کاٹن مارکیٹوں میں سرگرمیاں ماند پڑ گئیں بھاؤ 100 تا 200 روپے من گرگئے

پنجاب میں نرخ 5600 تا5700 روپے،سندھ میں 5500تا5600 روپے،اسپاٹ ریٹ 5500 روپے فی من تک رہے


Ehtisham Mufti September 22, 2014
پنجاب میں نرخ 5600 تا5700 روپے،سندھ میں 5500تا5600 روپے،اسپاٹ ریٹ 5500 روپے فی من تک رہے۔ فوٹو: فائل

SYDNEY: سندھ اور پنجاب کے کاٹن زونز میں حالیہ سیلابی ریلوں سے کپاس کی فصل زیادہ متاثر نہ ہونے کی اطلاعات اور پھٹی کی آمد بہتر ہونے کی وجہ سے گزشتہ ہفتے پاکستانی کاٹن مارکیٹس میں روئی کی تجارتی سرگرمیاں مندی کا شکار رہیں اور قیمتوں میں بھی کمی کا رجحان غالب رہا۔

جبکہ چین کی جانب سے 2014-15 میں روئی کے نیشنل ریزروز کیلیے روئی خریداری نہ کرنے کے اعلان اور نیویارک کاٹن ایکس چینج میں اکتوبر ڈلیوری روئی کے سودوں کے حتمی تصفیوں کے سبب گزشتہ ہفتے بین الاقوامی کاٹن مارکیٹس میں بھی روئی کی قیمتوں میں مندی کے اثرات رہے اوران حقائق کے تناظر میں خدشہ ہے کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں رواں ہفتے بھی روئی کی قیمتوں میں کمی غالب رہے گی۔

ممبر پی سی جی اے احسان الحق نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ چین کی جانب سے اعلان کی جانے والی نئی کاٹن پالیسی کے باعث چین نے 2014-15 کے دوران اپنے روئی کے نیشنل ریزروز کے لیے روئی خریداری نہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے اپنے کپاس پیدا کرنے والے سب سے بڑے صوبے زنجیانگ کے کاشتکاروں کو کاشت کاروں کو اوپن مارکیٹ میں روئی کی قیمت 19 ہزار 800 یو آن فی ٹن (146سینٹ فی پاؤنڈ) سے کم ہونے کی صورت میں سبسڈی دینے کا اعلان کیا ہے جبکہ چین کی جانب سے دیگر صوبوں کے کاشتکاروں کے لیے سبسڈی کے بارے میں ابھی تک کوئی اعلان نہیں کیا گیا۔

یاد رہے کہ چین ہر سال تقریباً 3کروڑ بیلز (480پائونڈ) کے لگ بھگ روئی اپنے نیشنل ریزروز کیلیے خریدتا تھا جس کے باعث دنیا بھر میں روئی کی قیمتوں میں خاصا استحکام دیکھا جاتا تھا اور اطلاعات کے مطابق چین کے پاس اس وقت بھی روئی کے تقریباً11.60ملین ٹن کے ذخائر موجود ہیں جو کہ روئی کے دنیا کے کل ذخائر کے 57فیصد کے برابر ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے کے دوران پاکستان میں روئی کی قیمتیں 100 سے 200 روپے فی من مندی کے بعد پنجاب میں 5ہزار 600 سے 5 ہزار 700 جبکہ سندھ میں 5 ہزار 500 سے 5ہزار 600 روپے فی من تک گر گئیں جبکہ نیویارک کاٹن ایکسچینج میں حاضر ڈلیوری روئی کے سودے 2.35 سینٹ فی پاؤنڈ کمی کے بعد 73.50 سینٹ فی پاؤنڈ، اکتوبر ڈلیوری روئی کے سودے 4.62 سینٹ فی پاؤنڈ کمی کے بعد 65.99 سینٹ فی پاؤنڈ اورکراچی کاٹن ایسوسی ایشن میں روئی کے اسپاٹ ریٹ 150 روپے فی من مندی کے بعد 5 ہزار 500 روپے فی من تک گر گئے جبکہ چین اور بھارت میں بھی گزشتہ ہفتے کے دوران روئی کی قیمتوں میں مندی کا رجحان دیکھا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ توقع ظاہر کی جا رہی تھی کہ روپے کے مقابلے میں ڈالر کی بڑھتی ہوئی قدر کے باعث پاکستان سے روئی اور سوتی دھاگے کی برآمد میں خاطر خواہ اضافہ سامنے آئے گا لیکن بدقسمتی سے پنجاب کی ٹیکسٹائل ملز کو بجلی اور گیس کی فراہمی میں غیر معمولی کمی کے باعث بیشتر ٹیکسٹائل ملز کی پیداواری صلاحیت متاثر ہونے اور پیداواری لاگت میں غیر متوقع اضافے کے باعث پاکستانی کاٹن ایکسپورٹس کو شدید مشکلات کا سامنا ہے جبکہ اطلاعات کے مطابق چینی صدر کا دورہ پاکستان ملتوی ہونے کے باعث فیصل آباد میں قائم ہونے والی 6لاکھ اسپنڈلز پر مشتمل دنیا کی سب سے بڑی ٹیکسٹائل مل کا قیام بھی خطرے میں پڑ گیا ہے کیونکہ اس ٹیکسٹائل مل کو بجلی کی مسلسل فراہمی کیلیے ایک بڑا پاور ہاؤس بھی چین کے تعاون سے قائم کیا جا رہا تھا لیکن اطلاعات کے مطابق اب اس پاور ہاؤس کی تعمیر بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

احسان الحق نے بتایا کہ انٹرنیشنل کاٹن ایڈوائزری کمیٹی (آئی سی اے سی) کی جانب سے جاری ہونے والی ایک تازہ ترین رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دنیا بھر میں کپاس پیدا کرنے والے بڑے ممالک میں سے پاکستان وہ واحد ملک ہے جہاں کپاس کے کاشتکاروں کو سبسڈی کی ادائیگی نہیں کی جاتی۔ رپورٹ کے مطابق 2013-14 کے دوران کپاس پیدا کرنے والے بڑے ممالک میں مجموعی طور پر 6.50 بلین ڈالر کی ادائیگی کپاس کے کاشتکاروں کو سبسڈی کی مد میں کی گئی ہے جس کی اوسط تقریباً 26 سینٹ فی پائونڈ ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2013-14 کے دوران چین نے اپنے کپاس کے کاشتکاروں کے 32 سینٹ فی پاؤنڈ کے حساب سے 5.128 بلین ڈالر، امریکا نے 7 سینٹ فی پائونڈ کے حساب سے 453 ملین ڈالر کی ادائیگی کی ہے جبکہ ترکی نے اپنے کپاس کے کاشتکاروں کو سبسڈی کی مد میں 24 سینٹ فی پائونڈ، یونان نے 44 سینٹ فی پائونڈ جبکہ اسپین نے حیران کن طور پر دنیا بھر میں سب سے زیادہ اپنے کپاس کے کاشتکاروں کو 84 سینٹ فی پائونڈ کے حساب سے ادائیگی کی ہے جس سے ان ملکوں کی حکومتوں کا اپنے کاشتکاروں کے ساتھ حسن سلوک کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ 2013-14 کے دوران بھارت نے اوپن مارکیٹ میں کپاس کی قیمتیں امدادی قیمت سے کم نہ ہونے کے باعث کاشتکاروں کو سبسڈی کی ادائیگی نہیں کی گئی۔

مقبول خبریں