نسخہ انقلاب کے اجزائے ترکیبی
اس لیے ہم نے بھی یہی مناسب جانا کہ اپنی ’’کنفیوژن‘‘ اپنے پڑھنے والوں کے ساتھ شیئر کریں...
لاہور:
پتہ نہیں ہماری عقل کو کیا ہو گیا ہے کہ کوئی بات اس کی پکڑ میں آ ہی نہیں رہی ہے۔ بڑی کوشش کرتے ہیں لیکن پھر بھی کچھ پلے نہیں پڑتا، تقریباً ہمارا حال اس شخص کا سا ہو گیا ہے جس نے ریل میں سفر کے دوران اپنے سامنے والے مسافر سے کہا، میرے کان کچھ کمزور تو تھے اور میں کچھ اونچا سنتا تھا لیکن لگتا ہے کہ اب بالکل ہی بہرا ہو گیا ہوں، آپ آدھے گھنٹے سے کچھ کہہ رہے ہیں اور مجھے کچھ سنائی نہیں دے رہا ہے۔
اس پر دوسرے مسافر نے کہا، جناب میں کچھ بھی نہیں کہہ رہا ہوں، آپ کو غلط فہمی ہو رہی ہے یا آپ کسی وہم کا شکار ہیں، ہاں میں چیونگم ضرور چبا رہا ہوں، لیکن ہمیں لگ رہا ہے کہ سامنے والا جو میڈیا ہے جو ایک ہزار ایک چینلوں پر آٹھ ہزار آٹھ دانشور بیٹھے ہوئے ہیں وہ چیونگم نہیں چبا رہے ہیں بلکہ کچھ بول رہے ہیں لیکن ہماری سمجھ میں کچھ بھی نہیں آ رہا ہے اور تو اور گزشتہ تقریباً ایک مہینے سے جو دو ہیرو اور پارلیمنٹیرین باقاعدہ دوائی کی طرح صبح شام بولتے ہیں... وہ بھی ہمارے پلے نہیں پڑ رہا ہے چیونگم چبانے والے کے سامنے جو بزرگ اپنے کانوں سے متعلق کنفیوژن کا شکار تھے اسے تو کچھ سنائی ہی نہیں دے رہا تھا لیکن ہمیں سنائی تو دے رہا ہے بلکہ پورے فل والیوم کے ساتھ سنائی دے رہا ہے لیکن عقل کی پکڑ میں کچھ نہیں آ رہا ہے، اتنا تو ہمیں بھی احساس ہے کہ پہلے ہماری یہ عقل اتنی چھدری بھی نہ تھی آٹھ دس باتوں میں ایک دو تو پکڑ میں آ جاتی تھیں لیکن اب تو ایسا لگتا ہے جیسے ہم باتیں نہیں سن رہے ہیں بلکہ ''مینڈک'' تول رہے ہیں کہ ایک پکڑتے ہیں تو دو باہر پھدک جاتے ہیں، مطلب یہ کہ
آگہی دام شنیدن جس قدر چاہے بچھائے
مدعا عنقا ہے ''ہر اک'' عالم تقریر کا
لیکن خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ہم ایک ایسے ملک میں رہتے ہیں جہاں قدم قدم ایک سے بڑھ کر ایک بلکہ انیک دانشور پڑھا ہوا ہے مطلب یہ کہ یہ وہ زمانہ بھی نہیں اور وہ بستیاں بھی نہیں ہیں جس میں کہیں کہیں کوئی اکا دکا دانشور ہوتا تھا اور لوگ دور دورسے اپنے کنفیوژن اس کے پاس لایا کرتے تھے مثلاً ایک خوش قسمت گاؤں میں ایک دانشور تھا جو ہر مسئلہ چٹکیوں میں حل کر لیتا تھا ایک دن وہ بے چارا رو پڑا... کہ
آئے ہے بے کسی ''عقل'' پہ رونا غالب
کس کے گھر جائے گا سیلاب بلا میرے بعد
چونکہ اس زمانے میں کوئی اسلام آباد نہیں تھا اس لیے ''سیلاب بلا'' اکثر یہاں وہاں بھٹکتا رہتا تھا دراصل وہ دانشور بزرگ اس لیے رویا تھا کہ ابھی ابھی اس نے گاؤں کا ایک بہت بڑا مسئلہ چٹکیوں میں حل کیا تھا مسئلہ یہ تھا کہ ایک گائے کی رسی کھل گئی تھی اور کھانے کی تلاش میں اس نے اپنا سر ایک ہانڈی میں پھنسا لیا تھا بیچاری گائے ہانڈی پوش ہو کر یہاں وہاں دوڑتی پھر رہی تھی، دانشور بزرگ کو بلایا گیا تو اس نے غور کے کنٹینر میں غوطہ لگایا اور یہ گوہر مراد نکال لایا کہ گائے کا سر کاٹ لیا جائے، گائے کی گردن ماری گئی لیکن کم بخت ہانڈی اس بے پناہ دانشورانہ تدبیر کے باوجود ٹس سے مس نہ ہوئی اور بدستور سر کے اسلام آباد پر کنٹینر بنی ہوئی تھی، بزرگ نے کہا کوئی بات اب ہانڈی توڑ ڈالو، ہانڈی توڑنے کے بعد بزرگ اپنی کامیابی پر اپنے کنٹینر پر کھڑے ہو کر پہلے زور زور سے ہنسے اور پھر بھوں بھوں رونے لگے، لوگوں نے ہر دو فغاں کی وجہ پوچھی تو بزرگ ہنستے ہوئے بولے کہ ہنسا تو میں اس لیے کہ تم بڑے خوش قسمت لوگ ہو جو تمہارے بیچ مجھ جیسا دانشور پایا جاتا ہے لیکن رویا اس پر کہ اگر کل کلاں کو میں نہ رہوں تو تم کیا کرو گے
ہم نہ ہوں گے تو بہت یاد کرے گی دنیا
روئے گی پیٹے گی فریاد کرے گی دنیا
لیکن ہمارے وطن عزیز میں کچھ اور ہو نہ ہو کم از کم دانشوروں کی کوئی کمی نہیں ہے بلکہ کچھ زیادتگی ہی ہے کنکر بھی اٹھاؤ تو نیچے سے باقاعدہ دانشوروں کی ٹولی اینکر سمیت مل جاتی ہے اور طرح طرح کی باتیں سامنے آتی ہیں۔ اگر کسی کھلونے کا ریموٹ بھی دباؤ تو سامنے سے اسکرین پر دانش نظر آئے گی، اس لیے ہم نے بھی مناسب سمجھا کہ اپنا مسئلہ اپنے پڑھنے والوں کے سامنے رکھ دیں جن میں ہمیں پکا پکا یقین ہے کہ کم از کم دو سو فیصد تو دانشور ہی ہوں گے۔
اس لیے ہم نے بھی یہی مناسب جانا کہ اپنی ''کنفیوژن'' اپنے پڑھنے والوں کے ساتھ شیئر کریں تا کہ کوئی خدا کا بندہ ہماری الجھنیں سلجھا سکے اور عقل میں کچھ فراخی کی سبیل پیدا کرے، سب سے پہلی الجھن تو یہی ہے کہ یہ انقلاب کا جو لفظ ہے یہ کس زبان کا ہے اس کی فونو گرافک پوزیشن کیا ہے یہ اگر کوئی دوائی ہے تو اس میں اجزا کون کون سے پڑتے ہیں پھر ان اجزا کو ملانے کوفتہ بخینہ کرنے چھاننے اور بھوننے یا ابالنے کی ترکیب کیا ہے مثلاً پرانے بزرگوں نے سونا بنانے کی ترکیب یوں بتائی ہے کہ
سیہ وگوگرد و طوطیارا
درخون تیرہ ترکن عجلت مکن خدارا
یعنی سیہ گندھک اور نیلا تھوتھا کو پیس کر اس میں کوے کا خون ملایا جائے آگے مزید تفصیل میں لکھا ہے کہ کسی لیڈر یا سرکاری افسر کی قبر کے دس بچھوؤں کا زہر بھی اس میں ملایا جائے اور اسے ہاتھی اونٹ اور بکری کے گوبر کی آنچ پر پکایا جائے لیکن خیال رہے کہ ایک بھی آنچ کی کسر باقی نہ رہے تب خالص سونا تیار ہو جائے گا، اسی طرح پیار کا نسخہ بھی بیان کیا جاتا ہے، اسی طرز پر ہم چاہتے ہیں کہ کوئی اس انقلاب نامی تریاق کا نسخہ بھی ہمیں بتائے اور بنانے کی ترکیب سمجھائے اتنا تو ہم نے یہاں وہاں سے سنا ہوا ہے کہ اس کو پکانے کے لیے ایک بہت بڑے برتن کی ضرورت ہوتی ہے ۔
جس کے اندر ایک حکم الحکماء اور اردگرد بہت ساریشاگرد ہوں لیکن ان اجزا سے انقلاب بنانے کا طریقہ میں معلوم نہیں ہے ویسے بنے بنائے انقلابات تو ہم نے بہت دیکھے ہیں، مسلم لیگ کا سبز انقلاب، ایوب خان کا ولولہ انگیز انقلاب، جناب بھٹو کا چتکبرا انقلاب، حضرت ضیاء الحق کا اسلامی انقلاب، جنرل مشرف کا شوکت عزیزی انقلاب، مسلم لیگ (ق) کا شجاعتی انقلاب، پرویز الٰہی کا پڑھا لکھا پنجاب انقلاب، شہباز شریف کا میٹرو انقلاب، ایم ایم اے کا شرعی انقلاب، اے این پی کا سرخ انقلاب اور اپنے پرویز خٹک کا کرپشن توڑ انقلاب لیکن ان تمام انقلابات کے استعمال سے مریض کو کوئی خاص افاقہ نہیں ہو پایا ہے بلکہ
مریض عشق پر رحمت خدا کی
مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی
دراصل یہ جو مریض ہے جس کا علاج گزشتہ اٹھاسٹھ سال سے چل رہا ہے یہ بہت ہی ڈھیٹ اور بگڑا ہوا مریض ہے ایک تو یہ ''بدیر سزا'' بہت ہے دوسرے اس کے پیٹ میں ''کیڑے'' بہت ہیں، جن میں کرو دانوں سے لے کر سیاستدانوں اور خاندانوں سے لے کر نکتہ دانوں تک ھمہ اقسام کے کیڑے پائے جاتے ہیں جو اس کا سارا خون چوستے رہتے ہیں، اوپر سے دنیا بھر کے عطائیوں نے بھی اس کا بیڑا غرق کیا ہوا ہے، مطلب یہ کہ اب یہ مریض کے بجائے ''سنڈ روم'' بن چکا ہے اور ایسے مریض کا علاج ایسے ویسے نسخہ جات سے ممکن ہی نہیں ہے اب اس کے لیے ''بہت دور'' سے جو حکیم الحکما، طبیب الاطباء اور خدیق الخدقا بلوائے گئے ہیں انھوں نے مکمل ڈائیگنوز کرنے کے بعد قرار دیا ہے کہ اس کا واحد علاج اب انقلاب اور صرف انقلاب ہے۔
یہاں تک تو بات ہماری اس کمزور سی عقل میں بھی آ گئی ہے کہ انقلاب و انقلاب و انقلاب... لیکن چونکہ اس سے پہلے بھی بہت سارے انقلابی نسخے یہ کم بخت پھانک چکا ہے اس لیے یہ معلوم کرنا ضروری ہے کہ اب کے اس کے لیے انقلاب کا جو نسخہ تجویز کیا گیا ہے بلکہ ہماری اطلاع کے مطابق نسخہ مکمل طور پر تیار بھی ہو چکا ہے جیسے کنٹینر کے اندر آخری آنچ دی جا رہی ہے لیکن یہ بات ابھی تک صیغہ راز میں ہے کہ اس نسخے میں کیا کیا مفردات شامل ہیں تیار ہونے میں دیر کتنی ہے اور مریض پر اس کے اثرات کیا ہوں گے، ہوالشافی۔