا اور اسے گائوں کے ہر نوجوان کی بھرتی کی اہلیت کا علم ہوتا تھا۔
جب انگریز بھرتی کرتا تھا تو یہ گائوں کے جوانوں کو لے کر پہنچ جاتا، چند خوش نصیب بھرتی ہو جاتے لیکن سب سپاہی کافی نوکری کے بعد حوالدار بن جاتے اور جو صوبیداری کے منصب تک پہنچ جاتا وہ خود بخود ہی گائوں کا بڑا بن جاتا۔
ایسا کوئی نیا صوبیدار جب چھٹی آتا تو والد صاحب کے لیے کوئی تحفہ لے کر آتا جس سے پتہ چلتا کہ فلاں کا بیٹا فوجی افسر بن گیا ہے۔ ہمارے ہاں والد صاحب بیٹھک میں اسے عزت کے ساتھ بٹھاتے اور اس کے لیے چائے بھی آ جاتی تھی۔
دیہات کی زندگی اسی طرح سپاہیوں کے درمیان گزر رہی تھی کہ تعلیم میٹرک تک پہنچ گئی اور اکا دکا نوجوان لیفٹین بھرتی ہونے لگے اور جب کوئی میجر بن جاتا تو وہ گویا کسی دوسری دنیا کا باشندہ ہوتا۔
بعد میں کرنل اور بریگیڈیئر بھی دکھائی دینے لگے اور شاذ و نادر جرنیل بھی۔ معلوم ہوا فوج میں علاقائی اور ضلعی تعصب بہت ہے۔ ایک دن مجھے ائر مارشل اصغر خان نے بتایا کہ انگریز مقامی فوجیوں میں ایسے تعصبات جان بوجھ کر پیدا کرتے تھے اور جنگوں میں انھیں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے پر اکساتے ورنہ انگریز کے لیے کون جان دیتا۔
فوج کی یہ پرانی روایتی زندگی اب تک چلی آ رہی ہے۔ انگریز چلا گیا، فوج میں امریکی اسٹائل آ گیا، امریکی اسلحے اور دوسری فوجی ضروریات کے ساتھ لیکن علاقائی تعصبات اب تک دکھائی دیتے ہیں۔ مثلاً ایک دن میں نے ایک افسر کی زبانی سنا کہ وہ جرنیل اسی لیے نہ بن سکا کہ اس کے مقابلے میں فلاں فلاں ضلعے کے افسر تھے اور وہ اکیلا تھا۔
فوج کی یہ زندگی بہت بدل چکی ہے۔ ایک تو وہ فوج ہے جو مارشل لاء لگاتی ہے، یہ فوج نہیں ہے اور پرانے سکہ بند فوجی ایسے فوجیوں کو فوجی تسلیم نہیں کرتے لیکن فوج میں یہ امتیاز بھی اب ختم ہو رہا ہے۔ چار طویل مارشل لائوں کے بعد پرانے روایتی فوجی شکست کھا چکے ہیں، مر کھپ گئے ہیں یا ریٹائر ہو گئے ہیں۔
اب جب میں نے یہ دیکھا کہ میرے گائوں کی ایک پہاڑی پر ایک کیڈٹ کالج بن گیا ہے جو دور دور تک پھیلا ہوا ہے۔ خوشاب سکیسر روڈ پر میرے گائوں کھوڑہ میں کوہستان نمک کے علاقے میں یہ کیڈٹ کالج اس علاقے کے لوگوں کے لیے ناقابل یقین ہے۔ تین ہزار فٹ کی بلندی پر وادی سون یا سون سکیسر کے نام کے اس مقام کو اس فوج کے اعلیٰ افسروں کی تربیت گاہ بنا دیا گیا ہے۔
جس کے صرف سپاہی ہوا کرتے تھے۔ زمانہ بہت ہی بدل گیا ہے اور خوشاب ضلع بھی سپاہیوں کی جگہ اب افسر بھی پیدا کرے گا۔ میں نے اس کالج کو دیکھا، جنگل میں منگل دیکھ کر حیرت زدہ ہو کر اور اس کے بچوں کیڈٹس سے باتیں کیں جنہوں نے مجھے لاجواب بھی کر دیا۔ اس کالج میں خوبصورت رہائش ہے اور ان پہاڑیوں پر وہ تمام جدید سہولتیں موجود ہیں جو کسی بھی فوجی تربیت گاہ میں ہو سکتی ہیں۔
آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ بھی ایک اور پاکستان ملٹری اکیڈمی بن رہی ہے (PMA) ہم دشمنوں والی قوم ہیں۔ ہمیں فوج بھی چاہیے، وہ بھی جدید ترین فوج جو آج کی جنگی حکمت عملی کو اپنا سکے اور وطن عزیز کو دشمن کی جارحیت سے بچا سکے۔ ہم 1970 میں دشمن کی جارحیت کا مزا چکھ چکے ہیں۔
جب مجھے خبر ملی کہ میرا ایک بھتیجا میجر خالد کوئی ایسی حرکت کر رہا ہے تو میں نے اسے ایک فوجی کی حماقت سمجھا لیکن جب گزشتہ دنوں میں موٹر کار میں یہاں پہنچا اور ان پہاڑیوں پر گاڑی دوڑائی، پہاڑوں میں جدید تعمیرات دیکھیں، انتہائی چاک و چوبند طلبہ دیکھے۔
ان کے اساتذہ سے ملاقات ہوئی اور اس طرح ایک مختصر سی اس آمد پر مجھے یوں محسوس ہوا کہ ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے اور اس کی ایک مثال یہ کیڈٹ کالج خوشاب ہے۔ سون سکیسر کی نئی زندگی نئی تاریخ ان سپاہیوں کو خراج تحسین جو ایسے کسی فوجی تربیتی ادارے کا خواب بھی نہ دیکھ سکے۔ اور صرف اٹھارہ روپے ماہوار پر جوانی کو غیروں کے سپرد کر گئے۔
میں نے حیرت اور فخر کے ساتھ اس کالج کو دیکھا جہاں ہمارے محافظ تیار ہو رہے ہیں اور اس ادارے کے اساتذہ کو دیکھا جو ان پہاڑوں میں مستقبل کے سپاہیوں کے لیے نئی دنیا بسا رہے ہیں مگر افسوس کہ میں عمر کے اس حصے کو بہت دور پیچھے چھوڑ آیا ہوں جب میں بھی ان بچوں کے ہمراہ قوم کی یہ خدمت کر سکتا کہ کوئی اس کی طرف بری نظر سے نہ دیکھ سکے۔
میں طویل قامت بلند ہمت میجر خالد کو پیار کے ساتھ سلام کرتا ہوں جو یہاں مستقبل کے جرنیل اور سپہ سالار بنا رہا ہے۔