12اکتوبر کشمکش کے 15سال آخری حصہ

ہمارے یہاں فوجی آمریتوں کی عمر دراز رہی ‘ ان ہی دورِ اقتدار میں دوران مشرقی پاکستان پر لشکر کشی ہوئی۔


Zahida Hina October 15, 2014
[email protected]

جنرل مشرف کی آمریت کے خلاف اکتوبر 1999سے چلنے والی مزاحمت کے لیے دسمبر 2007 میں بی بی کی شہادت ایک بڑا سانحہ تھا ۔ لوگوں کو یہ دھڑکا لگا ہوا تھا کہ کہیں انتخابات کا بستر نہ لپٹ جائے اور جمہوریت بحال ہونے کی جو اُمید بندھی ہے وہ دم نہ توڑ دے ۔ اس مرحلے پر جناب آصف زرداری اور میاں نواز شریف کا سیاسی تدبر کام آیا ۔

انتخابات چند ہفتوں کے لیے ملتوی ضرور ہوئے لیکن منسوخ نہیں ہوئے ۔انتخابات میں میاں نواز شریف کو شرکت کی اجازت نہیں ملی لیکن انھوں نے کسی قسم کے احتجاج یا شور شرابے کے بغیر جمہوریت کی بحالی کو اقتدار پر ترجیح دی ۔ پانچ برس تک پارلیمنٹ سے باہر بیٹھ کر انھوں نے جمہوریت کے استحکام کے لیے ہر ممکن کوشش کی ۔ ان کوششوں میں عدلیہ کی بحالی کے لیے وکیلوں کی فقید المثال تحریک نے حصہ ڈالا۔ صحافیوں نے اپنے قلم سے مسلسل جدو جہد کی اور اس راہ میں کئی اپنی جان سے گئے اور اس کے بعد ہی یہ ممکن ہوسکا کہ ہم اکتوبر 1999 میں ایک منتخب حکومت پر شب خون مارنے والے سورما سے نجات حاصل کرسکے ۔ یہ ہمارے وہ سورما تھے جن کے حوالے سے میں نے 11دسمبر 2009 کو لکھا:

''ہمارے یہاں فوجی آمریتوں کی عمر دراز رہی ' ان ہی دورِ اقتدار میں دوران مشرقی پاکستان پر لشکر کشی ہوئی اور ملک دو لخت ہوا ' سیاچن ہمارے ہاتھ سے گیا ' کارگل کے مسئلے پر رسوائی ہوئی ' ہمارے ایک وزیر اعظم کو پھانسی دی گئی ' دو مقبول اور منتخب وزرائے اعظم جلاوطن کیے گئے ۔ میاں نواز شریف تو دو مرتبہ جلاوطنی کے عذاب سے گذرے ۔ ہمارے دونوں سابق وزرائے اعظم اپنی مرضی سے وطن سے باہر نہیں گئے ۔

نہ ہی واپس آنے کی اجازت ''مرحمت خسروانہ'' کے طور پر ملی اور اس کے ساتھ بھی شرائط نتھی تھیں ۔ یہ خواص کے انسانی حقوق کی پامالی کی کہانی ہے ۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ عوام پر بہ طور خاص ہماری عورتوں' بچوں اور اقلیتوں پر کیا گذری ہوگی جو اس سماج کے نہایت کمزور طبقات ہیں ۔ ہمارے یہاں اپنی پسند سے شادی کرنے والیاں اور ان کے شریک حیات قتل کردیے جاتے ہیںاور ان کے قاتلوں کے خلاف پولیس پرچہ نہیں کاٹتی ۔

شہری اور بہ طور خاص دیہی عورتیں بد ترین تشدد کا نشانہ بنتی ہیں ' ان کے کان اور ناک کاٹ دی جاتی ہے ۔ ان کے چہروں پر تیزاب ڈال کر ان کی صورت مسخ کردی جاتی ہے ۔ آزادی افکار پر اور اجتماع کے حق پر یہاں پابندی رہی ' ٹریڈ یونین اور دوسری سیاسی اور سماجی سرگرمیاں یہاں جرم سمجھی گئیں اور ان کا ارتکاب کرنے والے سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیے گئے ۔ ملازمت ' تعلیم ' صحت ' بچوں کے حقوق اورمادری حق فراہم کرنے کے معاملات ہماری حکومتوں کی ترجیح میں کبھی شامل نہیں رہے اور اب ہمارے لوگ دہشت گردوں کا نوالہ ہیں ۔ ''

اکتوبر1999میں آنے والے یہ سورما در اصل ضیا شاہی کا تسلسل تھے ۔ موت جہاز کے پروں پر بٹھا کر جنھیں اپنے ساتھ لے گئی لیکن انھوں نے انتہا پسندی کا جو بیج بویا تھا اس کی فصل اب لہلہا رہی ہے ۔ وہ انتہا پسند گروہ جنھیں ہمارے سٹرٹیجک اثاثے کا نام دیا جاتا ہے انھوں نے دہشت گردی کی انتہا کردی ۔ ہماری لڑکیوں کے سیکڑوں اسکول بموں سے اڑا دیے گئے ۔ قبائلی اور دور دراز علاقوں میں ہماری عورتوں سے ووٹ کا حق چھینا گیا ' انتخابات میں ان کے کھڑے ہونے پر پابندی عائد ہوئی اور جب چند باہمت عورتوں نے ان کے حکم سے سرتابی کی تو وہ دن دھاڑے قتل کردی گئیں ۔مذہبی انتہا پسندی کے پھیلاؤ نے پاکستان کے کثیر المشرب سماج کا چہرہ مسخ کردیا ۔

اب دنیا کو پاکستانیوں سے خوف محسوس ہوتا ہے ۔ ہماری معیشت ' تجارت ' خارجہ تعلقات سب ہی اس خونیں آندھی کی زد میں آچکے ہیں ۔ ہمارے طالب علموں کو باہر کی یونیورسٹیوں میں داخلے نہیںملتے ۔ ہمارے یہاں نئی صنعتیں کیا لگتیں ' لگی ہوئی صنعتیں بنگلہ دیش اور دوسرے ملکوں کو منتقل ہو رہی ہیں ۔ بیروزگاری' افراط زر اور مہنگائی نے گھروں کے چولہے بجھا دیے ہیں ۔ کلاشنکوف کلچر اور منشیات کا زہر بھی انتہا پسندی کے ساتھ آیا ۔ ہماری نوجوان نسل سے تفریح کے مواقعے چھن گئے اور جہاد کے لیے ان کی بھرتی کھلے بندوں ہونے لگی ۔ والدین اپنے بیٹوں' بیویاں اپنے شوہروں اور بچے اپنے باپوں سے محروم ہوگئے ۔ ایک عفریت ہے جس نے جنرل ضیاء الحق کی لیبارٹری میں جنم لیا اور اب وہ عفریت ہمارے گھروں تک آپہنچا ہے ۔''

2013کے انتخابات اس حوالے سے نہایت اہم تھے کہ ایک منتخب جمہوری حکومت اپنا عرصۂ اقتدار پورا کرنے کے بعد دوسری سیاسی جماعتوں کے ساتھ انتخابات میں حصہ لے رہی تھی ' یہ تسلسل ان لوگوں کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح کھٹک رہا تھا جنھیں جمہوری نظام میں اپنا اور اپنے اداروں کا یکسر گھاٹا نظر آتا ہے ۔ یہی وجہ تھی کہ جنرل(ر) پرویز مشرف نے جمہوری دوڑ میں حصہ لینے کے لیے پاکستان کی سرزمین پر قدم رنجہ فرمایا ۔ اس بارے میں 25 مارچ 2013 کو میرا موقف تھا کہ :

'' اسے دیدہ دلیری نہیں تو کیا کہا جائے کہ ملک کو انتہا پسندی کے جہنم میں دھکیلنے والے سابق فوجی آمر فاتحانہ انداز میں کراچی ایئرپورٹ پر اترے ہیں اور دعویٰ کررہے ہیں کہ وہ پاکستان بچانے آئے ہیں ۔ اس ایئرپورٹ پر قدم رکھتے ہوئے انھیں 12 مئی کا وہ سیاہ دن تو بھلا کیوں یاد آیا ہوگا جب ان کے اشارے پر محترم چیف جسٹس جناب افتخار احمد چوہدری اسی کراچی ایئرپورٹ سے باہر نہ آسکے تھے اورگھنٹوں محصور رہنے کے بعد واپس چلے گئے ، سڑکیں راتوں رات کھودی گئیں ،اور شہر خون میں نہلا دیا گیا تھا۔ انھیں تو شایدکچھ بھی یاد نہ ہو لیکن ہمیں یاد ہے سب ذرا ذرا ۔ ہمیں شہید اکبر بگٹی، بے نظیر بھٹو اور ہزاروں بلوچ نوجوانوں کا خونِ ناحق یاد ہے ۔

لال مسجد کا سانحہ اور امریکا کی نام نہاد دہشت گردی کی عالمی جنگ کو پاکستان کی سرحدوں میں کھینچ لانے کا جرم ہم کیسے بھول سکتے ہیں ۔ آج وہ صاحب جو پاکستان بچانے کا نعرہ لگارہے ہیں ان کے حامیوں سے کوئی یہ تو پوچھے کہ جب امریکی وزیر دفاع کے ایک فون پر انھوں نے امریکا کی افغان جنگ میں امریکی اتحادی ہونے کا اقرار کیا تھا تو اس وقت وہ پاکستان بچا رہے تھے یا اسے پتھر کے دور میں دھکیل رہے تھے ؟''

ہم جس طرح انتہا پسندی اور دہشت گردی کی دلدل میں دھکیلے گئے اس بارے میں 30 دسمبر 2013 کو میں نے اپنا نقطۂ نظر کچھ یوں بیان کیا کہ : ''ہم پریہ مصرعہ صادق آتا ہے کہ 'سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے '۔ ہم نے خود کو مسلم امہ کا محافظ اور رہنما فرض کرلیا ہے اور اس 'درد جگر' نے ہمیںتباہ وبرباد کردیا ۔ ابھی کچھ برسوں پہلے کی بات ہے کہ ہم لال قلعے پر سبز ہلالی پرچم لہرانے کو اپنے ایمان کا حصہ سمجھتے تھے ۔ پھر ہم سوویت یونین سے کفر کا نظام ختم کرنے کے مشن پر کمر بستہ ہوگئے ۔ طالبان کو افغانستان میں برسر اقتدار لانا ہمارا مقصد ہوگیا ۔ اسی حوالے سے ہمیں انتہا پسند عالمی تنظیموں اور ان کے رہنماؤں کی میزبانی کا شوق ہوا ۔

غرض ہمارے منصوبہ سازوں کی نظر چاروں طرف تھی ۔لیکن انھوں نے اپنے کروڑوں عوام کی حالت زار پر ذرا بھی غورنہیں کیا۔ اللہ اللہ ۔ ہم دنیا کو راہ راست دکھانے کے مشن پر تھے اور اپنے گھر کی طرف نگاہ بھر کر نہ دیکھا کہ ایک خوشحال اور شاندار قوت نمو رکھنے والا ملک کس تیزی سے انتشار اور خلفشار کا شکار ہورہا ہے ۔ ہمیں جنگیں لڑنے کا شوق ہمیشہ سے رہا ۔ 65 برس کی مدت میں 4 چھوٹی بڑی جنگیں، جبر الٹر اور کارگل ایڈونچر ۔ دہشت گردی کے عفریت کو ہم سرخوشی کے عالم میں اپنی سرحدوں کے اندر کھینچ لائے ۔ گزشتہ 10 برسوں کے دوران چالیس سے پچاس ہزار شہریوں اور فوجیوں کی شہادتیں ، ان گنت بستیوں کی تباہی ، لاکھوں لوگوں کی اپنے گھروں اور اپنے ذریعۂ روزگار سے محرومی اور ملکی معیشت کو کھربوں روپے کا نقصان ہمارا مقدرہوا ۔''

جمہوریت پسند پاکستانیوں سے زیادہ کون اس بات پر خوش ہوگا کہ 2008 کو پیپلز پارٹی کی جو منتخب حکومت برسر اقتدار آئی اس نے خدا خدا کر کے اپنی مدت پوری کی اور 2013میں دوسری منتخب حکومت کو اقتدار منتقل کیا ۔ہمارے لیے یہ ایک تاریخی واقعہ تھا ' لیکن ابھی کچھ ہی دن گزرے تھے کہ اس جمہوری دور کا بستر لپٹنے کے لیے ایک ایسا ناٹک رچایا گیا جس کو کچھ حلقوں کی آشیرباد حاصل تھی ۔ یہ ناٹک اس وقت بھی اسلام آباد میں جاری ہے لیکن اب اس کے تمام اداکاروں کا سانس اکھڑ گیا ہے ۔ جھوٹ کے طومار باندھنے والے ان لوگوں کو اب یہ بھی یاد نہیں رہتا کہ کل انھوں نے کیا فرمایا تھا اور پچھلے ہفتے وہ کیا دعویٰ کر رہے تھے ۔

منتخب حکومت کو اس کے تحمل پر داد ملنی چاہیے لیکن اس سے کہیں زیادہ مبارکباد پارلیمنٹ اور ان تمام سیاسی جماعتوں کو ملنی چاہیے جنہوں نے اختلافات اور گلے شکوے بھل اکر اپنا وزن جمہوریت کے پلڑے میں ڈال دیا ۔ یہ ان سب کا تدبر ' تحمل اور جمہوریت نوازی تھی جس نے آمریت دوست اور انتہا پسند گروہوں سے درپردہ روابط رکھنے والوں کو اپنے بال نوچنے پر مجبور کردیا ہے ۔ 1999سے 2014کا سفر بہت کٹھن رہا ہے اور اس وقت بھی سنبھل سنبھل کر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے ۔ آمریت ہمارے یہاں کچھ لوگوں کے لیے نوشِ دارو کی حیثیت رکھتی ہے لیکن جمہوریت کے لیے کار فرہاد کرنے والوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ آخری فتح فرہاد کی ہوتی ہے اور پرویز کو پسپا ہوتے بنتی ہے ۔

مقبول خبریں