مالیاتی پیکیج سے اسٹیل ملز کی پیداوار میں 25 فیصد اضافہ

رواں ماہ 30اور اکتوبر تک پیداوار کو 40 فیصد تک بڑھایا جائیگا،چیف ایگزیکٹو آفیسر


APP September 21, 2014
وفاقی وزیر خزانہ کو بریفنگ، کوئلے پر ڈیوٹی کا مسئلہ ای سی سی کوپیش کیا جائیگا، اسحاق ڈار۔ فوٹو: فائل

پاکستان اسٹیل ملز کے لیے اقتصادی رابطہ کمیٹی کی جانب سے منظور کیے گئے 18.5 ارب روپے کے خصوصی پیکیج سے پیداوار 25 فیصد تک بڑھ چکی ہے جو مئی 2014 میں 3 فیصد تک کم ہوچکی تھی۔

ہفتہ کو ایک اجلاس میں پاکستان اسٹیل ملز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر میجر جنرل (ر) ظہیر احمد خان نے وزیر خزانہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کو ادارے کی کارکردگی کے بارے میں بریفنگ دی۔ انہوں نے کہاکہ ستمبر کے اختتام تک پیداوار 30 فیصد تک بڑھ جائیگی جبکہ اکتوبر تک اس کو 40 فیصدتک بڑھایا جائیگا۔ انہوں نے بتایا کہ رواں سال کے اختتام تک پاکستان اسٹیل ملز کی پیداوار کو اس کی پیداواری صلاحیتوں کے 77 فیصد تک بڑھایا جائے گا، اسٹیل ملز کی پیداواری استعداد1.1 ملین ٹن سالانہ ہے جو ادارے کے نقصانات کے خاتمے میں مددگار ثابت ہوگی۔

سی ای او نے وفاقی وزیر کو ادارے کو درپیش مسائل سے بھی آگاہ کیا جن میں کوئلے پر 5 فیصد ڈیوٹی کا نفاذ بھی شامل تھا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ اس مسئلے کو ای سی سی کے اجلاس میں پیش کیا جائے گا تاکہ فیصلہ کیا جاسکے۔ سی ای او نے خام مال کی درآمد پر جی ایس ٹی کی ایڈوانس ادائیگی میں رعایت کی بھی درخواست کی۔ انہوں نے کہا کہ اس سے کمپنی کو تیار مصنوعات پر جی ایس ٹی کی ادائیگی پر آسانی ہوگی۔

وفاقی وزیر نے ایف بی آر کو ہدایت کی کہ پاکستان اسٹیل مل کے لیے جی ایس ٹی کی ادائیگی میں 3 ماہ کی رعایت کا کیس تیار کیا جائے جبکہ اس موقع پر دیگر انتظامی معاملات پر بھی گفتگو کی گئی۔ اجلاس میں سیکریٹری خزانہ ڈاکٹر وقار مسعود، فنانس ڈویژن کے مشیر رانا اسد، ممبر کسٹمز، ایف بی آر نثار احمد اور ڈی جی (ای آر یو) سمیت وزارت خزانہ کے حکام نے شرکت کی۔