موڈیز نے سیاسی بے یقینی کو معیشت کیلیے منفی قرار دے دیا

دھرنے و سیاسی بے چینی جاری رہی تو پاکستان کے آئی ایم ایف ودیگر عالمی اداروں سے تعلقات مشکل میں پڑ سکتے ہیں


Numainda Express September 06, 2014
رواں ماہ کے آخر تک آئی ایم ایف سے 54 کروڑ ڈالر ملنے کی امید ہے، حکومت کو ٹیکس مراعات کم، اداروں کی نجکاری اور توانائی بحران کا حل نکالنا ہوگا، ریٹنگ ایجنسی فوٹو: فائل

بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے پاکستان میں جاری سیاسی بے یقینی کو پاکستانی معیشت کے لیے منفی قرار دے دیا ہے۔

موڈیز کا کہنا ہے کہ اگر یہ دھرنے اور سیاسی بے چینی مزید جاری رہی تو پاکستان کے آئی ایم ایف سمیت دیگر عالمی اداروں سے تعلقات مشکل میں پڑ سکتے ہیں، پاکستان میں موجودہ سیاسی ہلچل معیشت کے لیے منفی ہے اور یہ پاکستان کے آئی ایم ایف سے تعلقات کو مشکل میں ڈال سکتی ہے۔

ریٹنگ ایجنسی نے کہا کہ پاکستانی معیشت کا پہیہ چلانے کے لیے آئی ایم ایف اور دیگر عالمی اداروں سے پاکستانی حکومت کو فنڈز ملنا نہایت ضروری ہے، اگر سیاسی بے یقینی جاری رہی تو معیشت مشکل میں پڑ سکتی ہے۔ موڈیز نے امکان ظاہر کیا کہ رواں ماہ (ستمبر) کے آخر تک پاکستان کو آئی ایم ایف سے 54 کروڑ ڈالر قرض کی قسط مل جائے گی، موجودہ حکومت کو ٹیکس مراعات کم کرنے، سرکاری اداروں کی نجکاری اور توانائی بحران کا حل نکالنا ضروری ہے جو حکومت کے لیے مشکل فیصلے ہیں۔