سرنگ

فاشزم اگرچہ دھڑوں میں بٹا ہوا ہے لیکن ان سارے دھڑوں کا مشترکہ ہدف اس انسانی تہذیب کو ملیا میٹ کرنا ہے۔


Zaheer Akhter Bedari October 18, 2014
[email protected]

دنیا اپنے طویل تاریخی سفر کے دوران ہٹلر، مسولینی سمیت مختلف فاشزم کے ادوار سے گزرتی رہی ہے لیکن آج دنیا کو جس خطرناک ترین مذہبی فاشزم کے خطرے کا سامنا ہے یہ خطرہ سولہویں صدی کے کلیسائی فاشزم سے زیادہ شدید اور سنگین ہے۔ کلیسائی فاشزم کا دائرہ کار یورپ تک محدود تھا اور یورپ کے عوام ہی اس فاشزم سے متاثر تھے لیکن آج مذہبی انتہا پسندی کی شکل میں دنیا کو جس سنگین ترین خطرے کا سامنا ہے وہ دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پھیلا ہوا ہے اور اس کے اندھے پن کا عالم یہ ہے کہ خود مسلمان اس فاشزم کا سب سے زیادہ شکار ہو رہے ہیں۔

صرف پاکستان میں اس بے ہنگم مذہبی فاشزم کا 50 ہزار بے گناہ عوام شکار ہو چکے ہیں۔ یہ فاشزم اگرچہ دھڑوں میں بٹا ہوا ہے لیکن ان سارے دھڑوں کا مشترکہ ہدف اس انسانی تہذیب کو ملیا میٹ کرنا ہے جو ہزاروں سال کی ارتقائی کاوشوں کے بعد تشکیل پائی ہے اور یہ تہذیب مذہب، رنگ، نسل،ذات، قوم و ملک کے اختلافات کے باوجود دنیا کے سارے انسانوں کی مشترکہ میراث ہے۔ اس فاشزم کے پھیلاؤ اور نیٹ ورک نے ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ اور اس حوالے سے جو مذہبی ردعمل کی کیفیت پیدا ہو رہی ہے اگر اس کی سنگینی کا اندازہ نہ کیا گیا اور بروقت اس کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات نہ کیے گئے تو پھر اس کو روکنا شاید ممکن نہ رہے۔

آج کی تازہ خبر کے مطابق جرمنی کے شہر بارڈسالز میں ''نامعلوم'' افراد نے ایک مقامی مسجد پر حملہ کر کے اسے آگ لگا دی تاہم فوری کارروائی کر کے مسجد میں موجود 9 نمازیوں کو بچا لیا گیا، اس حوالے سے دوسرا افسوس ناک واقعہ ریاست ڈاؤن ساکوینا کے شہر ''ڈیل'' میں پیش آیا جہاں ''نامعلوم'' افراد نے مقامی مسجد کے امام کے سامنے خنزیر کا کٹا ہوا سر رکھ دیا۔

اگرچہ ان واقعات کی ذمے داری ''نامعلوم افراد'' پر ڈالی گئی ہے لیکن یہ افراد نامعلوم تو ہو سکتے ہیں لیکن ان کا کارنامہ ہرگز نامعلوم نہیں بلکہ واضح طور پر معلوم ہے اور وہ ہے جوابی مذہبی منافرت جسے اسی جگہ نہ روکا گیا تو یہ منافرت پہلی اور دوسری عالمی جنگوں سے زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ اس حوالے سے المیہ یہ ہے کہ مٹھی بھر مذہبی انتہا پسندوں کی انتہا پسندی کو مسلمانوں کی اجتماعی مذہبی انتہا پسندی سمجھ لیا گیا ہے اور اسی غلط فکر کے حوالے سے دنیا بھر میں مسلم کمیونٹی مسلمانوں کی عبادت گاہوں کے خلاف افسوسناک کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔ جرمنی میں پیش آنے والے دونوں المیے اسی غلط فکر کا حصہ ہیں۔

اگرچہ مذاہب کی تاریخ کا ہر صفحہ خون انسانی میں ڈوبا ہوا ہے لیکن آج کے دور کی مذہبیت جس وحشت ناک راستے پر چل پڑی ہے اس کا سب سے بڑا اور فاشسٹ ہدف یہ ہے کہ وہ دہشت گردی کے ذریعے دنیا پر اپنا نظام مسلط کرنا چاہتی ہے۔ اس پس منظر میں اس حقیقت کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یہ سنگین خطرہ محض کسی ملک و قوم کے لیے نہیں بلکہ کرہ ارض سانس لینے والا ہر انسان اس خطرے کی زد میں ہے۔ جب ہم اس کی سفاکی کو سمجھ لیتے ہیں تو پھر یہ ہماری یعنی دنیا کے تمام ملکوں تمام انسانوں کی ذمے داری ہی نہیں بلکہ فرض بن جاتا ہے کہ وہ اس عفریت کا مشترکہ طور پر مقابلہ کرنے کی منصوبہ بندی کریں۔

امریکا اور مغربی ممالک اگرچہ اس دہشت گردی کے خلاف مشترکہ جنگی کارروائیاں کر رہے ہیں لیکن ساتھ ہی ساتھ یہ اعتراض بھی کر رہے ہیں کہ اس بلا کا مقابلہ نہ آسان ہے نہ اس سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے کسی ٹائم فریم کا تعین ممکن ہے۔ امریکا کے صدر اوباما بار بار یہ فرما رہے ہیں کہ اس خوفناک عفریت کا مقابلہ دنیا متحد ہو کر ہی کر سکتی ہے۔

اوباما اس حوالے سے ایک بڑا اتحاد بنانے کی اپیل بھی کر رہے ہیں لیکن قومی مفادات اور 9/11 کے بعد دہشت گردی کے خلاف مہم کے نتائج سے مایوس ممالک اوباما کی اپیل پر لبیک کہنے کے بجائے اس اتحاد میں شرکت سے انکار کر رہے ہیں جس کی ایک بڑی مثال بھارت ہے جس کے وزیر اعظم نریندر مودی نے امریکی صدر سے صاف طور پر کہہ دیا ہے کہ وہ ایسے کسی اتحاد میں شریک ہونے کے لیے تیار نہیں۔ بھارت کا یہ طرز عمل ہو سکتا ہے اس کے قومی مفاد سے ہم آہنگ ہو لیکن ساری دنیا کو اس حوالے سے جو سنگین خطرہ لاحق ہو گیا ہے اس سے بھارت کا طرز عمل ہرگز ہم آہنگ نہیں ہے۔

دہشت گردوں کی تنظیم داعش جس تیزی اور کامیابی سے کارروائیاں کر رہی ہے اور اسے روکنے کے لیے مغربی ملک جو فضائی کارروائیاں کر رہے ہیں ان کی ناکامی کا اندازہ عراق اور شام سمیت کئی افریقی ملکوں میں داعش کی کامیاب پیش قدمی سے کیا جا سکتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ منظم منصوبہ بندی کے ساتھ ساتھ خودکش حملوں کے جس ہتھیار کو مذہبی انتہا پسند استعمال کر رہے ہیں اس کا مقابلہ آسان نہیں لیکن امریکا اور اس کے اتحادی اگر اینٹی میزائل شکن نظام ایجاد کر سکتے ہیں اور روایتی جنگوں کے نئے نئے طریقے اور ہتھیار ایجاد کر سکتے ہیں تو کیا دہشت گردی کے خلاف کوئی منظم منصوبہ بندی اور حکمت عملی کی تشکیل ممکن نہیں؟

بعض حلقوں میں بجا طور پر یہ خدشات پائے جاتے ہیں کہ سرمایہ دارانہ نظام کی تباہ کاریوں کے خلاف دنیا بھر میں جو نفرت اور اشتعال بڑھ اور پھیل رہا ہے اس کا رخ موڑنے اور عوام کی توجہ اس ظالمانہ استحصالی نظام کی طرف سے ہٹانے کے لیے خود سرمایہ دارانہ نظام کے سرپرستوں نے یہ عفریت پیدا کیا ہے اس قسم کے خدشات پر شک اس لیے نہیں کیا جا سکتا کہ اس سے قبل مغربی ملکوں نے اصل مسائل سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے بہت سے نقلی اور جعلی مسائل پیدا کیے ہیں۔

لیکن ان خدشات کے باوجود اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ آج کا مذہبی فاشزم نہ صرف ساری دنیا کے لیے ایک سنگین مشترکہ خطرہ ہے بلکہ اگر اس فاشزم کو نہ روکا گیا تو ہزاروں سال میں تشکیل پانے والی وہ تہذیب و تمدن تباہ ہو جائے گا اور اگر خدانخواستہ ایسا ہوا تو دنیا ایک ایسے جنگل میں بدل جائے گی جہاں زندہ رہنے اور زندگی گزارنے کے لیے کوئی ضابطہ، کوئی قانون، کوئی دستور باقی نہیں رہے گا، یہ کوئی تصوراتی خطرہ نہیں بلکہ عقل و فہم کی روشنی میں یہ ایک ایسا عین ممکن خطرہ ہے جس کی کامیابی کے امکانات سے انکار ممکن نہیں۔ اس حقیقت کے پیش نظر یہ ضرورت ناگزیر ہے کہ لاتفریق مذہب و ملت ساری دنیا متحد ہو کر اس خطرے کا مقابلہ کرے۔

اس عفریت کی پیش بندی اور منظم منصوبہ بندی کا اندازہ اس تازہ واقعے سے کیا جا سکتا ہے کہ کراچی سینٹرل جیل میں قید دہشت گردوں کو فرار کرانے کے لیے کراچی سینٹرل جیل سے ملحق آبادی غوثیہ کالونی کے ایک مکان سے ایک 45 میٹر لمبی ایسی سرنگ تیار کی گئی جو جیل کی بیرک نمبر 25 اور 26 تک جاتی تھی جن میں سنگین نوعیت کے دہشت گرد قید ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ مطلوبہ اہداف تک پہنچنے کے لیے ابھی صرف 10 میٹر کی کھدائی باقی تھی یعنی تین چوتھائی سے زیادہ لمبی سرنگ تیار کر لی گئی تھی۔

اگرچہ 45 میٹر کی کھدائی کے بعد رینجرز نے چھاپہ مار کر اپنے کام میں مصروف دہشت گردوں کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس جیل پر ممکنہ حملے کی بار بار اطلاع کے باوجود جیل کے اردگرد کی بستیوں پر نظر کیوں نہیں رکھی گئی؟ ہماری بے شمار سیکیورٹی ایجنسیاں کیا سوتی رہتی ہیں یا نشہ کرتی ہیں کہ انھیں اس قدر بڑی کارروائی کی ہوا تک نہیں لگتی؟ یہ 45 میٹر یعنی لگ بھگ 150 فٹ لمبی سرنگ ہفتہ دو ہفتے میں تو نہیں کھودی جا سکتی یقیناً مہینوں سے کھدائی کا کام ہو رہا ہو گا، پھر بھی ہماری خفیہ ایجنسیوں کو اس کی خبر نہ ہو سکی؟ یہ ایک اتنا بڑا سوال ہے۔

جس کا جواب محض خفیہ ایجنسیوں تک محدود نہیں ہو سکتا بلکہ مرکزی اور صوبائی حکومتوں سے اس مجرمانہ غفلت کا جواب طلب کیا جانا چاہیے۔ یہ سرنگ محض کراچی کی سینٹرل جیل میں محبوس دہشت گردوں کی رہائی تک محدود نہیں بلکہ یہ سرنگ ہزاروں سال میں تیار ہونے والے تہذیب کے محل تک جاتی ہے اور اس محل کو بچانا انسانوں کی اجتماعی ذمے داری ہے۔

مقبول خبریں