سندھ میں ڈی این اے لیبارٹری کا قیام ضروری ہے نادیہ گبول

محکمہ صحت نے بھی لیبارٹری کے قیام کیلیے سمری وزیراعلیٰ کو بھجوائی، ڈاکٹر سریش کمار


Staff Reporter September 28, 2012
جن جرائم میں ڈی این اے ٹیسٹ کی ضرورت ہوتی ہے اس کو فی الوقت کیمیائی تجزیہ کیلیے لاہور بھیجنا پڑتا ہے۔ نادیہ گبول۔ فوٹو فائل

صوبے میں ہونیوالے جرائم خصوصاً قتل، ریپ و دیگر سنگین نوعیت کے مقدمات میں انصاف کی جلد فراہمی کیلیے سندھ میں بھی ڈی این اے ٹیسٹ لیبارٹری کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے۔

یہ بات کوآرڈینیٹر برائے انسانی حقوق سندھ نادیہ گبول نے اپنے دفتر میں منعقدہ اجلاس میں کہی جو کہ صوبہ سندھ میں ڈی این اے ٹیسٹ لیبارٹری کے قیام کے حوالے سے منعقد کیا گیا تھا، انھوں نے کہا کہ جن جرائم میں ڈی این اے ٹیسٹ کی ضرورت ہوتی ہے اس کو فی الوقت کیمیائی تجزیہ کیلیے لاہور بھیجنا پڑتا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ گورنر سندھ نے بھی صوبے میں ڈی این اے ٹیسٹ لیبارٹری کے قیام کی ضرورت پر زور دیا ہے، انھوں نے کہا کہ لیبارٹری کے قیام کے حوالے سے فنڈز کے حصول کیلیے انٹرنیشنل ڈونر ایجنسیز سے بات چیت جاری ہے، ڈائو یونیورسٹی کے پرووائس چانسلر ڈاکٹر عمر فاروق نے لیبارٹری کے قیام کیلیے ڈائو یونیورسٹی / اوجھا سینی ٹوریم میں جگہ کی فراہمی کی بھی پیشکش کی۔

اسپیشل سیکریٹری صحت ڈاکٹر سریش کمار نے کہا کہ محکمہ صحت سندھ کی جانب سے بھی ڈی این اے ٹیسٹ لیبارٹری کے قیام کیلیے سمری وزیراعلیٰ سندھ کو بھجوائی گئی ہے، میٹنگ کے دیگر شرکا میں ڈائریکٹر لیب ڈی یو ایچ ایس پروفیسر ڈاکٹر رفیق خانانی، ڈی ایس پی (سی آئی اے) عثمان اصغر، ڈپٹی سیکریٹری لا / محکمہ انسانی حقوق محمد اسلم شیخ کے علاوہ ڈائریکٹر ہیومن رائٹس ڈاکٹر معیز الدین بھی شامل تھے۔

مقبول خبریں