بلوچستان کے مسئلے کاحل شفاف انتخابات ہیں کائرہ

صوبے میںآپریشن نہیںہورہا،کسی کے پاس ثبوت ہیںتوسامنے لائے،میڈیا سے گفتگو


APP September 30, 2012
صوبے میںآپریشن نہیںہورہا،کسی کے پاس ثبوت ہیںتوسامنے لائے،میڈیا سے گفتگو. فوٹو: اے پی پی/فائل

وفاقی وزیراطلاعات ونشریات قمرزمان کائرہ نے کہا ہے کہ بلوچستان میں کوئی آپریشن نہیں ہورہا۔

اگر کسی کے پاس ثبوت ہیں تو سامنے لائے۔ بلوچستان کی سیاسی قیادت آئندہ انتخابات میں حصہ لے، عوام کا جوبھی فیصلہ ہو سب قبول کریں گے۔ بلوچستان کے مسئلے کا واحد حل شفاف انتخابات ہیں، اگر بلوچ قیادت کے پاس کوئی تجویز ہے تو وہ الیکشن کمیشن کے ساتھ شیئر کرے۔ اختر مینگل کی سیاسی رہنمائوں کے ساتھ ملاقاتوں پر پوائنٹ اسکورنگ نہیں ہونی چاہیے۔

میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ ہم بلوچستان کی حقیقی قیادت کا احترام کرتے ہیںاور ان کو وطن واپسی پر خوش آمدید کہتے ہیں۔ ہم نے حکومت میں آنے کے بعد بلوچستان کے عوام سے معافی مانگی جو مسئلے کا حل تو نہیں لیکن بلوچ عوام کے زخموں پر مرہم رکھنے کی طرف ایک قدم تھا۔ این ایف سی ایوارڈ میں بلوچستان کا حصہ بڑھایا گیا، آغاز حقوق بلوچستان پیکیج دیا ، بلوچ نوجوانوں کے لیے ملازمتوں میں کوٹا بڑھایا۔ انھوں نے کہا کہ ماضی میں پیپلزپارٹی کے ساتھ زیادتی ہوئی لیکن ہم وفاق سے الگ نہیں ہوئے ۔

میڈیا کو بلوچستان کے حوالے سے مثبت کردار ادا کرنا چاہیے، لاپتہ افراد کے حوالے سے اگر بلوچ رہنمائوں کے پاس کوئی ثبوت ہے تو وہ کمیٹی یا سپریم کورٹ میں پیش کرے۔ دریں اثنا وفاقی وزیر نے صحافی عبدالحق بلوچ کے قتل پر گہرے رنج وغم کا اظہارکیا ہے۔