حصص مارکیٹ مندی کا شکار 90 پوائنٹس کی کمی

انڈیکس 29513 پر بند، بیشتر کمپنیوں کی قیمتیں گرگئیں، 17 ارب 25 کروڑ روپے کا نقصان


Business Reporter September 06, 2014
15 کروڑ حصص کا لین دین، بحران کے حل میں سنجیدگی نہ دکھائی تو اتار چڑھاؤ رہے گا، ماہرین فوٹو: آن لائن/فائل

NEW YORK: بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسی ''موڈیز'' کی جانب سے غیریقینی سیاسی صورتحال کو پاکستان کی معیشت کے لیے منفی قراردیے جانے، دھرنے جیسے حساس معاملے پرمذاکرات کے باوجود پارلیمنٹ میں حکومت اور اپوزیشن کی ایک دوسرے پر الزامات پر مبنی تقاریرنے کراچی اسٹاک ایکس چینج میں ایک بارپھر غیریقینی حالات پیدا کردیے ہیں اور سرمایہ کاروں نے پرافٹ ٹیکنگ کرتے ہوئے حصص کی آف لوڈنگ کو ترجیح دی جبکہ متعدد شعبے دوبارہ سائیڈ لائن ہوگئے جس کی وجہ سے جمعہ کو ایک بارپھر واضح طور پر مندی کے اثرات غالب رہے۔

انڈیکس کی29600 پوائنٹس کی حد گر گئی، 51.35 فیصد حصص کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی جبکہ سرمایہ کاروں کے 17 ارب 25 کروڑ 21 لاکھ 69 ہزار 501 روپے ڈوب گئے۔ ماہرین اسٹاک کا کہنا تھا کہ سیاسی بحران سنجیدگی سے حل نہ کیا گیا تو مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کا رحجان غالب رہے گا اور سرمایہ کار وقتی طور پر سرمایہ کاری کر کے منافع کے حصول میں زیادہ دلچسپی لیتے رہیں گے۔

ٹریڈنگ کے دوران غیرملکیوں، این بی ایف سیز اور انفرادی سرمایہ کاروں کی جانب سے مجموعی طور پر 85 لاکھ 45 ہزار967 ڈالر مالیت کی تازہ سرمایہ کاری کی گئی جس سے ایک موقع پر 54.80 پوائنٹس کی تیزی بھی رونما ہوئی لیکن اس دوران مقامی کمپنیوں کی جانب سے30 لاکھ 36 ہزار 506 ڈالر، بینکوں ومالیاتی اداروں کی جانب سے18 لاکھ56 ہزار337 ڈالر، میوچل فنڈز کی جانب سے 24 لاکھ 40 ہزار763 ڈالر اور دیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے 12 لاکھ 12 ہزار 360 ڈالرکے سرمائے کے انخلا سے تیزی مندی میں تبدیل ہوگئی۔

کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس90.52 پوائنٹس کی کمی سے 29513.78 ہوگیا جبکہ کے ایس ای30 انڈیکس 80.98 پوائنٹس کی کمی سے 20450.78 اور کے ایم آئی30 انڈیکس206.52 پوائنٹس کی کمی سے 48409.42 ہوگیا، کاروباری حجم جمعرات کی نسبت32 فیصد کم رہا اور مجموعی طور پر15 کروڑ18 لاکھ94 ہزار حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار368 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں 157 کے بھاؤ میں اضافہ، 189 کے داموں میں کمی اور22 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔

جن کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ان میں وائتھ پاکستان کے بھاؤ 190.40 روپے بڑھ کر 3998.48 روپے اور باٹا پاکستان کے بھاؤ 85 روپے بڑھ کر3350 روپے ہوگئے جبکہ کولگیٹ پامولیو کے بھاؤ 68.74 روپے کم ہوکر 1585.01 روپے اور سینوفی ایونٹیز کے بھاؤ 20.08 روپے کم ہوکر 625 روپے ہوگئے۔