کوئی آپریشن نہیں ہو رہا اختر مینگل آزاد بلوچستان کے نعرے کو تقویت دے رہے ہیں رحمن ملک

لاپتہ افرادکی بازیابی کیلیے سنجیدہ ہیں،الزام تراشی نہیں ہونی چاہیے


News Agencies/Monitoring Desk October 01, 2012
مینگل وزیراعلیٰ تھے توبھائی کے قاتل کیوں نہیں پکڑے،3اکتوبرکوسپریم کورٹ میں پیش ہونگا، گفتگو، صدرکی ہدایت پرلندن پہنچ گئے۔ فوٹو: ثناء/فائل

وزیر داخلہ رحمن ملک نے کہا ہے کہ بلوچ رہنما اختر مینگل کی سیاسی ملاقاتیں اہم ہیں لیکن بلیم گیم نہیں ہونا چاہیے۔

لاپتہ افراد کی بازیابی کیلیے سنجیدہ ہیں، الزام تراشی نہیں ہونی چاہیے، حلفاً کہتا ہوں بلوچستان میں کوئی آپریشن نہیں ہورہا ، کسی بلوچ رہنما کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ پاکستانی پاسپورٹ کی عزت نہ کرے۔ اتوار کو پریس کانفرنس میں انھوں نے کہا کہ ناراض بلوچوں کو قومی دھارے میں لائیں گے ، ہماری حکومت نے سب سے پہلے اخترمینگل کو بلایا اور ان کا نام ان کی اپنی درخواست پر ای سی ایل سے نکالا ہے ، ان کے جائز شکوے دور کرنے کی کوشش کریں گے۔

ثناء نیوز کے مطابق رحمن ملک نے کہا کہ اختر مینگل باربار اپنے 6 نکات کا ذکر کرکے آزاد بلوچستان کے نعرے کو تقویت دے رہے ہیں ، سیاست چمکانے کیلیے ملکی اداروں کو بدنام نہ کیا جائے کیا ،جب اختر مینگل وزیر اعلیٰ تھے تو اس وقت صوبہ میں ایف سی نہیں تھی ، انھوں نے اپنے بھائی کے قاتلوں کو کیوں گرفتار نہیں کیا ، بلوچستان کے حالات خراب کرنے میں غیرملکی مداخلت کے ثبوت موجود ہیں، اس کے ثبوت پیش کروں گا، اختر مینگل کو سینیٹ میں تقریر کی کاپی ضرور بھیجوں گا، دہری شہریت سے متعلق سوال پر انھوں نے کہا کہ معاملہ عدالت میں ہے اس پر زیادہ بات نہیں کرونگا ، سپریم کورٹ نے 3 اکتوبر کو بلایا ہے، عدالت میں پیش ہونگا۔

دریں اثناء رحمن ملک نے اختر مینگل کے بھائی کے لاپتہ ہونے کے واقعے کی تحقیقات کیلیے چیف سیکریٹری بلوچستان کو کمیشن کے قیام کا حکم دیا ہے، مانیٹرنگ ڈیسک کے مطابق وزیرداخلہ صدر کی ہدایت پر لندن پہنچ گئے ہیں ، وہ ایم کیو ایم کے رہنمائوں سے ملاقات کرینگے جس میں صدر زرداری اور الطاف حسین کے مابین ملاقات کا ایجنڈا طے کیا جائیگا۔