جماعت اسلامی کا اجتماع
جب سے سراج الحق نے جماعت اسلامی کی قیادت سنبھالی ہے جماعت کی پالیسیوں میں تبدیلیوں کے رجحانات واضح ہو گئے ہیں۔
ISLAMABAD:
پاکستان کو دوسرے ملکوں سے اتنا خطرہ نہیں جنتا ظالم طبقے سے ہے۔ سودی نظام کے خلاف اعلان جنگ کریں گے یا جاگیریں واپس لیں گے، تعلیم مفت کریں گے عام آدمی کو وی آئی پی اور وی وی آئی پی کو عام آدمی بنا دیں گے۔ جماعت اسلامی کے پانچویں امیر سراج الحق نے لاہور میں مینار پاکستان پر تین روزہ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا۔
جماعت اسلامی کے سابق امیر منور حسن نے کہا کہ معاشرے میں سدھار کے لیے قتال فی سبیل اللہ ضروری ہے ان کا کہنا تھا کہ جہاد اور قتال صرف اور صرف فی سبیل اللہ ہی جائز ہے، جب سے سراج الحق نے جماعت اسلامی کی قیادت سنبھالی ہے جماعت کی پالیسیوں میں تبدیلیوں کے رجحانات واضح ہو گئے ہیں۔ سراج الحق 1977ء کی تحریک کے منفی اثرات کا اقرار کرتے ہیں۔ جماعت اسلامی کے امیر نے پہلی دفعہ حکومت وقت اور اپنی اتحادی جماعت تحریک انصاف میں مفاہمت کرانے کی کوشش کی ہے اور وسیع تر مقاصد کے حصول کے لیے پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری سے مفاہمت کی ہے اور پختون پناہ گزینوں کے مسئلے کے حل کے لیے پختون جرگے میں شرکت کی ہے۔
جماعت اسلامی ایک منظم جماعت ہے اس کے لاہور کے اجتماع میں تنظیم کا عنصر واضح تھا، ہزاروں لوگوں جن میں خواتین بھی شامل تھیں نومبر کے موسم میں خیموں میں مقیم تھے، اجتماع کے شیڈول کے مطابق سیشن جاری تھے لوگ سکون سے فاضل مقررین کی تقاریر سن رہے تھے، نماز اور کھانے کے وقفے میں کسی قسم کی ہڑ بونگ نہیں تھی مہمانوں اور دوسرے شہروں سے آنے والے صحافیوں کے آرام پر خصوصی توجہ دی جا رہی تھی، ان مہمانوں اور صحافیوں میں وہ لوگ بھی شامل تھے جو جماعت اسلامی کے ہمیشہ مخالف رہے۔
مقررین نے اسلامی تعلیمات جہاد صوبوں کے مسائل، بدلتی دنیا میں خواتین کے مسائل اور دوسرے موضوعات پر اظہار خیال کیا، سراج الحق نے ریاست کی عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کی ذمے داری پر روشنی ڈالی، شاید پہلی دفعہ ہندو کے بجائے بھارت کا ذکر ہوا اور مودی صاحب کو یہ مشورہ دیا گیا کہ وہ پاکستان سے جنگ کے بجائے ملک سے غربت افلاس کے خاتمے کے لیے جنگ کریں ۔کوٹ رادھا کشن کے واقعے کو انسانیت سوز واقعہ قرار دیا گیا۔ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں جہاد کرنے والے سید صلاح الدین کمانڈوز کی جھرمٹ میں اسٹیج پر آئے مگر انھیں تقریر کا موقع نہیں دیا گیا، اس اجتماع میں یوں تو خارجہ پالیسی، فلاحی ریاست سمیت مختلف موضوعات پر اظہار خیال ہوا مگر جہاد کا نعرہ سب سے نمایاں رہا۔
جماعت اسلامی کے اس اجتماع کے جائزے سے قبل اسلامی جماعتوں کے (Perception) ادراک اور (Narative) بیانیہ کا جائزہ لیا جائے تو اس اجتماع کے ماحول کا اندازہ ہو سکتا ہے، گزشتہ صدی کے آخری عشروں میں جب امریکی سی آئی اے نے جنرل ضیاء الحق کی مدد سے افغانستان میں کمیونسٹ حکومت کے خاتمے کے لیے آپریشن شروع کیا تھا تو اس کے لیے خصوصی حکمت عملی اختیار کی گئی تھی، اس حکمت عملی کی تیاری میں سعودی عرب نے مالیاتی معاونت کی تھی۔ یوں ایک مخصوص فکر سے تعلق رکھنے والے مدرسوں کا پورے ملک میں جال بچھایا گیا تھا۔
جدید تعلیمی نظام سے منسلک اسکولوں کالجوں اور یونیورسٹیوں کے نصاب میں مذہبی مواد اس طرح شامل کیا گیا تھا کہ مخصوص جہادی مکتبہ فکر کو فروغ حاصل ہوا پھر جماعت اسلامی نے اپنے کارکنوں کو افغانستان میں جہاد پر بھجوانے کے لیے بھرپور کوشش کی تھی، ان مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والی دوسری مذہبی جماعتوں نے بھی اس ہی حکمت عملی کو اختیار کیا تھا۔ جماعت اسلامی اور یہ تنظیمیں گزشتہ 34 سالوں سے جہاد میں مصروف ہیں تاہم جماعت اسلامی نے سابق صدر پرویز مشرف کے بلدیاتی نظام میں بھرپور شرکت کی ۔2002ء کے انتخابات میں حصہ لیا اور خیبرپختونخوا میں جمعیت علمائے اسلام کی صوبائی حکومت میں شرکت کی، 2013کے الیکشن کے نتیجے میں جماعت اسلامی تحریک انصاف کے ساتھ خیبرپختونخوا حکومت میں شریک ہوئی۔ بہر حال لاہور کے تین روزہ اجتماع میں منور حسن اور کئی رہنماؤں نے اظہار خیال کیا، منور حسن نے قتال فی سبیل اللہ کا نعرہ لگا کر جدید نظام حکومت پر عدم اعتماد کا اظہار کیا۔
ایک ایسی صورتحال میں جب جھوٹے الزام لگا کر ہجو م کو مشتعل کر کے اقلیتی فرقوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو قتل کرنے کا سلسلہ جاری ہے اس میں سید منور حسن کی یہ تقریر جماعت اسلامی کے تشخص کے لیے ایک چیلنج بن گئی ہے یہ ہی وجہ ہے کہ اس اجتماع میں منظور کی جانے والی قراردادوں میں شام اور عراق (داعش) کے عوام سے یکجہتی کا تو اظہار کیا گیا مگر داعش کی سفاکی پر خاموشی اختیار کی گئی، جماعت اسلامی سے قربت رکھنے والے ایک سینئر تجزیہ نگار کا کہنا ہے کہ جماعت اسلامی کے بانی مولانا مودودی نے جمہوری جدوجہد کو اپنا نصب العین بنایا تھا، اس لیے انھوں نے ایوب خان کے مقابلے میں محترمہ فاطمہ جناح کی حمایت کی تھی مگر جنرل ضیاء الحق کے دور میں جماعت میں جہاد کا کلچر پروان چڑھا، اس اجتماع سے اس کلچر کو تقویت ملی، تاہم سراج الحق نے اس اجتماع کے بعد واضح کیا کہ جماعت اسلامی اقتدار میں آنے کے لیے جمہوریت کے پر امن راستے کے علاوہ کسی اور راستہ پر یقین نہیں رکھتی۔
جماعت اسلامی فلاحی ریاست کے حق میں ہے یہی وجہ ہے کہ سراج الحق سود کے خاتمے او ر شفاف نظام حکومت کے لیے آواز بلند کی ہے مگر سراج الحق کی تقاریر میں اس منظم اور پر امن اجتماع کے باوجود جماعت اسلامی کا جمہوری تشخص ابھر کر سامنے نہیں آیا۔ سراج الحق کو اس ضمن میں بنیادی اقدامات کرنے ہونگے۔
انھیں جماعت کے کارکنوں، جمہوری نظام کی اہمیت اور ووٹ کے ذریعے اقتدار کی تبدیلی کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہو گا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ جماعت اسلامی کے امیر جہادی تنظیموں سے فاصلہ بڑھائیں اور انھیں جمہوری جماعتوں کی طرح متحرک ہونے کے لیے بنیادی اقدامات کرنے ہونگے۔ سراج الحق کو بتانا ہو گا کہ ترکی کی اسلامی جماعت جسٹس پارٹی کے سربراہ رجب طیب اردگان کا راستہ ہی درست راستہ ہے، اس جمہوری اور لبرل طرز زندگی پر عمل کر کے ملک سے غربت اور افلاس کے خاتمے کے نعرے کارگر ہو سکتے ہیں۔