سیلاب زدہ علاقوں سے پانی نہ نکالا جاسکا امراض پھوٹ پڑے 20افراد جاں بحق

طبی امداد اور راشن تک نہیں دیا جارہا، لوگ بھیک مانگنے پر مجبور ہوگئے،احتجاجی مظاہرے جاری، عوامی نمائندے غائب.


News Agencies September 26, 2012
طبی امداد اور راشن تک نہیں دیا جارہا، لوگ بھیک مانگنے پر مجبور ہوگئے،احتجاجی مظاہرے جاری، عوامی نمائندے غائب۔ فوٹو: فائل

BEIJING: سندھ کے سیلاب سے متاثرہ شہروں میں بے گھرافراد میں گیسٹرو اور جلدی امراض پھیل گئے۔

متاثرین کا امداد نہ ملنے پر احتجاج کا سلسلہ جاری ہے، جیکب آباد،کشمور اورکندھ کوٹ میں چار سے پانچ فٹ تاحال موجود،سڑکیں ٹوٹ گئی ہیں، وبائی امراض پھیل گئے ہیں جسکے باعث گیسٹرو اورمختلف بیماریوں میں 11 دنوں میں20 کے قریب افراد اور بچے جاں بحق ہوچکے ہیں، علاقے میں کوئی بھی میڈیکل کیمپ نہیں لگایا گیا ،راشن نہ ملنے اور پانی نہ نکالنے کے خلاف روزانہ احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں ، متاثرین بھیک مانگنے پر مجبورہیںجبکہ علاقے کے عوامی نمائدے غائب ہیں۔

ادھراسلام آباد میں نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے ذرائع نے بتایاہے کہ صوبہ سندھ، پنجاب اور بلوچستان میں تباہ کن سیلاب کے باعث بڑے پیمانے پر نقصان ہواہے، چارسو کے قریب افراد جاں بحق اور لاکھوں افراد بے گھر ہو گئے ہیں، 13 ہزار سے زائد دیہات تین صوبوں میں بری طرح متاثر ہوئے ہیں ، مقامی امدادی ادارے متاثرین کی بحالی کیلیے سرگرم عمل ہیں جبکہ غیرملکی اداروں کی طرف سے جلد ریلیف اور بحالی کی سرگرمیاں شروع ہونیکا امکان ہے۔