دیواروں پر ہونے والا بے پناہ اتیاچار
اگلے وقتوں میں علم حاصل کرنے کے لیے نہ جانے کہاں کہاں ٹھوکریں کھاتے پھرتے تھے حتیٰ کہ...
گھر سے نکلے تو سامنے دیوار پر بڑے بڑے حروف میں لکھا تھا ''ہاتھ صابن سے دھوئیں'' کچھ آگے بڑھے تو ایک اور دیوار نے اپنے ماتھے پر یہ قول زریں سجا رکھا تھا ''لیٹرین میں جوتے پہن کر جائیں'' بہت بڑی جگہ کو سفید کرنے کے بعد لکھے ہوئے ان اقوال زریں کا سلسلہ آگے بھی جاری تھا ۔
ایک جگہ لکھا تھا ''دن میں دو بار صابن کے ساتھ نہائیں، کھانا 25 دفعہ چبا کر کھائیں، رات کو منہ ڈھانپ کر نہ سوئیں، کھانے کے بعد پانی نہ پیئں، پانی ابال کر پیئں'' اس کے بعد ہماری منزل یعنی بس اسٹاپ آ گیا لیکن دیواروں پر اقوال زریں کا یہ سلسلہ آگے بھی بڑھتا ہوا نظر آیا، تب ہم پر اچانک انکشاف ہوا کہ ہم کتنے خوش قسمت لوگ ہیں۔
اگلے وقتوں میں علم حاصل کرنے کے لیے نہ جانے کہاں کہاں ٹھوکریں کھاتے پھرتے تھے حتیٰ کہ کچھ لوگ ''چین'' جا کر علم حاصل کرنے کو بھی تیار ہو جاتے تھے اور آج ہم اتنے خوش نصیب ہیں کہ علم کے دریا ہماری دہلیز کے سامنے بہہ رہے ہیں اور لوگ ہیں کہ مولانا حالی کی ہدایت کے مطابق اپنے برتن بھانڈے بھرنا تو کیا ایک نظر اٹھا کر دیکھنا بھی گوارا نہیں کر رہے ہیں۔ اچانک ایک پشتو ٹپہ یاد آیا
دیدن مے کورتہ ورلہ یوڑو
پہ قدر دان جانان مے زان بے قدر کنہ
یعنی: میں نے جانان کے گھر جا کر اسے اپنا دیدار دیا اور یوں نہایت قدر کرنے والے ''جانان'' کے سامنے خود کو بے قدر کیا، بات سے بات نکلتی ہے اور سوچ سے سوچ ابھرتی ہے، معاً ہمیں یہ بھی خیال آیا کہ آج کا انسان کتنا خوش بخت ہے، اب تک صرف پھل سبزیاں اور دوسری چیزیں پھیری لگانے والوں کی برکت سے ''دہلیز'' پر دستیاب تھیں لیکن خدا کا فضل دیکھیے کہ اب انصاف بھی اپنی دہلیز پر دستیاب ہے۔
تعلیم بھی اور صحت بھی... بلکہ کونسلران ممبران اور لیڈران تو سامنے ہی سینے پر ہاتھ رکھے کھڑے ہیں اور زبان حال سے ''حکم میرے آقا'' کا ورد کر رہے ہیں لیکن اصل خوش نصیبی کا تو ابھی ذکر نہیں ہوا ہے، اس لیے کہ اس اصل خوش نصیبی سے پہلے کچھ تشکر و امتنان کا اظہار بھی ہونا چاہیے، نہ جانے ہم سے وہ کون سا نیک عمل سرزد ہوا ہے یا ہمارے بزرگوں نے ایسی کون سی دعا مانگی جو مستجاب ہو چکی ہے اور خدا نے ہمیں اتنی زیادہ رنگ برنگے اور بھانت بھانت کی این جی اوز سے نواز دیا
رب کا شکر ادا کر بھائی
جس نے ہماری گائے بنائی
خیر یہ تو بعد میں ڈیسائیڈ ہوتا رہے گا کہ شکریہ کس کس کا ادا کرنا چاہیے لیکن صورت حال یہ ہے کہ این جی اوز کی اتنی بھرمار ہو گئی ہے کہ قدم رکھتے ہوئے احتیاط کرنا پڑتا ہے کہ کہیں پاؤں تلے دو چار این جی اوز نہ آ جائیں اور ایک سے بڑھ کر ایک اتنی زیادہ ہمدرد ہیں کہ ہماری سانس تک کی ان کو فکر ہے، مثلاً ایک دیوار پر ایک این جی اوز کی طرف سے ہدایت تھی کہ ''سانس ناک سے لیں اور منہ سے چھوڑیں'' ایک اور جگہ لکھا تھا ''چلتے وقت منہ پر رومال رکھ کر سانس لیں''... اور یہ حکیمانہ ہدایت کہ چھوٹی چھوٹی سانسوں کے بجائے لمبی لمبی سانسیں لیا کریں، قنوطیِ زمان، بدگمانِ اعظم اور بدنیتِ جہاں چشم گل چشم عرف قہر خداوندی سابق برڈ فلو نے تو ''سانسوں'' کے متعلق یہ ہدایات پڑھ کر پیشین گوئی کر دی ہے کہ بہت جلد سانسوں پر بھی میٹر اور ٹیکس لگنے والے ہیں۔
جو بات سب سے زیادہ دل خوش کن تھی یہ ہے کہ واقعی بہت زیادہ ترقی ہو گئی یہ تو معلوم نہیں کہ یہ ترقی وقت نے کی ہے، انسان نے کی ہے یا زمانے نے کی ہے لیکن ترقی بے شک ہوئی ہے اور بہت زیادہ ہوئی ہے بلکہ اور بھی بہت زیادہ ہونے والی ہے۔ ایک اور ٹپہ سنیے
سانگہ بہ نن سبا کے گل شی
مائے پہ سر کے سرے غوٹئی لیدلی دینہ
یعنی ٹہنی آج ہی کل میں پھولوں سے بھر جائے گی کیوں کہ میں اس کے سروں میں ''کلیاں'' دیکھ رہا ہوں، اب یہ ترقی کیا کم ہے کہ ہمارے سادہ دل بزرگ ایک چیز سے فقط ایک کام لیتے تھے، مثلاً قلم سے صرف لکھنے کا کام لیا جاتا تھا لیکن آج کل ''قلم'' اگر پٹواری کے ہاتھ میں ہے تو چُھری ہے تو تھانیدار کے ہاتھ میں ڈنڈا... ہم جیسوں کے لیے اگر یہ آزار بند کا آلہ ہے تو بہت ساروں کے لیے ''بینک لاکر'' کی چابی ہے۔ ڈاکٹر کے ہاتھ میں یہ نشتر ہے تو واپڈا والوں کے ہاتھ میں پلاس ہے... اس طرح سڑکیں لیجیے۔
پرانے زمانے میں صرف آنے جانے کے کام آتی تھیں لیکن آج کل گاڑیوں والے اسے خاندانی منصوبہ بندی کے لیے استعمال کرتے ہیں، سرکار یا افسر اور ٹھیکیدار انھیں ''سڑک ہضم پیسہ ہضم'' کے طور پر استعمال کرتے ہیں، تاجر اور لیڈر اسے اپنی تشہیر کے لیے استعمال کرتے ہیں تو ڈاکو اور پولیس والے انھیں لوٹنے کے لیے کام میں لاتے ہیں۔ محکمہ صحت بیماریوں کے علاج کے ساتھ بیماریوں کی افزائش بھی کرتا ہے اور ڈاکٹر مریضوں کے ساتھ سرکاری خزانے کا علاج بھی کرتے ہیں، لیڈر لوگ مسئلے حل کرنے کے ساتھ مسئلوں کی کاشت و برداشت بھی کرتے ہیں،
زباں پہ بار خدایا یہ کس کا نام آیا
کہ میرے نطق نے بوسے مری زبان کے لیے
باقی سب تو زیادہ سے زیادہ ٹو ان ون، ٹو ان فور یا ٹو ان فائیو وغیرہ ہوں گے جب کہ لیڈر صاحبان ''آل ان ون'' ہوتے ہیں۔ دین سے لے کر دنیا تک اور مہد سے لے کر لحد تک جو کچھ بھی ہے ان ہی کی دین ہے، لیکن آج ہمارا اصل موضوع دیواریں ہیں۔ ہمارے بزرگوں نے دیواریں صرف بٹوارے یا پردے یا حفاظت کے لیے تعمیر کی تھیں، زیادہ سے زیادہ بعض دیواریں کان بھی رکھتی تھیں اور بعض دیواریں ''سماج'' کے ساتھ ساز باز کر کے پیار والوں کے درمیان بھی حائل ہو جاتی تھیں جن کو پھلانگ کر اکثر مجاہدائیں ، گایا کرتی ہیں،
اونچی اونچی دنیا کی دیواریں سیاں توڑ کے میں آئی رے۔ لیکن آج کے ذہین انسان نے تو دیواروں پر اتنا سب کچھ بنایا ہوا ہے کہ دیواریں خود بھی محو حیرت ہو کر ایک دوسرے سے پوچھتی ہیں ذرا دیکھو تو سہی یہ میں ہوں یا کوئی اور ہے... بلکہ یہ تک کہیں گی کہ بہن جہاں تک مجھے یاد ہے تو کل رات کو میں لوگوں کو تعلیم کی تلقین کر کے سوئی تھی لیکن آج صبح جاگی تو مجرب نسخے بتا رہی تھی، یوں سمجھ لیجیے کہ یونیورسٹیاں، اسکول اور کالج بھی دیواروں تک آ گئے ہیں اور طرح طرح کے اسپتال اور کلینک بھی، بلکہ یوں کہیے کہ دیواریں آج کل کلینک بھی ہیں۔
نجومی بھی ہیں، پروفیسر بھی ہیں، بزرگان دین بھی ہیں اور لیڈروں کی سواریاں باد بہاریاں بھی، خصوصاً ان این جی او لوگوں کا تو واحد اور اصل ہدف دیواریں ہی ہیں جو کچھ مال متاع یہاں وہاں سے طرح طرح کے ''زدگان'' کے لیے آتا ہے وہ تو ان کے کرتا دھرتا نہایت رازداری سے اپنے مخصوص بندوں کو دے کر ٹھکانے لگا دیتے ہیں اور باقی بچ جاتی ہیں صرف دیواریں... جن کے لیے نہ کہیں بھاگنا ممکن ہے اور نہ چُھپنا۔ کبھی کبھی ہم سوچتے ہیں کہ ان دیواروں کی 'سمیٹنی' کتنی زبردست ہے کوئی اور ہوتا تو رو پڑتا... لیکن کیا پتہ شاید یہ بھی رو رہی ہوں کیوں کہ بے چاریوں کے کان تو ہوتے ہیں لیکن زبانیں نہیں ہوتیں ورنہ چیخ چیخ کر کہتیں کہ
آسمان بار امانت نہ توانست کشید
قرعہ فال بنام من دیوانہ زدند