شام فوج کی بمباری اور جھڑپیں مزید 59افراد ہلاک 7لاکھ شہریوں کی نقل مکانی کا امکان

مرنے والوں میں 38 شہری، 16 فوجی اور 5 باغی شامل، جنگجوئوں کا حلب پر کنٹرول حاصل کرنے کیلیے فیصلہ کن حملہ کرنیکا اعلان


AFP September 28, 2012
مرنے والوں میں 38 شہری، 16 فوجی اور 5 باغی شامل، جنگجوئوں کا حلب پر کنٹرول حاصل کرنے کیلیے فیصلہ کن حملہ کرنیکا اعلان. فوٹو اے ایف پی

شام میں صدر بشار الاسد کی حامی سرکاری فوج نے شورش زدہ شہر حلب میں باغیوں کے ٹھکانوں پر شدید بمباری کی ہے۔

جبکہ پورے ملک میں جھڑپوں میں ایک بچے سمیت مزید59 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے، مرنے والوں میں 38 شہری، 16 فوجی اور 5 باغی شامل ہیں، حلب میں باغیوں کے ٹھکانوں پر بمباری میں ایک شخص ہلاک ہوگیا۔ دریں اثناء صوبہ حمص، دیر الزور، لتاکیہ میں بھی باغیوں اور فوج میں جھڑپیں ہوئی ہیں، حما میں فائرنگ سے ایک بچہ جاں بحق ہوگیا، شام میں بدھ کے روز بھی 305 افراد ہلاک ہوگئے تھے جو 18 ماہ سے جاری بغاوت کے دوران ایک دن میں سب سے زیادہ ہلاکتیں ہیں۔

باغیوں نے اعلان کیا ہے کہ اس مرتبہ حلب پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے فیصلہ کن حملہ کیا جائے گا جس میں یا تو ہم فاتح ہونگے یا پھر ہمیں شکست ہوگی۔ بی بی سی کے مطابق پناہ گزینوں کیلیے اقوامِ متحدہ کے ادارے نے خبردار کیا ہے کہ رواں سال کے اختتام تک شام سے نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد 7 لاکھ تک پہنچنے کا امکان ہے۔ یو این ایچ سی آر کے مطابق تین لاکھ کے قریب شامی باشندے پہلے ہی ملک چھوڑ چکے ہیں۔ نقل مکانی کرنے والے زیادہ تر پناہ گزین ترکی، لبنان اور اردن میں قیام پذیر ہیں۔