بدبودار بستیوں میں ووٹ کی بھیک
ہماری ریاست کے ایک مقدس ادارے کے ایک محترم نے سوال کیا ہے کہ پارلیمنٹ کے سامنے بیٹھے ہوئے۔۔۔
ہمارے محترم اراکین پارلیمنٹ ، پارلیمنٹ کے سامنے بیٹھے ہوئے جمہوریت کے مارے ہوئے غریب عوام کو برا بھلا کہہ رہے ہیں۔ ایک محترم کا ارشاد ہے کہ ان مظاہرین کے دھرنے سے تعفن پھیل گیا ہے ایک محترم فرما رہے ہیں کہ مظاہرین کی بدبو سے انھیں رات بھر نیند نہیں آرہی ہے ایک اور محترم فرما رہے ہیں کہ مظاہرین کے دھرنے سے پارلیمنٹ کا تقدس مجروح ہوا ہے۔
پولیس کی طرف سے مظاہرین پر پھینکے جانے والے آنسو گیس کے شیل کے حوالے سے KPکے ایک بزرگ رکن پارلیمنٹ کا ارشاد ہے کہ ان لوگوں کی وجہ سے ان کی شام کی محفلیں متاثر ہو رہی ہیں ۔ ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ ان مظاہرین یعنی عوام کی پارلیمنٹ کے سامنے بیٹھک ہمارے معزز اراکین پارلیمنٹ کو کسی قیمت پر گوارا نہیں۔ وہ ہر قیمت پر اس تعفن اور بدبو کو پارلیمنٹ کے سامنے سے نکالنا چاہتے ہیں اس کی سب سے بڑی وجہ مظاہرین کا تعفن اور مظاہرین کی بدبو ہے۔
بلاشبہ یہ مظاہرین غریب طبقات سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کے میلے کچیلے کپڑوں سے بدبو اس لیے آ رہی ہے کہ وہ تین ہفتوں سے اپنے گھروں سے باہر جمہوریت کے صحراؤں میں پڑاؤ ڈالے ہوئے ہیں اور انھیں یہاں نہانے دھونے کی کوئی سہولت حاصل نہیں۔ لیکن مقام افسوس ہے کہ جو محترم لوگ پارلیمنٹ کے مقدس ایوان میں بیٹھ کر ان بدبودار لوگوں کی بدبو سے پریشان ہو رہے ہیں۔
ان ہی بدبودار عوام کے ووٹوں کی وجہ یہ اکابرین خوشبو دار بن کر بدبو سے نفرت کا اظہار کر رہے ہیں۔ کس قدر افسوس اور شرم کی بات ہے کہ یہ اکابرین ان لوگوں کو آج تعفن اور بدبو کی علامت کہہ رہے ہیں جو کل اپنے آپ کو خوشبودار بنانے کے لیے ان کی بدبودار بستیوں میں ووٹ کی بھیک مانگنے گئے تھے۔
جو لوگ عوام کو آج تعفن اور بدبودار کہہ رہے ہیں وہ ان ہی بدبودار لوگوں کے خوشبودار ووٹوں کے ذریعے ایوان اقتدار میں پہنچے ہیں۔ اور لوٹی ہوئی دولت نے انھیں خوشبودار بنادیا ہے اگر عوام انھیں ووٹ دے کر قانون ساز اداروں میں نہ پہنچاتے تو آج کے یہ خوشبودار لوگ فٹ پاتھوں پر بیٹھے جوتے پالش کرتے نظر آتے۔ پچھلے 67 سالوں سے اس ملک کے غریب عوام کی دولت کو جمہوری قذاق جس بے دردی سے لوٹ رہے ہیں ملک کی سیاسی تاریخ میں پہلی بار عوام اس لوٹ مار کے خلاف سڑکوں پر آئے ہیں اور پارلیمنٹ کے سامنے بیٹھ کر ان لٹیروں کو چیلنج کر رہے ہیں۔ اس احتجاج نے عوام کی دولت لوٹنے والوں کو اس قدر خوفزدہ کردیا ہے کہ وہ جمہوریت کے مورچے میں بیٹھ کر جمہور سے نفرت کا اظہار بھی کر رہے ہیں اور انھیں اس گستاخی کی ایسی سزا دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ دوبارہ وہ اس قسم کی گستاخی کی جرأت نہ کرسکیں۔
ہماری ریاست کے ایک مقدس ادارے کے ایک محترم نے سوال کیا ہے کہ پارلیمنٹ کے سامنے بیٹھے ہوئے باغیوں اور شمالی وزیرستان کے دہشت گردوں میں کوئی فرق ہے؟اسی ریاست کے دوسرے محترم ادارے کے ایک رکن اور وزیر داخلہ نے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے فرمایا ہے کہ پارلیمنٹ کے سامنے فروکش یہ مرد اور ہزاروں خواتین دہشت گرد ہیں۔ اگرچہ معزز ادارے کے معزز رکن کے سوال کا جواب ہمارے وزیر داخلہ نے دے دیا ہے لیکن یہ جواب اس قدر احمقانہ ہے کہ اس کا جائزہ لینا ضروری ہے۔
یہ دہشت گرد 14 اگست کو لاہور سے نکلے ہیں یہ دہشت گرد جب ماڈل ٹاؤن میں بیٹھ کر ان لٹیرے طبقات کے نہ ختم ہونے والے مظالم کے خلاف مارچ کی تیاری کر رہے تھے تو امن کے دعوی داروں نے ان پر اس قدر اندھے پن سے گولیاں چلائیں کہ تحریک منہاج القرآن کا سیکریٹریٹ بے گناہ عوام کے خون سے سرخ ہوگیا۔ اور 14 بے گناہ شہید اور 90 سے زیادہ بے گناہ اندھی گولیوں سے چھلنی ہوئے۔ کیا مرنے والے دہشت گرد تھے یا مارنے والے دہشت گرد ہیں؟ اسلام آباد کے ڈی چوک میں پرامن طور پر بیٹھنے والے مظاہرین پر گولوں کی آڑ میں گولیاں چلوائی گئیں جس میں اعداد و شمار کے مطابق 3 شرکا جاں بحق اور 500 زخمی ہوگئے۔ کیا یہ شہید اور زخمی ہونے والے دہشت گرد تھے یا انھیں شہید اور زخمی کرنے والے دہشت گرد ہیں؟
شمالی وزیرستان کے مذہبی انتہاپسند ساری دنیا میں دہشت گردی کے حوالے سے اس لیے بدنام اور رسوا ہیں کہ وہ خودکش حملوں، بارودی گاڑیوں، پلانٹڈ بموں، ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے ہر روز سیکڑوں بے گناہوں کو قتل کر رہے ہیں اور اب تک 50 ہزار پاکستانیوں کو انتہائی بہیمانہ انداز میں قتل کرچکے ہیں۔ کیا آزادی اور انقلاب مارچ کے شرکا میں خودکش بمبار موجود ہیں۔ کیا ان شرکا نے اب تک کوئی خودکش حملہ کیا ہے؟ کیا ان مظاہرین کے پاس بارودی گاڑیاں موجود ہیں، کیا انھوں نے بارودی گاڑیاں استعمال کی ہیں؟ کیا یہ مظاہرین پارلیمنٹ کے آگے پیچھے اور شاہراہ دستور پر ٹائم بم رکھ رہے ہیں؟ کیا یہ مظاہرین حکمران طبقات کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنا رہے ہیں؟
ایسا کچھ نہیں ہو رہا ہے یہ مظاہرین 14 اگست سے آخر وقت تک پرامن رہے ہیں اس دوران وہ مرتے رہے ہیں انھوں نے کسی کو مارا نہیں۔ کیا پھر بھی انھیں دہشت گرد کہا جانا چاہیے؟ یہ ایسا سوال ہے جس کا جواب ان اکابرین کو دینا چاہیے جو پرامن مظاہرین کو دہشت گرد کہہ رہے ہیں اور ان مڈل کلاسیوں کو بھی اس سوال کا جواب دینا چاہیے جو پارلیمنٹ میں کھڑے ہوکر جمہوریت کو ہر قیمت پر بچانے کا اعلان کر رہے ہیں۔
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے کہا ہے کہ ''پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ایک ڈھونگ ہے، ہم اس کرپٹ اور بوسیدہ نظام کا حصہ نہیں بنیں گے'' الطاف حسین ملک کی چوتھی بڑی پارٹی کے سربراہ ہیں وہ کہہ رہے ہیں کہ وائٹ کالر والے جمہوریت کا راگ الاپ رہے ہیں۔ ایلیٹ کلاس اقتدار مافیا ایک وراثت کی شکل اختیار کرچکی ہے۔ عمران خان اور قادری بھی خاندانی جمہوریت اور بادشاہانہ نظام کے خلاف دھرنا دیے ہوئے ہیں۔ الطاف حسین عمران خان اور قادری صاحب کا تعلق مڈل کلاس سے ہے اور مڈل کلاس کے یہ نمایندے قانون ساز اداروں پر 67 سال سے قابض سیاسی وڈیروں کے چنگل سے قانون ساز اداروں کو چھڑانا چاہتے ہیں۔ کیا یہ طبقاتی جدوجہد دہشت گردی ہے؟
بھٹو نے ایوب خان کے خلاف تحریک چلاکر عوام کو سیاسی شعور سے آشنا کیا۔ عمران خان اور طاہر القادری آزادی اور انقلابی مارچ کے ذریعے عوام میں طبقاتی شعور بیدار کر رہے ہیں اور جو غریب عوام اس جنگ میں شریک ہیں انھیں جمہوریت کے علمبردار تعفن اور بدبو کا نام دے کر ان کی تذلیل کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ ان کی بدبو سے انھیں رات بھر نیند نہیں آتی۔