68 سال کا بچہ جس کے پیٹ میں کیڑے ہیں

جہاں سے ان کا خمیر اٹھا تھا، بارہ ٹانگوں میں آٹھ تو انسانوں کی ہوتی تھیں اور چار اس چارپائی کی ہوتی تھیں


Saad Ulllah Jaan Baraq September 03, 2014
[email protected]

SUKKUR: ڈاکٹر امرود کے بارے میں تو آپ کو اچھی خاصی جان کاری حاصل ہو چکی ہے بارہ سال تک اسپتال گیٹ کے باہر امرود کی چھابڑی لگانے کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچا کہ جو کام اتنے بڑے اسپتال میں اتنے بڑے بڑے لکھے پڑھے ڈاکٹر کر رہے ہیں وہی کام وہ اپنے گاؤں میں بغیر کچھ پڑھے لکھے ایک چھوٹی سی دکان میں بھی کر سکتا ہے، بارہ سال میں اس نے زیادہ تر یہی دیکھا تھا کہ مریض اپنی دو ٹانگوں پر چل کر آتے اور ''علاج'' کے بعد بارہ ٹانگوں پر سوار ہو کر وہیں پہنچائے جاتے ہیں۔

جہاں سے ان کا خمیر اٹھا تھا، بارہ ٹانگوں میں آٹھ تو انسانوں کی ہوتی تھیں اور چار اس چارپائی کی ہوتی تھیں جو ان کے کندھوں پر دھری ہوتی اور اس کے اوپر علاج گزیدہ مریض ہوتا، چنانچہ اس نے اپنے گاؤں میں جا کر یہی دھندہ شروع کر دیا کام اتنی تیزی سے چل نکلا کہ ایک سال کے عرصے میں اس نے دائیں طرف اپنے بڑے بھائی کے لیے کفن دفن کے سامان اور تیار قبروں کی دکان ڈلوا دی اور بائیں طرف چھوٹا بھائی امرود اور ان تمام پھلوں کی دکان چلاتا تھا جو ڈاکٹر امرود مریضوں کے لیے تجویز کرتا تھا۔

یہاں تک کا قصہ تو یقیناً آپ کو معلوم ہوگا کیونکہ وقتاً فوقتاً اس کالم میں یہ تفصیلات آتی رہی ہیں لیکن اس تازہ ترین صورت حال کا ذکر ہم نے ابھی تک نہیں کیا جو گاؤں میں بلکہ عین سامنے ایک دوسرے ڈاکٹر کی آمد پر پیدا ہوئی ہے اس ڈاکٹر کا پورا نام تو کچھ اور تھا لیکن گاؤں میں ڈاکٹر ''بھٹا'' کے نام سے معروف ہو گیا، کیونکہ اسے جب بھی دیکھا گیا بھنا ہوا یا ابلا ہوا بھٹا کھاتے ہوئے دیکھا گیا تھا ویسے وہ ڈاکٹر امرود سے کافی زیادہ کوالیفائید تھا کیونکہ اسپتال کے گیٹ پر بھنے ہوئے بھٹے بیچتے ہوئے اس نے اسپتال کے اندر بھی آمد و رفت رکھی تھی۔

جس کی وجہ سے اس نے ڈاکٹری کے تمام طور طریقے ازبر کر لیے تھے دراصل ڈاکٹر بھٹا کے پیچھے علامہ بریانی عرف برڈ فلو کا ہاتھ تھا کیونکہ اپنے خاندانی چورن ''فنڈ ہضم بجٹ ہضم'' کے سلسلے میں ڈاکٹر امرود سے اس کے شدید اختلافات ہو گئے تھے بلکہ ڈاکٹر امرود نے علامہ کے خاندانی چورن کی نقل بھی بیچنی شروع کر دی تھی جس کا نام اس نے تھوڑا سا بدل کر ''بجٹ خور فنڈ خور'' رکھ لیا تھا اور رجسٹرڈ بھی کروا لیا تھا، چالاک آدمی تھا اس لیے آہستہ آہستہ اس نے علامہ کے بہت سارے گاہک کھینچ لیے جو علاقے کے سیاسی لیڈر، ٹھیکیدار، سماجی کارکن یا وزیروں، کونسلروں اور افسروں کے رشتے دار تھے۔

جوابی کارروائی کے طور پر علامہ نے کہیں سے ''ڈاکٹر بھٹا'' کو کھود کر اس کے مقابل لا کھڑا کیا جو اسپتال کے اندرونی معاملات کا تجربہ رکھتا تھا اور باقاعدہ ڈاکٹروں کی طرح فیس وغیرہ کا سلسلہ شروع کر دیا تھا لیکن اس کی شہرت جس واقعے سے چار دانگ عالم میں پھیل گئی وہ ایک ایسے مریض کا علاج تھا جس کے والدین اس کا علاج تقریباً ہر ڈاکٹر سے کروا چکے تھے اچھی خاصی جائیداد بھی اس میں صرف ہو چکی تھی لیکن مریض کو کوئی افاقہ نہیں ہو رہا تھا، یہ مریض ایک اٹھاسٹھ سالہ ''بچہ'' تھا عمر تو اس کی اٹھاسٹھ سال ہو گئی تھی لیکن بڑھوتری کسی چار پانچ سالہ بچے سے بھی کم تھی بلکہ ذہنی طور پر تو کسی نوزائیدہ بچے جیسا تھا یہ ڈس ایبل بچہ ایک بہت بڑے خاندان کا واحد چشم و چراغ تھا۔

ماں باپ اور بزرگ وغیرہ تو اس کا علاج کروا کروا کر خود تو ڈاکٹر ملک الموت کو ریفر ہو گئے تھے اور ان کے باقی ماندہ رشتہ دار جو اس سے اکثر عمر میں چھوٹے تھے اس کا علاج کروانے میں لگ گئے تھے، ڈاکٹر بھٹا نے گاؤں میں کلینک ڈالی تو علامہ بریانی نے کسی نہ کسی طرح اس مریض کے لواحقین کو پھسلایا کہ اگر ٹھیک نہ ہوا تو زیادہ سے زیادہ مر جائے گا یوں اسے نہ سہی وارثوں کا مسئلہ تو حل ہو جائے گا، مریض کو لایا گیا تو ڈاکٹر بھٹا نے بھٹا میز کی دراز میں رکھا، اسٹیتھو اسکوپ گلے میں لٹکایا بلڈ پریشر چیک کرنے اور اس طرح کے دوسرے آلات بھی میز پر سجائے آج وہ خاص طور پر سوٹ بوٹ اور ٹائی ڈاٹ کر آیا تھا مریض کو معائنہ خانے میں بلوایا گیا تو اس کا ماموں اور کچھ دوسرے رشتے دار بھی ساتھ تھے۔

ڈاکٹر نے ماموں کے علاوہ سب کو باہر نکال کر انتہائی درشت پوز بنایا صرف ماموں کو رہنے دیا گیا، مریض کیا تھا دنیا کا پتہ نہیں ''کونساواں'' عجوبہ تھا، چار فٹ قدر و قامت کے اس اٹھاسٹھ سالہ بچے کو ہر لحاظ سے بچہ ہی کہا جا سکتا تھا، چہرے پر داڑھی مونچھوں کے بجائے کچھ عجیب و غریب قسم کی جھریوں کا جال بچھا ہوا نہ صرف چہرے بلکہ پورے جسم میں وہی جھریوں کا جال تھا سر بہت بڑا تھا اور چہرہ تقریباً تکون کی شکل کا تھا آنکھوں کی اطراف میں چار انچ کا چہرہ ٹھوڑی تک آتے آتے نصف کا رہ گیا تھا، آنکھوں کے سوراخ تو موجود تھے لیکن آنکھیں نیچے کسی تہہ خانے میں ذرا ذرا سی نظر آ رہی تھیں جیسے کنوئیں کی گہرائی میں پانی جھلک رہا ہو، رنگ ویسے تو زرد تھا لیکن جگہ جگہ اس میں سبز اور بینگنی مقامات بھی پائے جاتے تھے۔

ڈاکٹر بھٹا نے اپنے تمام تر آلات سے اس کا معائنہ کیا جن میں سے تقریباً سو فیصد آلات مکمل طور پر بیکار تھے کیوں کہ کباڑیوں سے خریدے گئے تھے مریض کا پورا جسم جس مرکز کے ارد گرد پھیلا ہوا تھا وہ اس کا گنبد نما پیٹ تھا اگر کسی طرح پیٹ کو الگ کر کے تولنا ممکن ہوتا تو باقی تمام اعضاء سے پیٹ کا وزن چار گنا زیادہ نکلتا، ایسا لگتا تھا جیسے وہ کسی بڑے سائز کا جھینگا یا کیکڑا ہو، اور اس کا مرکزہ اس کا غبارے کی طرح پھیلا ہوا پیٹ ہو، ڈاکٹر بھٹا نے ایک مرتبہ اسپتال میں ایک ڈاکٹر کو اس قسم کا ایک مریض دیکھتے ہوئے دیکھا تھا چنانچہ اسی اسٹائل میں وہ اس کا معائنہ بھی کر رہا تھا، معائنہ کرنے کے بعد وہ کرسی پر بیٹھ کر ڈاکٹر ہی کی طرح سوچ بچار میں ڈوب گیا، حالانکہ وہ نہ کچھ سوچ رہا تھا نہ ''بچار'' رہا تھا بلکہ اس بھٹے کو دل ہی دل میں کھا رہا تھا جو میز کی دراز میں ادھ کھایا ہوا رکھا تھا، ''سوچ بچار'' کا پوز مکمل کرنے کے بعد وہ کاغذ قلم لے کر سوالات کرنے لگا جوابات مریض کا ماموں دے رہا تھا جو بہرا ہونے کی وجہ سے گندم کے جواب میں ''جو'' اور چنا دے رہا تھا

ڈاکٹر: مریض کی عمر
ماموں: اٹھاسٹھ سال
ڈاکٹر: یہ بیماری کب سے ہے
ماموں: جب سے میں ہوں
ڈاکٹر: تم کب سے ہو
ماموں: تری امید ترا انتظار جب سے ہے
ڈاکٹر: صاف بتائیں
ماموں: نہ شب کو دن سے شکایت ہے نہ دن کو شب سے ہے
ڈاکٹر : (والیوم کو فل کرتے ہوئے) اسے یہ بیماری کب سے ہے
ماموں: جب سے یہ خود ہے
ڈاکٹر: مطلب یہ کہ پیدائشی ہے
ماموں: پیدائش سے بھی پہلے کی ہے
ڈاکٹر کو یاد آیا کہ اس ڈاکٹر نے اس موقع پر کیا کہا تھا
ڈاکٹر: اس کے پیٹ میں کیڑے ہیں ہر رنگ و نسل ہر سائز و شکل اور ہر قوم قبیلے کے کیڑے، جو اس کا خون چوس رہے ہیں
ماموں: بالکل ٹھیک کہہ رہے ہو، میں بھی ہر ڈاکٹر سے اب تک یہی کہہ رہا ہوں کہ اس کی ماں کے پیٹ میں بھی کیڑے تھے لیکن کوئی مانتا نہیں، وہ مٹی بہت کھاتی تھی اتنی زیادہ کہ پہلے ''پیلی ہوئی'' پھر ''نیلی'' ہوئی اور آخر میں ''سبز'' پڑ گئی اور اسی ''سبز'' زمانے میں یہ پیدا ہوا
ڈاکٹر: اس کی ماں کا نام کیا تھا
ماموں: مسلم بیگم
ڈاکٹر: اور اس کا
ماموں: پاکستان
ڈاکٹر: تبھی تو ۔۔۔ اس کے پیٹ کے کیڑے پیدائشی، خاندانی، نسلی اور جان لیوا ہیں جب تک اس کے کیڑے ختم نہیں ہوں گے اس کا بچنا ناممکن ہے۔