وہ اگر یہاں پیدا ہوتا
ہاکنگ کو 12 اعزازی ڈگریاں تفویض کی گئیں‘ درجنوں اعزازات دیے گئے۔
وہ انگلستان کے ایک پڑھے لکھے گھرانے میں پیدا ہوا' باپ طب کے شعبے سے وابستہ اور ماں نے فلسفہ پڑھا تھا۔ باپ چاہتا تھا کہ وہ طب کا پیشہ اختیار کرے لیکن بیٹا ریاضی کا عاشق تھا۔ اس بحث مباحثے کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ کاسمولوجی (کونیات) کے شعبے سے وابستہ ہو گیا۔ اس کے ساتھ ہی وہ کلاسیکی موسیقی کا دیوانہ تھا۔ سائنس فکشن کی کتابیں پڑھتا اور ان سے لطف اٹھاتا۔ آکسفورڈ اور کیمبرج میں یہ ممکن نہیں کہ آپ وہاں کے طالب علم ہوں اور کشتی رانی میں دلچسپی نہ لیں۔
وہ بھی کشتی رانی کلب کا رکن ہوا اور خطرناک ترین مقابلوں میں حصہ لیتا۔ سیر سپاٹے کا شوقین۔ اپنے اساتذہ اور ساتھی طالب علموں میں وہ مقبول تھا اور یہ بھی تھا کہ اس کی بے پناہ ذہانت سے اس کے کچھ ساتھی اس سے حسد کرتے تھے۔ اسی دوران گھر والوں کو احساس ہوا کہ اس کی چال میں لڑکھڑاہٹ آ گئی ہے اور اس کے ہاتھوں کی گرفت کمزور ہو گئی ہے۔ جن کاموں کو وہ بہت آسانی سے کرتا تھا' اب ان میں بے ڈھنگا پن نمایاں ہو گیا ہے۔ یہ تشویش کی بات تھی۔ آکسفورڈ میں اس کا آخری سال تھا جب وہ کئی مرتبہ سیڑھیوں سے گرا' کشتی رانی کرتے ہوئے کبھی چپو اس کے ہاتھ سے نکلا اور کبھی اس کی ناؤ کسی دوسری ناؤ سے ٹکرا گئی۔ اس جیسے ماہر کشتی راں نوجوان کے لیے یہ ایک ناقابل یقین سی بات تھی۔
یہ اس کی زندگی کا 21 واں برس تھا جب اس پر اور خاندان پر یہ خبر بجلی بن کر گری کہ وہ ایک ایسی اعصابی بیماری میں گرفتار ہو گیا ہے جس کا کوئی علاج نہیں اور اس کی حالت خراب تر ہوتی جائے گی۔ ڈاکٹروں نے اسے یہ بھی بتادیا کہ وہ صرف دو برس بعد تہ خاک سو جائے گا۔ ایک ابھرتے ہوئے طبعی سائنس دان کے لیے یہ بیماری موت کا پروانہ تھی۔ اب وہ کسی سہارے کے بغیر چل نہیں سکتا تھا۔ اس کے لبوں سے نکلنے والے الفاظ کسی کی سمجھ میں نہیں آتے تھے۔ یہ صرف اس کے گھر والے یا اس کی محبوبہ جین تھی جو اس کی بات سمجھ سکتی تھی۔ خاندان نے اور جین نے فیصلہ کیا کہ وہ تقدیر کے اس کاری وار سے آخری لمحے تک لڑیں گے۔ اس پر یاسیت کے شدید دورے پڑنے لگے۔ اس کیفیت کے لیے بھلا کون اسے دوش دے سکتا تھا۔ وہ نوجوان جس کے سامنے ایک شاندار اور کامیاب زندگی کھلی ہوئی تھی' تقدیر اس کا شانہ ہلا کر کہہ رہی تھی بس میا ں بس بہت ہوا۔ اپنے عزائم اور اپنے ارادے تہہ کر کے رکھو اور آخری سفر کے لیے تیار ہو جاؤ۔
یہ وہ زمانہ تھا جب آکسفورڈ' کیمبرج اور مغرب کی دوسری اہم یونیورسٹیوں کے سائنسی شعبوں میں یہ بات زیر بحث تھی کہ کائنات کیسے وجود میں آئی' بگ بینگ کی حقیقت کیا ہے' بلیک ہولز کیا واقعی اپنی طرف کھینچنے کی ایسی خوفناک قوت رکھتے ہیں کہ اپنے قریب سے گزرنے والے سیاروں کو کسی بھوکے مگرمچھ کی طرح نگل جائیں؟ ایسے ہی بے شمار سوالات تھے جن کے جواب ان نوجوانوں پر فرض تھے جو طبعیات کے میدان میں کمر کس کر اُترے تھے۔
ایک ایسی صورت حال میں جہاں محبوبائیں سارے قول و قرار بھول کر کسی اور طرف چل نکلتی ہیں' جین نے ایک دوسرا راستہ اختیار کیا۔ اس نے اپنے نیم اپاہج محبوب سے شادی کر لی۔ جین نہیں جانتی تھی کہ ابھی اور کتنے مرحلے اس راہِ عشق میں آئیں گے۔ اب وہ بیساکھیوں کے بغیر چل نہیں سکتا تھا اور لکھنا یا ٹائپ کرنا اس کے لیے مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا تھا۔ وہ بہت مشکل سے اس بات پر راضی ہوا کہ اب اس کے پاس وہیل چیئر کے استعمال کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ الیکٹریکل وہیل چیئر آئی تو وہ اسے اس تیز رفتاری سے چلاتا کہ دوستوں کو خوف آتا۔ شاید یہ اس کی جھنجھلاہٹ تھی' یا پھر یہ ثابت کرنا کہ لوگ اسے معذور نہ سمجھیں۔
اس کے اور جین کے 3 بچے ہوئے۔ انھوں نے کوشش کی کہ وہ معمول کی زندگی گزاریں لیکن تقدیر کا تیر ایک بار پھر اس جوڑے کے تعاقب میں تھا۔ بیس برس کی رفاقت کے بعد جین اپنی اس زندگی سے تھک گئی تھی تو دوسری طرف وہ بھی اپنی ایک نرس کے عشق میں گرفتار ہو گیا تھا۔ دونوں کسی جھگڑے اور فساد کے بغیر ایک دوسرے سے علیحدہ ہو گئے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کی دوسری بیوی نے اپنے جس شوہر سے طلاق لی تھی اسی سابق شوہر نے ایک ایسا چھوٹا کمپیوٹر بنایا جو اس کی وہیل چیئر میں نصب ہو سکتا تھا اور جس سے وہ کسی فرد کی مدد کے بغیر لوگوں سے گفتگو کر سکتا تھا۔
اپنے رقیب کے لیے یوں محسوس کرنا اور اس کی زندگی سہل بنانے کے لیے تن من لگا کر ایک نئی چیز ایجاد کرنے میں لگ جانا' وہ بات ہے جس کی تفصیل پڑھتے ہوئے مجھے فیضؔ صاحب کی نظم ''رقیب سے'' یاد آئی۔ اس سے بھی دلچسپ بات یہ ہے کہ چند برس کے بعد جین نے اپنے دوسرے شوہر کو چھوڑ دیا' اپنے سابق شوہر کی طرف پلٹ آئی اور دونوں ایک بار پھر اکٹھے ہو گئے۔ یہ بیسویں صدی کے آخر اور اکیسویں صدی کے شروع میں شہرت کی بلندیوں پر پہنچنے اور طبعیات کے شعبے میں کمالات دکھانے والے سٹیفن ہاکنگ کا قصہ ہے۔
21' 22 برس کی عمر کے بعد سے اس کی تباہ شدہ جسمانی حالت کا اندازہ اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ وہ بول نہیں سکتا تھا نہ لکھ سکتا تھا۔ اپنی ایک کروڑ کی تعداد میں فروخت ہونے والی کتاب کو اس نے اس طرح لکھا کہ وہ اپنی آنکھ کی جنبش سے اسپیلنگ کارڈ پر لکھے ہوئے حرف کی طرف اشارہ کرتا اور اس کی معاون نرس اس حرف کو کمپیوٹر پر ٹائپ کرتی' اور پھر اسی طرح اگلا حرف اور اس کے بعد کا حرف۔ یوں ایک لفظ کئی منٹ میں ٹائپ ہوتا۔ یہ ایک تھکا دینے والا عمل تھا جس کے بعد اس کے ایک دوست نے اس کے لیے ایک خاص پروگرام تیار کیا جو 2500 سے 3000 لفظوں اور محاوروں کے علاوہ سائنسی اصطلاحات پر مشتمل تھا۔ ان الفاظ اور اصطلاحات کی تصویریں اس بہت چھوٹے کمپیوٹر پر محفوظ کر دی گئیں جو اس کی وہیل چیئر پر لگا ہوا ہے۔ اب وہ ایک منٹ میں 15 لفظ لکھوا سکتا ہے۔ اس کی آواز ختم ہو چکی ہے' اسی لیے امریکی لہجے والی ایک آواز نے اس کی آواز کی جگہ لے لی ہے۔
ہاکنگ کو 12 اعزازی ڈگریاں تفویض کی گئیں' درجنوں اعزازات دیے گئے۔ اسے 'سر' کا خطاب دیا جانے والا تھا لیکن اس خطاب کو لینے سے اس نے معذرت کر لی۔ اس نے سائنسی دنیا کی مقبول ترین کتاب 'وقت کی مختصر تاریخ...بگ بینگ سے بلیک ہولز تک' لکھی۔ جس کی ایک کروڑ کاپیاں فروخت ہو چکی ہیں اور دنیا کی بیشتر زبانوں میں اس کا ترجمہ ہو چکا ہے۔ اس کتاب کو لکھنے کے ہر مرحلے میں جین قدم بہ قدم اس کے ساتھ رہی۔
اردو میں اس کا پہلا ترجمہ ناظر محمود نے اور دوسرا عظیم الرحمان فرقان نے کیا۔ اسے 'سائنس کا آقا' کہا جاتا ہے۔ صدر امریکا اس سے ملاقات کو اپنا شرف سمجھتا ہے اور اپنی اس جسمانی حالت کے باوجود وہ ملکوں ملکوں جاتا ہے اور لوگ اس کی جھلک دیکھنے کے لیے بے تاب رہتے ہیں۔ اس کی زندگی پر ایک فلم بن چکی ہے جو 7 نومبر کو امریکا کے متعدد سنیما گھروں میں ریلیز کی جانے والی ہے۔ ہاکنگ نے جب اسے دیکھا تو بے ساختہ یہ لکھا کہ ''مجھے یوں محسوس ہوا جیسے اسکرین پر میں خود نظر آ رہا ہوں۔''
کارل ساگاں جس کا سائنسی پروگرام 'کاسموس' ہمارے یہاں ترجمہ ہو کر پاکستان ٹیلی وژن سے قسط وار چلا اور نہایت مقبول ہوا' جس کا ترجمہ عزیز دوست منصور سعید نے کیا تھا' اسی کارل ساگاں نے سٹیفن ہاکنگ کی کتاب 'وقت کی مختصر تاریخ' کے ابتدایے میں لکھا ہے کہ: میں 1974ء کے موسم بہار میں یعنی وائیکنگ (خلائی جہاز) کے مریخ کی سطح پر اترنے سے دو سال قبل' انگلینڈ میں ایک اجلاس میں شرکت کے لیے گیا تھا جو رائل سوسائٹی آف لنڈن کے زیر اہتمام منعقد ہوا تھا۔ اس اجلاس کا مقصد تھا کہ ہم زمین کے علاوہ زندگی کی تلاش کس طرح کر سکتے ہیں۔ جب کافی کا وقفہ ہوا تو میں نے دیکھا کہ ایک ملحقہ ہال میں اس سے بھی بڑا اجلاس ہو رہا ہے۔
مجھے تجسس ہوا اور میں ہال میں داخل ہو گیا۔ ہمارے سیارے کی قدیم ترین عالمانہ تنظیموں میں سے ایک' رائل سوسائٹی کے نئے فیلوز کی حلف وفاداری کی تقریب ہو رہی تھی 'سامنے کی قطار میں ایک نوجوان وہیل چیئر پر بیٹھا ہوا ایک ایسی کتاب پر نہایت مشکل کے ساتھ دستخط کر رہا تھا' جس کے ابتدائی صفحے پر آئیزک نیوٹن کے دستخط بھی موجود تھے۔ آخر کار اس نوجوان نے دستخط کر دیے اور سارا ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔ سٹیفن ہاکنگ' اس وقت بھی ایک اساطیری شخصیت کی حیثیت اختیار کر چکا تھا ۔''
سٹیفن ہاکنگ ایک علم دوست سماج میں پیدا ہوا' اسی لیے آج وہ بیسویں صدی کے نصف آخر اور اکیسویں صدی کی دوسری دہائی کا سب سے نامور سائنسدان ہے۔ سوچئے تو سہی وہ اگر ہمارے آج کے علم دشمن سماج میں پیدا ہوتا تو اس کا ہم کیا حشر کرتے؟