ملک میں کسی بھی قسم کا غذائی بحران نہیں وفاقی وزیر فوڈ سیکیورٹی

ٹی سی پی سے کپاس خریداری کا مقصدقیمتوں اور لاگت میں کمی لانا اور کسانوں کو نقصان سے بچاناہے،سکندرحیات بوسن


APP November 30, 2014
ٹی سی پی سے کپاس خریداری کا مقصدقیمتوں اور لاگت میں کمی لانا اور کسانوں کو نقصان سے بچاناہے،سکندرحیات بوسن۔ فوٹو : فائل

وفاقی وزیر نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ ملک سکندرحیات بوسن نے کہاہے کہ وزیراعظم نے ان کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کی ہے جو آئندہ چھ ہفتوں میں اجناس کی قیمتوں میں کمی کے سدباب، فصلوں کی لاگت کم کرنے اورکسانوں کونقصان سے محفوظ رکھنے کی سفارشات تیارکرکے حکومت کوپیش کردے گی۔

ہفتہ کے روزیہاں بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان میں انڈس کنسوشیم،آکسفیماور زکریا یونیورسٹی کے تعاون سے منعقدہ''فوڈمیلہ''میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ بدقسمتی سے کپاس کی قیمتوں کے تعین میں اپٹما کی اجارہ داری تھی، وہ مرضی کے ریٹس پر کپاس کی خریداری کرتی تھی اسی لیے حکومت نے ٹی سی پی کو تیسرے خریدار کے طورپر 10 لاکھ گانٹھ روئی خریدنے کاحکم دیا ہے۔انہوںنے کہاکہ ٹی سی پی کبھی بھی ڈائریکٹ کسانوں سے کپاس نہیں خریدتی، نہ حکومت کے پاس کپاس رکھنے کے گودام ہیں۔ٹی سی پی کو خریداری کاحکم دینے کابڑا مقصد مارکیٹ میں کپاس کی قیمتوں میں استحکام پیدا کرناتھا اورٹی سی پی کی طرف سے خریداری کے اعلان کے بعد کپاس کی قیمت 2100 روپے فی من سے 2500 روپے فی من تک چلی گئی تھی۔

سکندر بوسن نے کہاکہ ٹی سی پی جنرز سے عالمی اسٹینڈرڈکو مدنظررکھ کر روئی کی خریداری کررہی ہے تاکہ اگر روئی باہر فروخت بھی کرنی پڑے تو آسانی سے فروخت ہوسکے۔انہوں نے کہاکہ عالمی اسٹینڈرڈ کے مطابق روئی کی گانٹھ 170 کلوگرام کی ہوتی ہے جبکہ پاکستانی جنرز 150 کلوگرام وزن کی گانٹھیں بھی تیارکررہے تھے۔ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیرنے کہاکہ چاول کی کم قیمت کاحل حکومت نے چاول کے کاشتکاروں کو ڈائریکٹ پانچ ہزار روپے فی ایکڑ سبسڈی دینے کا فیصلہ کرکے نکالا ہے تاکہ فصل کی خریداری میں آنے والی مشکلات اور شکایات سے بچا جاسکے۔اس وقت پوری دنیا میں زرعی اجناس کی قیمتیں کم ہورہی ہیں، ان کے تیل کی کم ہوتی ہوئی قیمتوں سے بھی لنک بنتا ہے۔

سکندربوسن نے کہاکہ پاکستان میں کسی بھی قسم کاکوئی غذائی بحران نہیں ہے اور نہ ہی کسی بھی چیز کی کمی ہے بلکہ ہمارے محفوظ ذخائر میں 10 لاکھ ٹن سے زائد گندم محفوظ موجود ہے۔انہوں نے کہاکہ میڈیا کا کام لوگوں کو خبر دینے کے ساتھ ساتھ شعور اورتعلیم دینابھی ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے معاشرے پر اثرات اور ہمارے علاقائی اور روایتی کھانوں کی افادیت سے رو شناس کرانے کا یہ پروگرام یونیورسٹی کی بہترین کاوش ہے، اس طرح کے پروگرام ہوتے رہنے چاہئیں۔