میچ فکسنگ سے متاثرہ کھیلوں میں کرکٹ کا دوسرا نمبر

ہر سال فٹبال کھیلنے والے 80 ممالک متاثر ہوتے ہیں، سخت قوانین کی ضرورت ہے، انٹرپول


Sports Desk September 11, 2014
ہر سال فٹبال کھیلنے والے 80 ممالک متاثر ہوتے ہیں، سخت قوانین کی ضرورت ہے، انٹرپول فوٹو: فائل

انٹرپول نے میچ فکسنگ سے نقصان پہنچنے والے کھیلوں میں کرکٹ کو دوسرے نمبر پر قرار دیدیا، فہرست میں پہلا نمبر فٹبال کا ہے، آفیشل جون ایبٹ کے مطابق ہر سال 80 ممالک فٹبال میچ فکسنگ سے متاثر ہوتے ہیں، اس غیر قانونی کام پر قابو پانے کیلیے دنیا بھر میں سخت قوانین کی ضرورت ہے۔

تفصیلات کے مطابق انٹرپول آفیشل اورفکسنگ کیخلاف فیفا کی جنگ کے سربراہ جون ایبٹ نے سوکیریکس گلوبل کنوینشن کے موقع پر کہا کہ فکسنگ ایک عالمی مسئلہ بن چکا،اس میں کمی کے کوئی آثار نہیں ملتے ہیں، انھوں نے کہا کہ میچ فکسنگ کوئی نئی بات نہیں، 20 ویں صدی کے ابتدائی برسوں میں لیورپول اور مانچسٹر یونائیٹڈ کا ایک فٹبال گیم فکسڈ تھا،حقیقتاً اب جو بڑی تبدیلی رونما ہوئی وہ پروفیشنل کرمنلز کا فراڈ کیلیے اس میں شامل ہونا ہے، ہمیں چین، روس، بالکانز، امریکا اور اٹلی میں دولت بٹورنے کیلیے منظم کرائم گروپس کے شواہد ملے ہیں۔

ایبٹ نے دعویٰ کیا کہ اس میں اربوں ڈالرز کا کاروبار ہورہا ہے، اسپورٹس گورننگ باڈیز اور فٹبال ایسوسی ایشنز کو اس سے بچنے کیلیے کام کرنا ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ اگرچہ کئی اسپورٹس کو میچ فکسنگ سے نقصان پہنچا لیکن فٹبال کا عالمی گیم پہلے اور کرکٹ دوسرے نمبر پر ہے۔

اس غیر قانونی کام میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے اور گذشتہ تین برسوں کے دوران 60 سے 80 ممالک نے میچ فکسنگ کی اطلاعات دی ہیں، ہمیں پوری دنیا میں بہتر قوانین کی ضرورت ہے، البتہ میں نہیں سمجھتا کہ ہم کوئی ایسا عالمی قانون بنانے میں کامیاب ہوجائیں جس کا تمام میچ فکسنگ پر عملدرآمد ہوسکے، تمام اتھارٹیز کو اسے روکنے کیلیے ایک ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے۔ 'فکسنگ فٹبالز ڈارک سائیڈ' کے اسی مباحثے کے دوران قطر کے انٹرنیشنل سینٹر برائے اسپورٹ سیکیورٹی کے سربراہ ایمانوئیل میڈیروس نے بتایا کہ کم از کم ایک پروفیشنل یورپیئن فٹبال کلب ایک اہم کمپنی کے ذریعے منظم کرائم سنڈیکیٹ کے تحت کام کررہا ہے۔