’’عینک والا جن‘‘ کی ٹیم دوبارہ میدان میں

جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ ڈرامے کو بنا رہے ہیں جو اس سے پہلے ٹی وی کی تاریخ میں کسی نے نہیں کیا ہوگا


Qaiser Iftikhar September 30, 2012
حفیظ طاہر نے کہا کہ اس ڈرامے کا مقصد بچوں کو تفریح فراہم کرنا اور ان کو اچھائی اور برائی کی پہچان کروانا ہے۔ فوٹو: فائل

پاکستان ٹیلی ویژن لاہور مرکز سے کئی برس قبل بچوں کیلئے ایک کامیاب ڈراما سیریز ''عینک والا جن'' پیش کیا گیا۔

یہ ڈراما جب بن رہا تھا اورٹیلی کاسٹ ہونے سے پہلے بہت سے لوگوں کا یہ خیال تھا کہ یہ ٹائم کا ضیاع ہے اور پیسے کا بھی، لیکن جس طرح کا رسپانس اس ڈرامے کو بچوں کی جانب سے ہی نہیں تمام عمر کے لوگوں کی طرف سے ملا اس کو دیکھتے ہوئے اس ڈرامے کا شمار پی ٹی وی کے ''آل ٹائم فیورٹ'' ڈراموں میں ہونے لگا۔ اس ڈرامے کا مرکز ی کردار اداکار شہزاد قیصر نے بطور 'نستور جن' اداکیا جبکہ حسیب پاشا نے 'ہامون جادوگر' ، منالاہوری نے 'زکوٹا جن' اور نصرت آراء نے 'بل بتوڑی چڑیل' کا کردار ادا کیا جس کو بہت پسند کیا گیا۔

ویسے تویہ ڈراما جنوں، بھوتوں، پریوں اور چڑیلوں پر مبنی تھا لیکن اس کو اس انداز سے بنایا گیا تھا کہ بچے ڈرنے کی بجائے اسے دیکھ کر قہقہے لگایا کرتے تھے۔ ہامون جادوگر کے منتر، بل بتوڑی کے نخرے اور زکوٹا جن کا ڈائیلاگ ''مجھے کام بتائو میں کیا کروں، میں کس کو کھائوں'' بچوں کی زباں پر عام تھا۔ یہی وہ اندازہے جوماضی میں پی ٹی وی کے ڈراموں کا خاصا رہا ہے۔

ان دنوں ڈرامے میں مرکزی کردار نبھانے والے اداکار شہزاد قیصر اپنی اہلیہ کے ہمراہ ''عینک والا جن'' کو دوبارہ بنانے میں مصروف ہیں۔ اس کا نام ''نستور کی واپسی'' رکھا گیا ہے اور اس کی لاہور میں باری اسٹوڈیو سمیت آزاد کشمیر اور دیگرمقامات پر شوٹنگ جاری ہے۔ ڈرامے میں شہزاد قیصرکے علاوہ پاکستان فلم انڈسٹری کے معروف اداکار شفقت چیمہ بھی اہم کردار میںدکھائی دیں گے جبکہ دیگر فنکاروں میں حسیب پاشا، منا لاہوری، کومل ناز، کشف علی، محسن علی، سائرہ شاہ، آمنہ ملک، شیزہ علی، حسن شہزاد اورعمر اسد سمیت دیگر شامل ہیں۔ دوسری جانب ڈرامے کے مصنف محمد طارق ساحلی، ہدایتکار ادریس عادل، ایگزیکٹو ڈائریکٹر حفیظ طاہر، پروڈیوسر بیگم زیب شہزاد اور ایگزیکٹو پروڈیوسر ذوالفقار علی چوہان ہیں۔

باری سٹوڈیو کے ایک فلور پر گزشتہ دنوں ''نستورکی واپسی'' کی شوٹنگ جاری تھی۔ اس موقع پر کہانی کی ڈیمانڈ کے مطابق مختلف کرداروں کے ڈائیلاگ اور 'گیٹ اپ' سے فلور 'کوہ قاف' کا منظر پیش کر رہا تھا۔ کہیں سے کومل ناز چڑیل بنی بلند آواز سے ''ڈبا ڈبا ڈو'' پکار رہی تھیں توکہیں منالاہور زکوٹا جن 'مجھے کام بتائو، میں کیا کروں، میںکس کو کھائوں' کی آوازیں لگا رہے تھے۔ دوسری جانب پاکستان فلم انڈسٹری کے معروف ولن شفقت چیمہ بطور' وزیرشب خون' کے طور پر سیٹ پر موجود لوگوں کو ڈرانے میں مصروف تھے۔ پری کا کردار نبھانے والی اداکارائیں کشف علی، شیزہ علی اور سائرہ شاہ بھی سیٹ پر اپنے فن کے نمونے پیش کرنے میں لگی تھیں۔

ڈرامے کے سیٹ پر ایک طرف حفیظ طاہر سین ریکارڈ کرنے میں لگے ہوئے تھے تو دوسری جانب ڈرامے کی پروڈیوسر زیب شہزاد کھانے کا وقت ہوتے ہی فلور پر موجود ڈرامے کے یونٹ کے لوگوں کے لیے دسترخواں سجانے میں مصروف تھیں۔ یوں محسوس ہو رہا تھا کہ یہ ڈرامے کی شوٹنگ نہیں بلکہ جنات اور پریوں کا محل ہے جہاں 'مرغ مسلم' سے ان کی پرتکلف دعوت کی جا رہی ہے۔

اس موقع پر ''نمائندہ ایکسپریس'' سے گفتگوکرتے ہوئے ڈرامے میں مرکزی کردار نبھانے والے اداکار و گلوکار شہزاد قیصر نے بتایا کہ پی ٹی وی سے پیش کیا جانے والا ڈراما ''عینک والا جن'' کرنے کے بعد میں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ اس کے بعد کوئی اورکردار نہیں کروں گا۔ میں نے طویل عرصہ تک اپنی پروڈکشن کمپنی کے پلیٹ فارم سے ملک بھر میں 'عینک والا جن' کے گیٹ اپ میں پرفارم کیا اور مختلف پراجیکٹس پر کام کیا جس کو بہت سراہا گیا لیکن اب میں نے اس ڈرامے کو بنانے کا فیصلہ کیا تو ہماری پوری ٹیم دوبارہ سے اکھٹی ہو گئی ہے۔

ہم نے اس مرتبہ جہاں ڈرامے میں کچھ نئے کردار متعارف کروائے ہیں وہیں جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ ڈرامے کو بنا رہے ہیں جو اس سے پہلے ٹی وی کی تاریخ میں کسی نے نہیں کیا ہوگا۔ شفقت چیمہ جیسا باصلاحیت فنکار بھی ہمارے پراجیکٹ میں شامل ہے تو میرا صاحبزادہ عمراسد بھی اس ڈرامے سے اپنے فنی سفر کو شروع کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس ڈرامے کے ذریعے ہم بچوں کو بہت کچھ سکھا سکیں گے بلکہ تمام عمر کے لوگوں کی اصلاح کیلئے اہم پہلو ڈرامے میں شامل ہیں۔ پہلے بھی جب ''عینک والاجن'' پیش کیا گیا تھا تو اس کی ہر قسط میں اچھائی اور برائی کا پیغام ملتا تھا اور اس کے ذریعے بھی ہم معاشرے میں سدھار لانے کی کوشش کریں گے اور مجھے امید ہے کہ ہماری یہ کاوش تمام عمر کے لوگ پسند کریں گے۔

ڈرامے کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر حفیظ طاہر نے مختصر گفتگو کرتے ہوئے بتایاکہ ہم نے پہلے بھی کوشش کی تھی کہ اس مسائل زدہ معاشرے میں بچوں کو تفریح فراہم کی جائے اور ان کو اچھائی اور برائی کی پہچان کروائی جائے۔ اس مرتبہ بھی ہم اسی طرح کی کچھ اہم باتیں اپنے ڈرامے کے ذریعے بچوں اور نوجوان نسل کو سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس لئے مجھے امید ہے کہ جب یہ ڈراما آن ایئر ہوگا تو اس کا زبردست رسپانس ملے گا اور ہم اپنے مقصد میں کامیاب ہوں گے۔ ڈرامے کی پروڈیوسر زیب شہزاد کا کہنا تھا کہ 'عینک والاجن' سے میری بھی گہری وابستگی ہے اور اسی لئے بطور پروڈیوسر میں اس کا حصہ بنی ہوں۔ ہم چاہتے ہیں کہ اپنے اس پراجیکٹ کے ذریعے ہم لوگوں کو بہترین تفریح فراہم کریں اور اب اس میں کتنی کامیابی ملتی ہے وہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔