ڈی چوک کی چنگاریاں
بادشاہوں اور انگریزوں نے اپنی حکمرانی کو مستحکم رکھنے کے لیے اس کلاس ۔۔۔
ہمارے ملک میں قیام پاکستان کے ساتھ ہی جس VIP کلچر کی ابتدا ہوئی تھی وہ وقت کے ساتھ ساتھ اس قدر مضبوط ہوتا گیا کہ اس کلاس کا ہر فرد دیوتا بنتا چلا گیا۔ انگریزوں نے ہندوستان میں اپنے اقتدار کو مستحکم بنانے کے لیے جو ہتھکنڈے استعمال کیے تھے ان میں سے ایک یہ تھا کہ خود ہندوستانیوں میں سے ایک کلاس نکالی اور اسے VIP کا درجہ دے کر اس قدر محترم اور مقدس بنا دیا کہ عام آدمی اس کلاس کے سامنے سربسجود ہونے پر مجبور ہو گیا۔ ان کے رہنے سہنے اٹھنے بیٹھنے میں ایسی نزاکتیں پیدا کی گئیں کہ یہ کلاس عام آدمی سے ایسی برتر کلاس بن گئی عوام پر اس کلاس کا احترام واجب ہو گیا۔ اس احترام کو استحکام دینے کے لیے ملازمین خانساماؤں، مالیوں کی بٹالینیں بنائی گئیں جو 24 گھنٹے ان کی تقدیس کی آبیاری کرتی ہیں۔ اس کروفر کو برقرار رکھنے کے لیے لوٹ مار کا بازار گرم کیا گیا اور لوٹ مار سے حاصل ہونے والی اس دولت کو VIP کلچر کو مستحکم کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا۔
بادشاہوں اور انگریزوں نے اپنی حکمرانی کو مستحکم رکھنے کے لیے اس کلاس کو جاگیریں دیں منصب دیے نواب، سر اور خان وغیرہ کے خطاب دے کر ان کے گرد احترام کا ایک ایسا حصار قائم کر دیا کہ کوئی عام آدمی اس حصار کو توڑنے کی ہمت نہیں کر سکتا تھا۔ اگر کوئی اس کلاس کے سامنے سر اٹھانے کی جرأت کرتا تو اس کا سر قلم کر دیا جاتا۔ پاکستان میں جمہوریت کے تعارف کے ساتھ ہی اس کلاس نے سیاست اور جمہوریت پر اس قدر مضبوطی سے پنجے گاڑ دیے کہ سیاست اور جمہوریت کو ان کے ہاتھوں سے چھڑانا مشکل ہو گیا۔ اس کلچر کو اس کلاس کو مضبوط کرنے میں عوامی دولت کی لوٹ مار کا پیسہ استعمال کیا جانے لگا اور انتخابات پر ڈاکا ڈالنے کے لیے اسی دولت کو استعمال کیا جانے لگا۔ VIP کلاس کے احترام کی بنیادیں اس قدر مضبوط کی گئیں کہ پڑھی لکھی مڈل کلاس نے بھی ان کے احترام کو اپنی بورژوائی اخلاقیات کا حصہ بنا لیا۔
ڈی چوک کے دھرنوں کو سطحی انداز میں دیکھنے اور ان پر تنقید کرنے والے علما کو ابھی تک یہ اندازہ نہیں ہو سکا کہ ان دھرنوں کے مضمرات اور اثرات کس قدر گہرے ہیں۔ ان دھرنوں میں دھرنے کے قائدین اس مصنوعی اقسام میں لپٹی ہوئی کلاس کے خلاف جو ''ناشائستہ زبان'' استعمال کر رہے ہیں اس پر VIP کلاس سے زیادہ مڈل کلاس مشتعل ہو رہی ہے اور اپنا غصہ دھرنے والوں پر اتار رہی ہے۔
ان دھرنوں میں ایک ماہ سے زیادہ عرصے سے جو ہزاروں خواتین بیٹھی ہوئی ہیں ان کی اس دلیری اور استقامت کا اعتراف تو پاکستان کی سیاسی تاریخ لکھنے والے کریں گے لیکن جمہوریت کے برگد سے لٹکے ہوئے بعض عناصر قومی اخلاق کی تباہی کا ان بہادر اور پاکباز خواتین پر الزام لگا کر انھیں بدنام کرنے کی گرچہ کوشش کر رہے ہیں لیکن شاید انھیں اندازہ نہیں کہ دھرنوں میں ایک ماہ سے زیادہ عرصے سے بیٹھی صبر و استقامت کی پیکر ان خواتین کی جرأت اور ہمت گھر کی چہار دیواریوں میں صدیوں سے بند خواتین کے لیے کس قدر حوصلہ مندی اور ترغیب کی مثال بن رہی ہیں۔
ہو سکتا ہے دھرنا دینے والوں کو دبانے اور پیچھے دھکیلنے میں حکمران اور ان کے ساتھی ریاستی مشنری قانون اور انصاف کے ہتھیار استعمال کر کے کامیاب ہو جائیں لیکن ان دھرنوں کے ہماری قومی زندگی پر جو مثبت بلکہ باغیانہ اثرات پڑ رہے ہیں شاید ان کے مضمرات کا اس کلاس کو اندازہ نہ ہو۔
ڈی چوک کے دھرنوں سے عوام کے ذہنوں میں جو بغاوت جنم لے رہی ہے، اگرچہ اس کا نشانہ چند افراد بنتے نظر آ رہے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ بغاوت اس پورے VIP سیٹ اپ کی چولیں ہلا رہی ہے جو آج کل جمہوریت کی کمین گاہ میں چھپنے کی کوشش کر رہا ہے اگرچہ بظاہر یوں لگ رہا ہے کہ ریاستی طاقت دھرنوں پر غالب آ رہی ہے لیکن ان دھرنوں نے عوام کے ذہنوں، عوام کے جذبات میں جو آگ لگائی ہے، اس کی تپش کا اندازہ کرنا ہو تو ذرا عوام کی گندی اور بدبودار بیٹھکوں عوام کی گندی اور بدبودار بستیوں عوام کی بسوں، بسوں کے اڈوں، عوام کی چٹائی مارکہ ہوٹلوں میں جا کر دیکھو کہ ''کہتی ہے تجھ کو خلق خدا غائبانہ کیا''؟ اگر اس پر یقین نہ ہو تو ریفرنڈم کرا لو مڈٹرم انتخابات کرا لو۔ پھر دیکھو کہ عوام نے تمہیں کس مقام پر کھڑا کر دیا ہے۔
دھرنوں نے عوام میں جرأت اظہار کس طرح پیدا کر دی ہے اس کی دو تازہ مثالیں ہمارے سامنے ہیں اور ایسی مثالیں اتنی بڑی تعداد اور قدم قدم پر دیکھی جا سکیں گی کہ یہ دو تازہ مثالیں باسی نظر آئیں گی۔ ہو سکتا ہے کہ اس کالم کی اشاعت تک ایسی مثالوں کی لائن لگ جائے۔ پہلی مثال پی آئی اے کی اس فلائٹ کی ہے جس میں ملک کی سب سے بڑی VIP فیملی سفر کر رہی تھی لندن جانے والی اس پرواز کی VIP سواریوں کے ساتھ ان کی ملازمہ بھی شامل تھی اپنی روایتی شان نے غالباً ان VIP سواریوں کو اس بات کی اجازت نہیں دی کہ ملازمہ کے لیے بھی بزنس کلاس کا ٹکٹ لے کر ملازمہ کو اپنے ساتھ بٹھائیں۔ لیکن ہو سکتا ہے کہ فلائٹ میں VIP سواریوں کو خدمت گزار ملازمہ کی ضرورت پیش آ گئی ہو۔
سو فلائٹ کے اصولوں کو VIP روایت کے مطابق توڑ کر ملازمہ کو اکانومی کلاس سے بزنس کلاس میں بلا لیا گیا۔ فلائٹ کے جرأت مند پائلٹ کو جب کریو نے VIP کے اس کارنامے کی اطلاع دی تو پائلٹ نے ملازمہ کو بزنس کلاس سے اٹھا کر اکانومی کلاس میں بٹھا دیا۔VIP سواریوں کو پائلٹ کی یہ اصولی جسارت ہو سکتا ہے بہت توہین آمیز لگی ہو لیکن اس توہین کو شیر مادر سمجھ کر پینے کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا کیونکہ اگر یہاں بھی شہنشاہیت دکھائی جاتی تو پھر جہاز کے سارے پیسنجروں کے اشتعال کا سامنا کرنا پڑتا اور بدقسمتی سے جہاز میں نہ پولیس ہوتی ہے نہ رینجرز نہ ایف سی جو ان کی مدد کو آتی۔
اس حوالے سے دوسری مثال کراچی ایئرپورٹ کی ہے۔ فلائٹ پی کے 370 کے مسافر فلائٹ کے لیٹ ہونے پر بھنائے بیٹھے تھے جب فلائٹ میں دو گھنٹے سے زیادہ تاخیر ہو گئی تو مسافروں نے عملے سے اس تاخیر کی وجہ پوچھی جب انھیں بتایا گیا کہ پی پی کے رحمن ملک اور مسلم لیگ (ن) کے وفاقی وزیر رمیش کمار اس فلائٹ سے سفر کرنے والے ہیں جو ابھی تک ایئرپورٹ نہیں پہنچے۔
جب مسافروں کو ان اکابرین کی VIP حرکت کا پتہ چلا تو اس قدر مشتعل ہو گئے کہ جیسے ہی رحمٰن ملک اور رمیش کمار جہاز پر پہنچے تو انھیں مشتعل مسافروں نے جہاز سے نکال دیا، یوں فلائٹ نمبر پی کے 370 ان دوVIP اکابرین کے بغیر اپنی منزل کی طرف چلی گئی۔ ہو سکتا ہے ان دو واقعات کو زیادہ اہمیت نہ دی جائے لیکن یہ دو واقعات عوامی بغاوت کی مون سون کے دو قطرے ہیں جن کے پیچھے ہو سکتا ہے وہ سیلاب ہو جس کی تباہ کاریاں ہم ٹی وی پر ہر روز دیکھ کر دہل رہے ہیں۔ یہ واقعات ڈی چوک میں لگی آگ کی چنگاریاں بھی ہو سکتی ہیں۔