محکوم عوام اور علامہ اقبال

ہمارے سیاسی اکابرین اور صلح پسند لوگ انسانی حقوق کی تنظیمیں عوام کو قانون ہاتھ میں لینے سے منع کرتے ہیں۔


Zaheer Akhter Bedari October 26, 2014
[email protected]

MANSEHRA: پچھلے دنوں کراچی کے ایک علاقے میں پانی کی قلت سے تنگ آئے ہوئے عوام واٹر بورڈ کے دفتر پہنچ گئے اور نعرے بازی شروع کر دی، عوام کے اشتعال سے خوف زدہ چیف انجینئر اپنی میز کے نیچے چھپ گئے، مشتعل عوام جب چیف انجینئر کے کمرے میں گھسے تو انھیں چیف انجینئر نظر نہیں آیا اوہ اسے ڈھونڈ رہے تھے کہ دفتر کے ایک غریب بندے نے عوام کو اشارے سے بتایا کہ صاحب میز کے نیچے چھپے ہوئے ہیں۔ پھر کیا تھا عوام نے چیف صاحب کو پکڑ کر باہر نکال لیا، چیف انجینئر کا مارے خوف کے برا حال تھا، وہ ہاتھ جوڑ کر گڑگڑا کر عوام سے معافی مانگنے لگا۔

یہ چیف انجینئر کی نااہلی کا ایک واقعہ تھا، عام حالات میں ایک غریب آدمی کا چیف انجینئر سے ملنا ہی کارِ دارد ہوتا ہے لیکن جب پیاس سے تنگ آئے ہوئے عوام ہجوم کی شکل میں کسی بڑے افسر کے دفتر میں گھس جاتے ہیں تو بڑے افسروں کو اپنی جان بچانے کے لیے اپنی ہی میزوں کے نیچے چھپنا پڑتا ہے، دفتر کے جس غریب ملازم نے اشارے سے ہجوم کو صاحب کا پتہ بتایا وہ بھی صاحب کا ستایا ہوا ہی ہو گا۔ جب بکھرے ہوئے عوام ہجوم بن جاتے ہیں تو طاقت کا سرچشمہ بن جاتے ہیں اور اس طاقت سے خوف زدہ فرعون اپنی جان بچانے کے لیے اپنی میزوں کے نیچے سانس روک کر پناہ لیتے ہیں۔

پچھلے دنوں ہمارا گزر ایک راستے سے ہوا جہاں لوگوں کا ہجوم تھا، ہجوم کے درمیان کوئی شخص تھا جس کے کپڑے پھٹے ہوئے تھے اور لوگ اس کی پھینٹی لگا رہے تھے، وہ ہاتھ جوڑ کر معافی مانگ رہا تھا لیکن ہجوم اس کی معافی قبول کرنے کے لیے تیار نہ تھا اور برابر لاتوں اور گھونسوں سے اس کی تواضع کر رہا تھا۔

دریافت پر پتہ چلا کہ وہ چور تھا اور چوری کی نیت سے گھر میں گھسا تھا کہ صاحب خانہ نے دیکھ لیا اور شور مچا دیا، لوگ جمع ہو گئے، چور کو پکڑ لیا اور اس قدر مارا کہ وہ لہو لہان ہو گیا، جب ہجوم کا دل پٹائی سے بھر گیا تو چند لڑکوں نے اس کا منہ کالا کیا اور اسے بستی میں گھماتے رہے حالانکہ اس نے چوری نہیں کی تھی چوری کی نیت سے گھر میں داخل ہوا تھا۔

آئے دن اخباروں میں چوروں، ڈاکوئوں کو پکڑنے اور ان پر اس قدر تشدد کی خبریں چھپتی ہیں کہ وہ جان سے چلے جاتے ہیں، ہمارے سیاسی اکابرین اور صلح پسند لوگ انسانی حقوق کی تنظیمیں عوام کو قانون ہاتھ میں لینے سے منع کرتے ہیں کہ قانون اور انصاف کے ادارے موجود ہیں اور قانون نافذ کرنا اور انصاف کرنا ان اداروں کی ذمے داری ہوتی ہے لیکن جب قانون اندھا اور بہرا ہو جاتا ہے اور انصاف گونگا ہو جاتا ہے تو پھر عوام قانون اور انصاف کو اپنے ہاتھ میں لے لیتے ہیں اور قانون کے مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچا دیتے ہیں۔

ہمارے قانون کا عالم یہ ہے کہ ہر شہر میں تھانے فروخت ہوتے ہیں اور تھانے خریدنے والا ایس ایچ او تھانوں پر لگائی ہوئی رقم مع سود نکالنے کے لیے جوئے کے اڈے، قحبہ خانے چلاتا ہے، چور اور ڈاکو ان کی سرپرستی میں فروغ پاتے ہیں اور انصاف کا عالم یہ ہے کہ نیچے سے اوپر تک کرپشن کی ایک چین ہے اور انصاف مظلوموں کی نسل در نسل تک لمبا ہوتا چلا جاتا ہے۔

یہی نظام ظلم عوام کو قانون اور انصاف کو اپنے ہاتھ میں لینے پر مجبور کر دیتا ہے، یہ اگرچہ اچھی روایت نہیں لیکن ایسا ہوتا ہے، ہو رہا ہے اور ایسا اس لیے ہو رہا ہے کہ عوام اس کرپٹ قانون اور انصاف کے نظام سے مایوس ہو گئے ہیں۔ چیف انجینئر انتظامی نااہلی کا مجرم تھا اور چور اور ڈکیت قانون کے مجرم تھے، چونکہ قانون اور انصاف اور حکومت ان جرائم کو روکنے میں ناکام ہو رہے ہیں اس لیے عوام قانون اور انصاف کو اپنے ہاتھوں میں لے رہے ہیں۔

ہمارے ملک میں لگ بھگ 60 فیصد آبادی زرعی معیشت سے جڑی ہوئی ہے اور صدیوں سے ہاری اور کسان وڈیروں اور جاگیرداروں کے غلام بنے ہوئے ہیں، کوئی انھیں اس غلامی سے نجات نہیں دلا پاتا کہ اس ظلم کو ختم کرنے والے اداروں پر وڈیروں اور جاگیرداروں کا قبضہ ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ وڈیرے اور جاگیردار بھی انتخابات پر سرمایہ کاری کرتے ہیں یعنی انتخابات خریدتے ہیں۔

انتخابات فروخت ہوتے ہیں اور تھانوں کے ایس ایچ اوز کی طرح وڈیرے اور جاگیردار انتخابات خریدتے ہیں اور انتخابات خریدنے پر لگایا گیا سرمایہ لوٹ مار سے واپس لیتے ہیں، جب صورت حال یہ ہو تو ہاری اور کسان وڈیروں اور جاگیرداروں کا غلام ہی رہے گا۔ لیکن ایک وقت ایسا آتا ہے کہ پانی سے محروم عوام کی طرح ہاری، کسان اور غریب عوام اس ظلم کے خلاف گھروں سے نکل آتے ہیں۔

1789ء میں فرانس میں یہی ہوا، جاگیرداروں کے ظلم سے عاجز ہاری کسان گھروں سے نکل آئے، قانون اور انصاف سے مایوس عوام نے قانون اور انصاف کو اپنے ہاتھوں میں لے لیا اور ایک ایک وڈیرے، ایک ایک جاگیردار کو ان کے محلوں سے گھسیٹ کر باہر نکالا اور فرانس کی سڑکیں ان ظالموں کے خون سے سرخ ہو گئیں۔ علامہ اقبال نے غالباً اسی ظلم کے پیش نظر کہا تھا:

جس کھیت سے دہقان کو میسر نہ ہو روزی

اس کھیت کے ہر خوشۂ گندم کو جلا دو

ہمارے ملک میں محنت کشوں کی تعداد 4 کروڑ سے زیادہ ہے، جنھیں مزدور کہا جاتا ہے۔ یہ مزدور رات دن محنت کر کے اشیائے ضرورت اور اشیائے تعیش کے ڈھیر لگاتا ہے لیکن اس کا معاوضہ اسے اتنا بھی نہیں ملتا کہ وہ اپنے بچوں کو دو وقت کی روٹی فراہم کرے۔ مالک ہر سال دو سال میں ایک نیا کارخانہ لگا لیتا ہے اور مزدور ہر سال دو سال میں ایک نیا بچہ پیدا کر کے صنعتی غلاموں میں اضافہ کرتا رہتا ہے۔

عشروں کی لڑائی اور جدوجہد کے بعد مزدوروں نے کچھ لیبر لاز حاصل کیے جن میں ٹریڈ یونین بنانے کی آزادی، ہڑتال کا حق، سودے کاری کا حق وغیرہ شامل ہیں لیکن اکیسویں صدی کے ترقی یافتہ صنعت کاروں نے ٹھیکیداری نظام قائم کر کے محنت کشوں کے سارے حق چھین لیے۔ اب مزدوروں کا حال صنعتی غلاموں سے بدتر ہے، غالباً علامہ اقبال نے محنت کشوں کی اس حالت زار کو دیکھ کر کہا تھا:

اٹھو میری دنیا کے غریبوں کو جگا دو

کاخ امراء کے در و دیوار ہلا دو

اقبال نہ غریب پسند تھے نہ انتہاپسند، لیکن کسانوں، ہاریوں، مزدوروں، غریبوں پر ہونے والے مظالم نے انھیں انتہاپسند بنا دیا اور انھوں نے دہقانوں کو اور مزدوروں کو اپنے اشعار میں وہ راستہ دکھایا جو رائج الوقت قانون اور انصاف کی نفی کرتا ہے لیکن جب حکمران طبقات غریب عوام، ہاریوں، کسانوں کے جائز حقوق کی نفی کرتے ہیں تو عوام قانون اور انصاف کی نفی کرتے ہیں اسے ہم فطری انصاف کہہ سکتے ہیں۔

آج ہمارا ملک، ہمارا معاشرہ سیاسی وڈیروں کی بے لگام لوٹ مار سے بازار مصر بنا ہوا ہے، عوام اس ظلم کے خلاف اظہار نفرت کے لیے عمران خان اور طاہر القادری کے جلسوں میں لاکھوں کی تعداد میں شریک ہو رہے ہیں، اس طبل جنگ سے لٹیرے اندر سے تو سخت خوف زدہ ہیں کہ نہ جانے یہ مظلوم کس وقت قانون اور انصاف کو اپنے ہاتھوں میں لے لیں۔

عوام عمران اور قادری کی ذات اور شخصیت کے گرد جمع نہیں ہو رہے بلکہ ظلم و استحصال کے خلاف ان کی بے باک آواز کے گرد ہجوم کر رہے ہیں۔ اگر معمولی نا اہلی کا ارتکاب کرنے والا واٹر بورڈ کا چیف انجینئر اور چوری کی نیت سے گھر میں داخل ہونے والا چور عوام کی چھترول سے نہیں بچ سکتے تو سرتا پا نااہل حکمران اور اربوں، کھربوں کے ڈاکے ڈالنے والے عوام کی زد سے بچ پائیں گے؟

مقبول خبریں