اسٹیٹ بینک زری پالیسی کل جاری کرے گا تبدیلی کا امکان مسترد

سیاسی بحران، آئی ایم ایف قسط کا التوا، روپے کی قدر میں کمی، سیلاب کے باعث مہنگائی بڑھنے کے خدشات اہم عوامل ہیں


Business Reporter September 19, 2014
حکومتی قرضوں کے دباؤ کو بھی مدنظر رکھا جائے گا، ڈسکاؤنٹ ریٹ 10 فیصد پر برقرار رہنے کا امکان ہے، تجزیہ کار۔ فوٹو: فائل

اسٹیٹ بینک ہفتہ 20 ستمبر کو سہ پہر 4 بجے پریس ریلیز کے ذریعے آئندہ2 ماہ کے لیے مانیٹری پالیسی فیصلے کا اعلان کرے گا۔

معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق سیاسی بحران اور سیلاب کی تباہی سے معیشت پر پڑنے والے اثرات کے سبب مانیٹری پالیسی میں کوئی تبدیلی متوقع نہیں ہے اور پالیسی ڈسکاؤنٹ ریٹ 10 فیصد کی سطح پر برقرار رکھے جانے کا امکان ہے۔ ماہرین کے مطابق مالی سال 2013-14 کے اختتام پر معیشت میں قدرے استحکام تھا تاہم نئے مالی سال کے آغاز سے شروع ہونے والی سیاسی ہلچل نے آخرکار سیاسی بحران کی شکل اختیار کرلی ہے۔

آئی ایم ایف سے 54 کروڑ 40 لاکھ ڈالر قرض کی قسط التوا کا شکار ہوگئی، سیاسی بے یقینی کے سبب روپے کی قدر میں بھی کمی واقع ہوئی، جولائی سے اب تک ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں 4 فیصد تک کمی واقع ہوچکی ہے، سیاسی بحران سے نبرد آزما حکومت بجلی کی قیمتوں پر دی جانے والی سبسڈی میں کمی کا فیصلہ بھی نافذ نہ کرسکی، سیاسی بحران کے بعد معیشت کو سیلاب جیسے کڑے چیلنج کا سامنا کرنا پڑا، اگست میں افراط زر کی شرح 7 فیصد تک رہنے کے بعد ستمبر میں شدید بارش اور سیلاب کے سبب افراط زر کی شرح میں اضافے کا خدشہ ہے۔

سیلاب کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال بالخصوص فوڈ انفلیشن کے خدشات نے ڈسکاؤنٹ ریٹ میں کمی کے امکانات کو مزید کم کردیا ہے، سیلاب اور بارش کے سبب بڑی فصلوں کو نقصان پہنچا ہے جس کے اثرات ستمبر اور اس کے بعد تک قیمتوں پر اثر انداز ہوں گے، اگست کے افراط زر کی شرح کے لحاظ سے اس وقت ریئل انٹریسٹ ریٹ 3 فیصد ہے تاہم ستمبر سے افراط زر میں اضافے کے امکانات کے سبب ریئل انٹریسٹ ریٹ میں بھی اضافہ ہوگا، ستمبر کے پہلے ہفتے میں حساس قیمتوں کے اشاریے (ایس پی آئی) کی شرح میں 0.51 فیصد اضافہ ہوا۔

کھانے پینے کی اشیا کی قیمتوں میں اضافے کا اثر براہ راست کنزیرمر پرائس انڈیکس پر پڑے گا کیونکہ سی پی آئی میں فوڈ باسکٹ کا حصہ 35 فیصد ہے، مانیٹری پالیس پر نظر ثانی کے اجلاس میں سیلاب سے پیدا ہونے والی صورتحال اور آئی ایم ایف کی قسط میں تاخیر کے سبب حکومتی قرضوں کے دباؤ کو بھی مدنظر رکھا جائے گا، اگرچہ سال 2014 کی پہلی ششماہی کے دوران زر کے پھیلاؤ (ایم ٹو) میں افزائش کی شرح 12.2 فیصد رہی تاہم فارن انفلوز کی آمد کی وجہ سے حکومتی قرضے بھی مناسب سطح پر رہے جس سے افراط زر کا دباؤ کم ہوا مگر سیلاب کے متاثرین کی بحالی اور امداد پر اٹھنے والے اخراجات کے بعد حکومتی قرضوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔