بلدیاتی اداروں سے متعلق نوٹیفکیشن جلد جاری ہوگا قائم علی شاہ کی گورنر کو یقین دہانی

الٹی میٹم کے بعد متحدہ، پی پی کا پہلا رابطہ،متحدہ کا آرڈیننس کے بعد اداروں کی عدم تشکیل


Staff Reporter September 26, 2012
الٹی میٹم کے بعد متحدہ، پی پی کا پہلا رابطہ،متحدہ کا آرڈیننس کے بعد اداروں کی عدم تشکیل۔ فوٹو: فائل

متحدہ قومی موومنٹ کی پیپلز پارٹی کو اپنے مطالبات ماننے کے لیے تین روز کی ڈیڈ لائن پر پیپلز پارٹی اور سندھ حکومت نے محتاط ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایم کیو ایم کے تحفظات دور کیے جائیں گے۔

منگل کو متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے دیے جانے والے الٹی میٹم کے بعد پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ کے درمیان پہلا بالمشافہ رابطہ ہوا ہے ۔ وزیراعلی سندھ سید قائم علی شاہ نے گورنر ہائوس کراچی میں گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد سے ون ٹو ون ملاقات کی جس میں متحدہ کے تحفظات پر بات ہوئی ہے ۔ ذرائع کے مطابق متحدہ نے نئے بلدیاتی آرڈیننس کے بعد بلدیاتی اداروں کی تاحال تشکیل نو نہ ہونے اور نئے آرڈیننس کو اسمبلی میں پیش کرنے کیلیے سندھ اسمبلی کا اجلاس نہ بلانے پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے ۔ سندھ حکومت کی جانب سے مسلسل ٹال مٹول پر متحدہ قومی موومنٹ پیپلز پارٹی سے خفا ہے ۔

وزیراعلی نے گورنر کو ملاقات میں یہ یقین دہانی بھی کرائی ہے کہ وہ جلد نئے نظام کے مطابق بلدیاتی اداروں کی تشکیل نوکا نوٹیفکیشن جاری کریں گے،تاخیر کی وجہ دیگر ناراض اتحادیوں سے بات چیت بتائی جاتی ہے۔دوسری جانب پیپلزپارٹی کے ذرائع کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ اس کی ایک ٹیم کے مسلم لیگ فنکشنل ، اے این پی اور نیشنل پیپلز پارٹی کے ساتھ بیک ڈور مذاکرات بھی جاری ہیں جس میں ان کے تحفظات کو دور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ ذرائع کے مطابق گورنر سے ملاقات میں وزیراعلی نے متحدہ کے تحفظات ختم کرنیکی یقین دہانی کرائی اور جلد دونوں جماعتوں کے درمیان مشترکہ اجلاس بلانے پر بھی اتفاق ہوا ہے۔

دریں اثنا وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے منگل کو ایم کیو ایم کی طرف سے دیے گئے الٹی میٹم پر کہا کہ دونوں جماعتیں ساڑھے چار سال سے مل کر کام کر رہی ہیں، ہم اتحادی ہیں اور اتحادی رہینگے، ایم کیو ایم کے اگر کوئی تحفظات ہیں تو وہ دور کیے جائینگے، صدر زرداری اور پیپلز پارٹی کا یہ عزم ہے کہ ملک میں جمہوریت کے استحکام کیلیے تمام اتحادیوں کو ساتھ لے کر چلا جائیگا اور ہم اس پر پوری طرح سے عمل پیرا ہیں ۔ واضح رہے کہ ایم کیو ایم نے رابطہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد3 دن کے اندر اپنے تمام مطالبات ماننے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ بصورت دیگر وہ حکومت چھوڑ کر اپوزیشن بنچوں پر چلی جائیگی۔

مقبول خبریں