کپتان مصباح الحق کیلئے بھی خطرے کی گھنٹی بج گئی

کوچز کی بھرمار کے باوجود ٹیم کا ہر شعبہ بیکار


سلیم خالق August 31, 2014
کوچز کی بھرمار کے باوجود ٹیم کا ہر شعبہ بیکار۔ فوٹو : اے ایف پی

''مصباح الحق نے ٹرافی ہاتھوں میں تھامی اور کہنے لگے کہ میں اس ورلڈکپ کو اپنے ہم وطنوں کے نام کرتا ہوں، اسی کے ساتھ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا بھی فیصلہ کر لیا ہے۔''

ابھی ان کی یہ تقریر جاری تھی کہ اچانک میری آنکھ کھل گئی اور اس حقیقت کا احساس ہوا کہ دراصل میں خواب دیکھ رہا تھا، ویسے اب ٹیم کی جو کارکردگی ہو گئی ہے اسے مدنظر رکھتے ہوئے بڑی فتوحات کے صرف خواب ہی دیکھے جا سکتے ہیں، وہ سری لنکا جس کے پلیئرز کی ہمارے سامنے ٹانگیں کانپنے لگتی تھیں اسے سازگار کنڈیشنز میں مات دینا بھی محال ہو گیا، ٹاپ پوزیشنز پر غلط تقرریوں، دوستوں کو نوازنے اور سلیکشن میں غلطیوں نے ٹیم کو بے حد پیچھے پہنچا دیا۔

اب نوبت یہ آ گئی کہ ہم کوئی ایک میچ جیتنے پر ہی ایسے خوشیاں منانے لگتے ہیں جیسے کوئی معرکہ سر کر لیا ہو، ناقص کارکردگی کے سبب قوم بھی کھیل سے بددل ہوتی جا رہی ہے، میں خود کئی ایسے افراد کو جانتا ہوں جو سارا دن بیٹھ کر میچز دیکھا کرتے تھے مگر اب کرکٹ پر بات کرنا بھی پسند نہیں کرتے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود بھی ہوش کے ناخن نہیں لیے جا رہے اور سب کچھ ویسے ہی جاری ہے، جب تک بورڈ سخت ایکشن نہیں لیتا، کارکردگی میں بہتری کی توقعات وابستہ کرنا فضول ہو گا۔

دورۂ سری لنکا میں 15 رکنی قومی اسکواڈ کے ساتھ 10 افراد پر مشتمل بھاری بھر کم مینجمنٹ بھی گئی، سابق چیئرمین نجم سیٹھی کو معین خان کے سوا کوئی نظر ہی نہیں آتا تھا، ان کا بس چلتا تو کپتان بھی انہی کو بنا دیتے مگر اس عہدے پر انھوں نے اپنے ایک اور منظور نظر مصباح الحق کا تقرر کیا ہوا تھا، بورڈ کے ساتھ وابستہ ہوئے معین کو ایک سال سے زائد وقت ہوا ہوگا مگر اس دوران وہ کوچ، منیجر اور چیف سلیکٹر سمیت کئی اہم ذمے داریاں نبھا چکے، ان دنوں سابق ٹیسٹ وکٹ کیپر کے وزیٹنگ کارڈ پر چیف سلیکٹر اور منیجر کا عہدہ درج ہے۔

افسوس کہ وہ ٹیم میں بہتری نہیں لا سکے، کھلاڑیوں کے سینٹرل کنٹریکٹ میں صاف لکھا ہے کہ کوئی ٹورز میں سوشل میڈیا کا استعمال نہیں کرے گا مگر احمد شہزاد سمیت کئی کرکٹرز سری لنکا میں اپنی تمام مصروفیات کا تذکرہ کرتے رہے، جس دن مجھے علم ہوا کہ سعیداجمل بولنگ ایکشن کی جانچ کے لئے اگلے روز آسٹریلیا جا رہے ہیں اور ان کے ہوائی سفر کی ٹکٹ بھی دیکھ لی تو منیجر کو فون کر کے اس بارے میں پوچھا۔

ایسے میں انھوں نے جواب دیا کہ ''ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا تین، چار دن میں کچھ اندازہ ہوگا، اس سے علم ہوتا ہے کہ عام نوعیت کی باتیں بھی قومی راز کی طرح میڈیا سے چھپائی جاتی ہیں،معین خان اپنے دور کے ایک اچھے وکٹ کیپر بیٹسمین رہے مگر ان کی سب سے بڑی ناکامی یہی ہے کہ وہ ٹیم کے لئے کوئی وکٹ کیپر تلاش نہ کرسکے، ٹیسٹ اسکواڈ میں شامل سرفراز احمد بلاشبہ بیٹنگ میں بے حد بہتری لائے مگر کیپنگ میں اب غلطیاں زیادہ کرنے لگے ہیں، جس ٹیسٹ میں انھوں نے اولین سنچری بنائی اسی میں وکٹوں کے عقب میں کئی مواقع ضایع کیے، ون ڈے میں عمر اکمل بھی خاص متاثر نہیں کر رہے، مجھے تو ڈر ہے کہ کہیں اگلی سیریز کے لئے ان کے بھائی کامران کا دوبارہ بلاوا نہ آجائے۔

پاکستان میں اتنے ڈومیسٹک ایونٹس ہو رہے ہیں اس میں یقینا کئی وکٹ کیپرز بھی حصہ لیتے ہیں، اگر سلیکشن کمیٹی یہ سمجھتی ہے کہ ان میں سے کوئی بھی ٹیم کی نمائندگی کے قابل نہیں تو پھر ہمیں فرسٹ کلاس ایونٹس ختم کر دینے چاہئیں ان کا کوئی فائدہ نہیں ہے،اسی طرح اوپننگ کے شعبے میں مشکلات ختم نہیں ہو رہیں، دنیا کے اوپنرز سنچری پر بھی مطمئن نہیں ہوتے ہمارے احمد شہزاد ففٹی کے بعد ہی سمجھتے ہیں جیسے دنیا فتح کر لی ہو۔



ان کا رویہ اور انداز ڈان بریڈمین جیسا ہے مگر کارکردگی میں تسلسل نام کی کوئی چیز نہیں، اسی طرح آخری 2 ون ڈے میں شرجیل خان کو موقع ملا تو انھوں نے صرف 9 ہی رنز بنائے، 11 ون ڈے میچز میں وہ محض ایک نصف سنچری اور 194 رنز اسکور کر سکے ہیں، جب کسی اوپنر کی اوسط ہی 17 ہو تو اس ٹیم کے لوئر آرڈر سے کیا توقع رکھی جا سکتی ہے، ایشیا کپ میں ناکامی کے بعد شرجیل خان کی سلیکشن کا کیا جواز تھا؟ کیا ڈومیسٹک کرکٹ میں اور کوئی اوپنر نہیں تھا؟ اس سوال کا جواب تو سلیکٹرز ہی سے پوچھنا ہوگا، صاف ظاہر ہے کہ کسی اعلیٰ شخصیت کی سفارش ہی بیٹسمین کے کام آئی ہے۔

وقار یونس اپنے سابق دور کوچنگ کے دوران ''مین مینجمنٹ'' میں ناکام رہے، پلیئرز سے اختلافات کی وجہ سے انھیں قبل از وقت عہدہ چھوڑنا پڑا، اب لگتا ہے کہ وہ کوچنگ کی تکنیک بھی بھول چکے ہیں، ان کے پاس نئے آئیڈیاز کی شدید کمی نظر آئی، اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو ان کے لئے خود کو ماہانہ 14 لاکھ روپے تنخواہ اور دیگر مراعات کا حقدار ثابت کرنا دشوار ہو جائے گا، یہ درست ہے کہ انھوں نے حال ہی میں ذمے داری سنبھالی ہے لیکن وہ عظیم فاسٹ بولر تو رہے ہیں۔

حریف بیٹسمین ان کا سامنا کرنے سے کتراتے تھے، وقار کی آمد سے پیسرز کے کھیل میں تو کوئی بہتری نظر آنی چاہیے تھی مگر سب بے دانت کے شیر نظر آئے، پہلے ہمارے فاسٹ بولرز ایک اننگز میں ہی 6،7 وکٹیں اڑا دیا کرتے تھے، اب حالیہ ٹیسٹ سیریز میں جنید خان نے مجموعی طور پر 9 کھلاڑیوں کو پویلین بھیجا، اگر ایک اننگز کی 5وکٹیں ہٹا دیں تو باقی 3 میں انھوں نے 4 پلیئرز کو آؤٹ کیا، جب 5 وکٹیں پائیں تو حریف ٹیم کا اسکور 300 سے زائد ہو چکا تھا، ایسے میں کیا ان کا وسیم اکرم سے موازنے کا کوئی جواز ہے؟

سابق عظیم پیسر اگر ون ڈے سیریز میں 139 کی اوسط سے ایک وکٹ لیتے تو شرمندہ ہو کر فوراً ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیتے، جنید کو ایسا تو نہیں کرنا چاہیے مگر انھیںکارکردگی میں جلد بہتری لانا ہوگی، ساتھی بولر وہاب ریاض پہلے بھی کئی مواقع پا چکے، ہر بار یہی سوچ کر دل کو تسلی دیتے ہیں کہ شائد اب کوئی بہتری آ چکی ہو مگر افسوس کہ ایسا کچھ نہیں ہوتا، اس سیریز میں بھی ایک اسپیل میں وہ اچھی بولنگ کرتے تو دوسرے میں ہانپ رہے ہوتے ہیں، ون ڈے میچ میں 4 وکٹیں لیں تو 65 رنز دے چکے تھے، یہ کون سی خطرناک بولنگ ہے؟ اسی طرح عرفان کو کیا ہمیں باسکٹ بال کا میچ کھلانا ہے جو لمبے قد کے ایڈوانٹیج کی رٹ لگائے رہتے ہیں۔

ان کی فٹنس عالمی معیار کی نہیں ہے، کارکردگی بھی خاص نہیں، 3 میچز میں 50 کی اوسط سے تین وکٹیں تو کوئی پارٹ ٹائم بولر بھی لے لیتا،اب ایسے پیس اٹیک کے ساتھ کوئی ٹیم کیسے جیت سکتی ہے، ہمارے پاس کوئی ایک بھی ایسا فاسٹ بولر موجود نہیں جو حریف بیٹسمینوں کے لئے دہشت کی علامت ہو، ہمارا حال بھی بھارت جیسا ہوتا جا رہا ہے مگر انھیں مضبوط بیٹنگ بچا لیتی ہے، اسپن بولنگ پاکستانی ٹیم کی جان ہوتی تھی مگر اب سعید اجمل تیزی سے بے اثر ہو رہے ہیں۔

ایسا لگتا ہے کہ حریف بیٹسمین ان کی بولنگ کو سمجھ چکے، ایکشن پر اعتراض کے بعد پابندی کی لٹکتی تلوار اسپنر کا رہا سہا اعتماد بھی ختم کر دے گی،انگلش ٹیم سے فراغت کے بعد لگ بھگ 8 لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ پر پاکستانی سائیڈ کے ساتھ وابستہ ہونے والے مشتاق احمد بھی اولین آزمائش میں متاثر نہ کر سکے، ان کی شمولیت کے بعد ٹیم کے واحد لیگ اسپنر شاہد آفریدی بھی وکٹیں لینا بھول گئے، تین میچز میں وہ کسی پلیئر کو ٹھکانے نہ لگا سکے، کوئی اور ملک ہوتا تو ''بیمر'' کارنامے کے بعد عبدالرحمان کو ٹیم کے قریب بھی نہ پھٹکنے دیا جاتا مگر ''اتفاق'' سے ایسی بولنگ کرنے والے اسپنر دونوں ٹیسٹ کھیل گئے اور صرف 4 وکٹیں لیں، ون ڈے اسکواڈ میں موجودگی کے باوجود ذوالفقار بابر پانی پلاتے رہ گئے۔

حالیہ سیریز کا سب سے مثبت پہلو فواد عالم رہے، ایشیا کپ سے ان کی کارکردگی شاندار ہے، انھیں ٹیسٹ اسکواڈ کا بھی حصہ بنانا چاہیے تھا مگر سلیکٹرز نے نجانے کیوں ایسا نہ کیا، فواد نے تینوں میچز میں عمدہ بیٹنگ کی اور صہیب مقصود کے ساتھ مل کر ایک مقابلے میں فتح بھی دلائی، دیگر بیٹسمینوں کو بھی ان سے سبق لینا چاہیے، اسی طرح صہیب اپنے ٹیلنٹ کا اظہار تو کر چکے لیکن کارکردگی میں تسلسل نہیں لا رہے، یہ خامی انھیں عظیم بیٹسمینوں کی صف میں شامل ہونے سے روکتی رہے گی، سلیکشن کمیٹی نے اس سیریز کے لیے یونس خان کو ون ڈے اسکواڈ کا حصہ بنا کر توازن بگاڑ دیا، کسی آزمائے ہوئے بیٹسمین کا انتخاب کوئی مشکل بات نہیں، یہ تو کوئی عام انسان بھی کر سکتا ہے۔



سلیکٹرز کو بھاری بھرکم تنخواہ ڈومیسٹک سرکٹ سے بہترین پلیئرز تلاش کرنے کی دی جاتی ہے، یونس اپنا اچھا وقت گذار چکے، وہ ٹیسٹ کے لئے تو مفید ہیں لیکن ون ڈے میں ان جیسے بیٹسمین کی کوئی جگہ نہیں، اس میں مثبت سوچ کا حامل کوئی جارح مزاج کھلاڑی لانا چاہیے، جیسے صہیب مقصود ہیں انھیں بھی ابتدائی نمبرز پر آزمایا جا سکتا ہے، یونس کی ٹیسٹ میں بھی کارکردگی زوال پذیر لگتی ہے، حالیہ سیریز میں اگر177 کی اننگز ہٹا دیں تو دیگر 3 میں وہ 34 رنز ہی بنا سکے، کسی سینئر بیٹسمین سے ایسی توقع نہیں رکھی جا سکتی، اسے تسلسل سے پرفارم کرنا ہوتا ہے، یونس گذشتہ برس زمبابوے میں 77 رنز کی اننگز کے بعد اگلی 5 اننگز میں ففٹی بھی نہ بنا سکے تھے، پھر سنچری کی تو اگلی 5 باری میں مزید کوئی تھری فیگر اننگز دیکھنے کو نہ ملی، یہ ان کے لئے لمحہ فکریہ ہے، اسی طرح شاہد آفریدی نے بیٹنگ میں بھی مایوس کیا اور 3 ون ڈے میں 17 رنز ہی اسکورکیے۔

پاکستانی ٹیم کے لئے سب سے زیادہ پریشانی کی بات کپتان مصباح الحق کی ناقص فارم ہے، پورے ٹور میں وہ ایک نصف سنچری بھی نہ بنا سکے، ٹیسٹ سیریز میں 16.75 کی اوسط سے 67 اور ون ڈے میں 22.33 کی اوسط سے 67 رنز نے ان کے لئے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے،اگر چیئرمین بورڈ شہریار خان میں جرات ہوئی تو شائد اگلی سیریز میں کوئی نیا کپتان دیکھنے کو مل جائے، حالیہ فارم سے قطع نظر اس وقت ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی میں ٹیم کو شاہد آفریدی جیسے نڈر لیڈر کی ضرورت ہے، گذشتہ ورلڈکپ میں بھی انھوں نے ٹیم کو سیمی فائنل تک پہنچا دیا تھا مگر مصباح اور یونس نے ٹنڈولکر کے کیچز چھوڑنے کے بعد سست بیٹنگ کرکے فتح سے دور کر دیا، ٹیسٹ میں قیادت کے لئے کسی نئے کھلاڑی کو آزمانا ہوگا اور یہ فیصلہ کرنا بورڈ کا کام ہے، صرف متبادل موجود نہ ہونے پر مصباح کو 50 سال کی عمر تک کھلانے سے کچھ حاصل نہ ہو گا، جو کھلاڑی 149 ون ڈے میچز میں کوئی سنچری نہ بنا سکا اب 40 سال کا ہوکر کیا کارنامے انجام دے سکتا ہے۔

حالیہ سیریز میں محمد حفیظ کی کارکردگی دیگر سے بہتر ہی رہی البتہ عمر اکمل نے مایوس کیا، نجانے وہ کب اپنے ٹیلنٹ کا مظاہرہ کریں گے97 ون ڈے تو کھیل چکے، اب بھی ٹیم سے باہر ہوئے تو ایک سیریز بعد واپس آجائیں گے، ہمارے ملک میں یہی تو ہوتا ہے، کیریبیئن لیگ میں شاندار کھیل پیش کرنے والے شعیب ملک بھی ایک اور کم بیک کے لئے تیار نظر آتے ہیں، حفیظ اور مصباح نے اپنے دور قیادت میں انھیں ضایع کیا، اگر قیادت میں کوئی تبدیلی ہوئی تو آفریدی کے ساتھ مل کر وہ ٹیم کے کام آ سکتے ہیں۔

قومی ٹیم کے نئے بیٹنگ کوچ گرانٹ فلاور کی کارکردگی کے بارے میں شائد اب کسی تجزیے کی ضرورت نہیں، نتائج سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ انھوں نے کیا ''کارنامے'' انجام دیے، فیلڈنگ کوچ کم ٹرینر گرانٹ لیوڈن بھی کوئی تاثر چھوڑنے میں ناکام رہے، ابھی تو پہلی سیریز ہونے کا جواز دیا جا سکتا ہے مگر آئندہ ان کی پوزیشنز کا دفاع بے حد مشکل ہو گا۔

پی سی بی میں شہریار خان کے آنے سے اب تک کوئی خاص فرق دکھائی نہیں دیا، تمام معاملات پہلے کی طرح ہی جاری ہیں، انھوں نے بہتری کے لئے کوئی قابل ذکر کوشش نہیں کی، البتہ رشتہ داروں سے ملاقات کے لئے ایک اور دورۂ بھارت کا اشارہ دے دیا ہے، انھیں جلد بورڈ کے معاملات سدھارنے ہوں گے ،ابھی تو آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے، جیسے نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں کمرے کے معمولی تنازع پر پی آر او پر ڈسپلن کی خلاف ورزی کا الزام لگا تو تحقیقات کے لئے ہزاروں روپے کے ہوائی ٹکٹ دے کر تین آفیشلز کو کراچی بھیجا گیا، انھوں نے فائیو اسٹار ہوٹل میں قیام کیا اور ڈیلی الاؤنس بھی وصول کیے، آج کے اس جدید دور میں سب کام ویڈیو لنک سے ہو سکتے ہیں مگر ایک معمولی واقعے کے لئے لاکھوں روپے پھونک دیے گئے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاملات کیسے چل رہے ہیں، خاص طور پر نیشنل اسٹیڈیم تو مسائل کا گڑھ بن چکا،اس حوالے سے مزید حقائق بعد میں بیان کروں گا۔ فی الحال تو یہ امید ہی کی جا سکتی ہے کہ ملکی کرکٹ معاملات میں شائد کوئی بہتری آجائے، بصورت دیگر مزید مسائل سامنے آتے رہیں گے۔

[email protected]

مقبول خبریں