ہماری اخلاقیات کا پس منظر

وڈیرے اور اشرافیہ غریب طبقات کو احساس کمتری میں مبتلا کرنے اور انھیں۔۔۔۔


Zaheer Akhter Bedari September 12, 2014
[email protected]

KARACHI: آج کل اخلاقیات کے حوالے سے ایک نئی بحث چھڑی ہوئی ہے، عمران خان اور طاہر القادری پر الزام لگایا جا رہا ہے کہ وہ حکمرانوں کے خلاف ناشائستہ زبان استعمال کر رہے ہیں، میں خود بھی جب عمران خان کو ''نواز شریف میں تم کو نہیں چھوڑوں گا'' اور قادری صاحب کو سیاسی اکابرین کو ''بے شرمو'' کہتے دیکھتا ہوں تو بہت برا لگتا ہے لیکن جب میرا ذہن اس ملک کے کسانوں، مزدوروں، غریب طبقات کے ساتھ اشرافیہ کی شائستہ زبان میں گفتگو کی طرف جاتا ہے تو عمران خان اور طاہر القادری کی نا شائستہ گفتگو سمجھ میں آ جاتی ہے۔ ہمارے مجسم اخلاقیات وڈیرے اور جاگیردار،کسانوں، ہاریوں کی جس طرح تذلیل کرتے ہیں ہو سکتا ہے ہمارے ماہرین اخلاقیات اسے وڈیرہ شاہی اخلاقیات کا نام دیں۔

وڈیرے اور اشرافیہ غریب طبقات کو احساس کمتری میں مبتلا کرنے اور انھیں ان کی اوقات میں رکھنے کے لیے جن اخلاقیات کا مظاہرہ کرتے ہیں ان میں سے ایک طریقہ ان کے نام کی بے حرمتی کا ہے اگر کسی ہاری کا نام فتح محمد ہے تو وڈیرے اسے ''فتو'' کے نام سے آواز دیتے ہیں اگر کسی کسان کا نام دین محمد ہے تو وڈیرہ اسے ''دینو'' کہتا ہے۔ اگر کسی ہاری یا کسان کو کسی وڈیرے کے دربار میں حاضری کی سعادت حاصل ہوتی ہے تو اسے محل میں ننگے پاؤں باریاب ہونا پڑتا ہے اور الٹے پاؤں واپس آنا پڑتا ہے ۔

کسانوں، ہاریوں کی بیٹیوں کی بے حرمتی وڈیرہ شاہی اخلاقیات کا ایک ناگزیر حصہ ہے۔ ابھی پچھلے دنوں کراچی میں ایک مڈل کلاس فیملی کی لڑکی سے وڈیروں کی اولاد نے بد تمیزی کی، جب اس کے بھائی نے اس پر ناراضگی کا اظہار کیا تو اسے قتل کر دیاگیا۔ یہ مظلوم لڑکیاں قانون اور انصاف کے ایوانوں میں برسوں دھکے کھاتی پھرتی ہیں ان کی ایف آئی آر تک نہیں درج کی جاتی، ماڈل ٹاؤن میں 14 بے گناہ انسانوں کے بہیمانہ قتل اور 90 افراد کو گولیوں سے چھلنی کر دیا گیا اس کی ایف آئی آر سوا دو مہینے بعد اس وقت درج کی گئی جب اسلام آباد کے دھرنے والوں نے اسے اپنے مطالبے میں شامل کیا۔میرے کالموں کا لہجہ سخت ہوتا ہے اور شاید ناشائستہ بھی۔

بعض وقت مجھے احساس ہوتا ہے کہ کالم کا لہجہ سخت نہیں ہونا چاہیے لیکن میں اپنے لہجے پر قابو اس لیے نہیں پا سکتا کہ میں نے برسوں مزدوروں، غریبوں کی زندگی کو نہ صرف قریب سے دیکھا ہے بلکہ ان کے ساتھ رہا ہوں۔ جو لوگ غریب طبقات کی زندگی کو قریب سے دیکھتے ہیں ان کے لہجوں میں تلخی بھی آ جاتی ہے اور ان کی زبان ناشائستہ بھی ہو جاتی ہے۔ اسلام آباد کے کھلے میدانوں میں اپنے حقوق کے لیے سخت دھوپ اور موسلادھار بارشوں میں اپنے دودھ پیتے بچوں اور جوان بچیوں کے ساتھ تین ہفتوں سے بھوکے پیاسے بیٹھنے والوں کو اخلاقیات کے مبلغ اور رکھوالے دہشت گرد کہہ رہے ہیں، خانہ بدوش کہہ رہے ہیں، غنڈے اور بدمعاش کہہ رہے ہیں جن کے پھیلائے ہوئے تعفن اور بد بو سے ان اونچے ایوانوں کے قابضین کی اونچی ناکیں متاثر ہو رہی ہیں بعض مقدس مآب حضرات ان خواتین پر فحاشی پھیلانے کا الزام لگا رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ ڈی چوک پر بیٹھی ہوئی یہ ہزاروں خواتین ان کی قومی اخلاقیات کو تباہ کر رہی ہیں۔

ہمارے ملک کے ترقی پسند شعراء میں فیض احمد فیضؔ اور حبیب جالبؔ سر فہرست ہیں۔ دونوں اس گلے سڑے اور بد بو دار نظام کی تبدیلی کے لیے اپنی شاعری کو استعمال کرتے ہیں۔ فیض صاحب کا لہجہ بہت دھیما اور نرم ہوتا ہے، فیض صاحب ہماری مروج اخلاقیات کے دائرے میں رہتے ہوئے شعر کہتے ہیں اس لیے ان کی پذیرائی مڈل اور اپر مڈل کلاس تک محدود ہوتی ہے۔ حبیب جالبؔ کا شعری لہجہ باغیانہ اور مروجہ اخلاقیات کے بندھنوں کو توڑ رہا ہوتا ہے اسی لیے اسے عوام میں پذیرائی حاصل ہے وہ لاکھوں کے مجمعے میں ہلچل مچا دیتا ہے۔ غالباً اس کی وجہ یہ ہے کہ جالبؔ نے غریب طبقے کی زندگی کو بہت قریب سے دیکھا بھی ہے اور خود بھی اسی طبقے سے تعلق رکھتا ہے۔

پارلیمنٹ میں جہاں جمہوری اکابرین جمہوریت کو ہر قیمت پر بچانے کے اعلانات کر رہے ہیں اسی پارلیمنٹ میں دو ''جمہوریت بچاؤ'' کے اکابرین میں ٹھنی ہوئی ہے اور یہاں اخلاقیات پاؤں میں روندی جا رہی ہے الزام اور جوابی الزامات سے سیاسی اخلاقیات کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں۔ چوہدری اعتزاز کہہ رہے ہیں اے پارلیمنٹ کے مکینو! ''عمران خان کی باتیں لوگوں کے دلوں میں اتر رہی ہیں'' میں حیران ہو کر سوچ رہا ہوں کہ عمران اور قادری کی ناشائستہ زبان لوگوں کے دلوں میں کیوں اتر رہی ہے۔

میرا تعلق ایک شریف اور با اخلاق خاندان سے ہے میں اعلیٰ تعلیم یافتہ بھی ہوں، سیاسیات اور جرنلزم میں، میں نے ماسٹر کیا ہے۔ فیض اور سبط حسن جیسے اعلیٰ اخلاقیات کے حامل دوستوں کے ساتھ ہفت روزہ لیل و نہار کی مجلس ادارت میں شامل رہا۔ انجمن ترقی پسند مصنفین کی مجلس عاملہ کا رکن بھی رہا۔ اپنے بل بوتے پر ایک ادبی رسالہ ''فردا'' دس سال تک نکالتا رہا۔ میرے افسانوں کے سات اور کالموں کے دو مجموعے بھی شایع ہو چکے۔ اتنے با اخلاق پس منظر میں میرا لہجہ میری زبان تلخ اور ناشائستہ کیوں ہو جاتی ہے؟ اس سوال کا جب میں جواب تلاش کرتا ہوں تو مزدوروں، کسانوں کی ہستیاں، مزدوروں، کسانوں کی زندگیاں اور ان کے ساتھ گزارے ہوئے شب و روز میرے سامنے آ جاتے ہیں۔

آج بڑے بڑے نامور شاعر گڑ گڑا کر جب یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ ''میرے معبود یہ تماشا کب ختم ہو گا'' تو میں اپنی ہی نظروں میں آپ متنازعہ ہو جاتا ہوں۔ میں نے اپنے ان ہی کالموں میں بار بار کہا ہے کہ عمران خان اور طاہر القادری کا کوئی انقلابی پس منظر نہیں لیکن وہ جو مطالبات لے کر ڈی چوک میں 25 ہزار غریبوں کے ساتھ فروکش ہیں یہ مطالبات 67 سال سے عوام پر مسلط STATUS QUO توڑ سکتے ہیں۔ اور تاریخ بتاتی ہے کہ ظلم کا نظام ختم کرنے والوں کی زبان ناشائستہ ہو ہی جاتی ہے لیکن جب میں اسمبلی کے فلور پر STATUS QUO کے ایک بڑے محافظ کو یہ کہتے ہوئے دیکھتا ہوں کہ ''عمران خان کنٹینر میں واپس چلا بھی جائے تو وہ ہارا نہیں جیتا ہے'' تو میرے سامنے شائستہ اور ناشائستہ زبان کا فرق واضح ہو جاتا ہے۔

مقبول خبریں