الیکشن ہو گا کہ نہیں

امیدواروں کی ایک بڑی تعداد اب تک یہ فیصلہ نہیں کر پائی کہ وہ کس جماعت کو اپنی امداد کا اعزاز عطا کرے


Abdul Qadir Hassan September 27, 2012
[email protected]

ISLAMABAD: اگرچہ مجھے اب بھی حق الیقین نہیں ہے کہ پاکستان میں مقررہ وقت پر الیکشن ہوں گے لیکن ایک بات کی بہت خوشی ہے کہ امیدواروں نے اخراجات کا آغاز کر دیا ہے، اگرچہ یہ آغاز بہت محتاط ہے۔

ایک تو یہی الیکشن کے انعقاد کے بارے میں شک و شبہ کہ نہ جانے الیکشن ہوتے ہیں یا نہیں اور اگر ہوتے بھی ہیں تو وقت پر یا اس سے آگے پیچھے، اس لیے فی الحال سلام دعا اور چائے پانی ہی کافی ہے۔

دوسرے یہ امیدواروں کی ایک بڑی تعداد اب تک یہ فیصلہ نہیں کر پائی کہ وہ کس جماعت کو اپنی امداد کا اعزاز عطا کرے۔ آپ ہر روز اخباروں میں پڑھ رہے ہیں کہ امیدوار ایک سے دوسری بلکہ تیسری پارٹی کی طرف بھاگے جا رہے ہیں۔

امیدوار کہیں ٹک جائیں تو الیکشن کا سلسلہ شروع ہو اور انتخابی ماحول پیدا ہو، اب تک تو بس امیدواروں کی آنی جانیاں ہی ہیں۔

الیکشن کے ہونے نہ ہونے کے کئی اسباب موجود ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ کسی بڑی پارٹی کے انتخابی حالات تسلی بخش نہ ہوئے تو اس کے لیے ہنگامے برپا کرنا دشوار نہیں ہے۔

جس ملک میں امن کم اور بدامنی زیادہ ہو ،جس ملک میں دھماکوں کی ضرب ختم ہونے میں نہ آئے جہاں قتل و خونریزی ایک معمول بن جائے وہاں زیادہ نہیں تو الیکشن دشمنی کی حد تک ہنگامہ کیا مشکل ہے، اس سلسلے میں حکمران جماعت کا نام لیا جا رہا ہے، الیکشن میں اس کی کامیابی کا خود اسے بھی یقین نہیں ہے اور اس کے لیے بدامنی پیدا کرنا بہت ہی آسان کام ہے۔

وزیر داخلہ یا شاید اب مشیر داخلہ رحمٰن ملک ہوں وہاں امن کو خراب کرنا کیا مشکل ہے۔ موصوف اب تک بھارت کا نام لینے پر تیار نہیں ہوئے۔ یہ ان کی زبان میں ایک 'غیر ملک' ہے جو ہمارے اندر شرارت کرتا رہتا ہے اور امریکا تو موجود ہے ہی اگر میری سرکار کو الیکشن منظور نہیں تو وہ پاکستان میں اپنے کسی بھی ایجنٹ کو اشارہ کر سکتا ہے یا بقول شخصے وہ اس کا ڈرون جہاز اپنے نشانے سے چوک جاتا ہے یا اس کا نشانہ سیٹ کرنے والے ذرا سی بھی غلطی کر دیتے ہیں تو ہمارے تو ہر شہر کی آبادی اس قدر گنجان ہے کہ گھر پر گھر چڑھا ہوا ہے۔

اندیشہ یہ ظاہر کرنا ہے کہ پاکستان کے جو حالات ہیں اور ہر پاکستانی کے سامنے ہیں کوئی راز نہیں ہیں، ان میں الیکشن جیسے عوامی اجتماعی عمل کو سبوتاژ کرنا کتنا آسان ہے۔ ہماری کوئی بھی مایوس پارٹی یا گروہ کچھ بھی کر سکتا ہے اور ایک سب سے بڑا خدشہ اور ہے اور یہ بڑا پرانا ہے۔ ہماری فوج کے نیاز مند اسے ستو پی کر مست ہو جانے کے طعنے دے رہے ہیں۔

ایک صاحب نے کہا کہ اب تک کے چاروں مارشل لاء فوجی سربراہوں نے اپنے لیے لگائے کسی نے نوکری بچائی تو کسی نے ترقی پائی لیکن ملک کے حالات کو سنوارنے کے لیے اب تک کوئی مارشل لاء نہیں لگا۔ اس وقت ملک کی جو حالت ہے وہ کسی بھی مارشل لاء کے نفاذ کے وقت نہیں تھی بلکہ بہت بہتر تھی لیکن اس کے باوجود عوام اور ملک کی فلاح کے نام پر مارشل لاء لگا دیا گیا۔

اب تو حالت ایسی ہے کہ دنیا کا کوئی دوسرا ملک اس قدر کرپشن زدہ نہیں ہے، خود پاکستانی اپنے ملک سے مایوس ہیں، باہر نکلیں تو یوں لگتا ہے جیسے ملک میں کوئی حکومت نہیں ہے اور کہیں بھی حکومت دکھائی نہیں دیتی۔ بس انارکی ہے افراتفری ہے اور لوٹ مار ہے۔

پاکستانی گھروں میں ہوں تو کسی انجانے خوف سے پریشان رہتے ہیں اور گھر سے باہر نکلیں تو دعا کرتے ہیں کہ خیریت سے واپس گھر پہنچ جائیں۔ زندگی میں سکھ ختم ہو چکا ہے۔ ایک بے چینی اور بے قراری نے گھر کر لیا ہے، ان حالات کو آپ جب تک بیان کرتے رہیں کر سکتے ہیں لیکن جو لوگ فوج کو خاموش دیکھتے ہیں، وہ اپنے آپ کو بے بس سمجھتے ہیں۔

انھیں یوں لگتا ہے جیسے ان کو بچانے والا کوئی نہیں۔ فوج بھی پاکستان کے اندر رہتی ہے اور ہر فوجی یہ سب دیکھ رہا ہے بلکہ اس کے عزیز و اقارب پر یہ سب کچھ بیت رہی ہے مگر یہ اس کا حوصلہ اور صبر ہے کہ وہ یہ اختیار کے باوجود اپنی بیرکوں میں چپ ہے اور بیرونی حملوں میں کام آنے والوں کی گنتی میں مصروف رہتی ہے۔

یہ بات ایک لمحے کے لیے بھی نہیں سوچی جا سکتی کہ فوج غافل ہے لیکن مارشل لاء ایک غیر سیاسی، غیر قدرتی اور غیر اخلاقی عمل ہے جس کو کسی نہائت ہی ناگزیر اور نہایت ہی خطرناک صورت حال میں ہی اختیار کیا جا سکتا ہے اور قومی مفاد اسی میں ہے کہ قوم کے حالات کی اصلاح سیاستدان کریں اور سیاستدانوں کی آمد کا راستہ الیکشن سے ہو کر گزرتا ہے۔

اس لیے اگر فوج بھی الیکشن ہی مسئلہ کا حل سمجھتی ہے تو پھر الیکشن کے انعقاد کی خواہش اور کوشش ہی موزوں پالیسی ہے۔ سیاستدانوں کا فرض ہے کہ وہ زیادہ نہیں تو ایک بار ہی ملک کے مفاد میں کوئی کام کر جائیں ان کی اپنی بقا بھی اسی میں ہے، امید ہے کہ الیکشن ہوں گے اور ملک کا مذاق نہیں اڑے گا۔ بہت ہو چکی ہے اور ہو رہی ہے۔

میں اس وقت دانتوں کے درد میں مبتلا ہوں اور لگتا ہے کہ علاج دنداں اخراج دنداں والا قدیمی نسخہ کارگر رہے گا۔ ڈاکٹر صاحبان آسانی کے ساتھ اخراج دنداں پر راضی نہیں ہوتے تاآنکہ طویل علاج کے بعد خود اسی نتیجے پر پہنچ جائیں۔

آپ کو معلوم ہو گا کہ سب سے مہنگا علاج دانتوں کا ہوتا ہے ،کئی ادارے تو دانتوں کے علاج پر خرچ کو منظور ہی نہیں کرتے۔ پہلی بار بیرون ملک سرکاری دورے پر گئے تو ہمارے سفارت خانے کے ایک افسر نے کہا کہ جناب خدا خیر کرے، ہر مرض کے علاج کے لیے تیار ہیں مگر دانتوں کا آپ خود خیال رکھیں۔

یعنی ان کا علاج آپ کو خود ہی اپنے خرچ پر کرانا ہو گا۔ دعا کیجیے کہ اخراج دنداں خیریت سے اور قابل برداشت مالی بوجھ سے گزر جائے۔

مقبول خبریں