دہشت زدہ کردینے والی کتاب
ہم ایک ایسے ملک میں رہتے ہیں جہاں عوام کو یہ فریب دیا گیا ہے کہ ان کی نجات صرف ہتھیاروں میں ہے۔
69 برس پہلے لکھی جانے والی ایک جاپانی نظم کی چند سطریں یاد آرہی ہیں ۔ فی کی نگویا سات برس کا گول مٹول ہنستا کھیلتا بچہ تھا۔ روز صبح بستہ گلے میں ڈال کر اسکول جاتا، واپسی میں پرندوں کو دانہ ڈالتا اور ماں کے ہاتھ سے نوالے کھاتا ۔ دنیا کی بیشتر ماؤں کی طرح اس کی ماں بھی اپنے بیٹے پر نثار تھی ۔
بیٹے کے لیے اس کی آنکھوں میں دھنک کے تمام رنگوں میں رنگے ہوئے خواب رہتے تھے۔ ہیروشیما میں رہنے والی یہ ماں نہیں جانتی تھی کہ 6 اگست 1945 کو دنیا کا پہلا امریکی ایٹم بم اس کے بیٹے کو راکھ بناکر اڑا دے گا ۔ ماں رہ گئی،بیٹے کی راکھ اڑ گئی ۔ کچھ دنوں بعد اس نے ایک نظم لکھی جس کی تین سطریں ذہن میں محفوظ رہ گئی ہیں ۔ نظم کیا تھی، ایک سادہ سا مطالبہ:
'وہ لوگ جنہوں نے ایٹم بم بنایا
وہ میرے بیٹے سے معذرت چاہیں
اور اپنے گھٹنوں پرجھک کر معافی کے طلب گار ہوں!'
ہیرو شیما اور ناگا ساکی میں ایسی لاکھوں مائیں تھیں لیکن ان کا گریہ آسمان نے نہیں سنا اور ان کا نوحہ زمین پر ایٹم بم بنانے والوں تک نہیں پہنچا تب ہی وہ پہلے بم سے ہزارگنا زیادہ مہلک بم بنائے جاتے ہیں اور خوش ہیں ۔ سبزے پر اپنے بچوں اور ان کے بچوں سے کھیلتے ہیں ۔ وہ اپنے گھروں میں گرم بستر میں سوتے ہیں اور ان میں سے کسی کو بھی وہ بچے یاد نہیں آتے جو راکھ اور بھاپ بن کر اڑ گئے ، موت جنھیں بدترین اذیتوں کے بعد رہائی دینے آئی ۔ انھیں کچھ یاد نہیں آتا۔
یہ نظم مجھے ڈاکٹر نیر کی تدوین کردہ کتاب 'طاقت کا سراب' کو پڑھتے ہوئے یاد آئی ۔ انھوں نے برصغیر کے ایٹمی طاقت بن جانے کے مضمرات کے بارے میں ہندوستان اور پاکستان کے مشہور ماہرین طبیعات کی تحریروں کو یکجا کردیا ہے ۔ جسے سجاد کریم انجم اور ان کے معاونین اعجاز احمد اور یاسمین فرخ نے مشعل بکس کے لیے ترجمہ کیا ۔
'طاقت کا سراب' میں ہندوستان کے ایم وی رامنا، سورت راجو، پر راجا رمن، سریندرگاڈیکر کے علاوہ پاکستان کے ضیا میاں، پرویز ہود بھائی اور عبدالحمید نیر کے علاوہ عالمی ترک اسلحے کی امریکی تحریک سے وابستہ میتھیو میکنزی کے مضامین شامل ہیں ۔ حقوق انسانی سے جڑے ہوئے جناب آئی اے رحمن سے زیادہ کسے حق تھا کہ وہ اس کتاب کا تعارف لکھتے ۔ ان کی یہ تحریر اس کتاب کی کلید ہے ۔ وہ لکھتے ہیں کہ ان مضامین میں بتایا گیا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کسی ممکنہ جنگ کے نتیجے میں ایٹمی اسلحے کا استعمال دونوں ملکوں کے عوام کی بربادی پر منتج ہوگا ۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ تمام باشعور شہریوں کا حق ہے کہ وہ ان معاملات پر غور کریں ۔'
یہ مضامین اپنے پڑھنے والوں کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ ایٹمی اسلحے کے ممکنہ استعمال کے مہیب اور المناک نتائج کو سمجھیں ۔ اسی بات کو نظر میں رکھتے ہوئے ہمیں اے نیر کے اس جملے پر غور کرنا چاہیے کہ نیوکلیر ٹیکنالوجی کی نوعیت ایسی ہے کہ پر امن مقاصد اور جنگی مقاصد کے لیے اس کے استعمال کے درمیان حد فاصل نہیں کھینچی جاسکتی ۔
ہم ایک ایسے ملک میں رہتے ہیں جہاں عوام کو یہ فریب دیا گیا ہے کہ ان کی نجات صرف ہتھیاروں میں ہے ۔ پہلے یہ روایتی ہتھیار تھے جن کی خریداری کے لیے عوام کے منہ کا نوالہ اور ان کے تن کا لباس چھین لیا گیا ۔ ان کے بچے پینے کے صاف پانی ، تعلیم اور بنیادی طبی سہولتوں سے بھی محروم رکھے گئے ۔ انھیں یقین دلایا گیا کہ یہ ہتھیار ان کی آیندہ نسلوں کے محفوظ مستقبل کی ضمانت ہیں اور پھر جلد ہی بات ایٹمی ہتھیاروں کے حصول تک پہنچی ۔
زیر نظرکتاب میں بہت سے نازک معاملات اٹھائے گئے ہیں جن میں سے ایک پرویز ہود بھائی کا مضمون ہے ، جس کی ابتدائی سطروں میں ہی وہ ان انتہا پسند گروہوں کا ذکر کرتے ہیں جو پاکستانی فوج کے ساتھ نبرد آزما ہیں ۔ ان کے عزائم میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ پاکستان کے ایٹمی اسلحے پر قبضہ کر کے اسے اپنے مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کریں۔ پرویز ہود بھائی لکھتے ہیں کہ ''انتہا پسندوں کے نظریات یہ ہیں کہ اگر کسی کارروائی کے نتیجے میں کفار اور شیعہ مارے جاتے ہیں تو بہت اچھی بات ہے ۔
لیکن اگر کسی شہر پر ایٹم بم گرانا ہے کہ جس میں سنی لوگ بھی مارے جاتے ہیں تو صرف اتنا ہوگا کہ وہ مقررہ وقت سے کچھ پہلے ہی جنت میں پہنچ جائیں گے۔' وہ یہ بات بھی برملا کہتے ہیں کہ آج پاکستان کی تینوں مسلح افواج کو اصل خطرہ اپنی صفوں میں موجود دشمن سے ہے جس نے مذہب کا محفوظ لبادہ اوڑھ لیا ہے اور کسی میں اتنی جرأت نہیں کہ اس لبادے کو نوچ کر پھینک سکے ۔''
یہ سادہ لفظوں میں لکھا جانے والا ایک ایسا مضمون ہے جس کی تفہیم ہمارے لوگوں کو ہونی چاہیے کیونکہ ان کی تقدیر اس میں لکھے ہوئے حقائق سے جڑی ہوئی ہے ۔
پاکستان میں بجلی کی بڑھتی ہوئی ضرورتوں کے لیے ایک آسان نسخہ ایٹمی بجلی گھر تجویز کیا جاتا ہے ۔ 'طاقت کا سراب' میں یہ نہایت اہم معاملہ پاکستان اور ہندوستان دونوں کے نقطہ نظر سے دیکھا گیا ہے ۔ فوکو شیما کے ایٹمی بجلی گھر میں ہونے والے سانحے کے حوالے سے کراچی کے ساحل پر بنے ہوئے ایٹمی بجلی گھر کا معاملہ بھی اٹھایا گیا ہے اور ہود بھائی نے واضح الفاظ میں لکھا ہے کہ KANUPP نے کراچی کی بیش ترآبادی کو ایک مستقل خطرے سے دوچار کر رکھا ہے ۔
اس کتاب کے ورق الٹتے جائیے اور ہر صفحہ آپ کی دہشت میں اضافہ کرتا جاتا ہے۔ اسے پڑھتے ہوئے یہ احساس ہوتا ہے کہ ہم شاید ایک ایسی دنیا سے رخصت ہوں گے جس میں ہم اپنے بچوں کی تقدیر جنگی جنونیوں اور ایٹم بم کو نسخہ شفا سمجھنے والوں کے ہاتھوں میں دے کر چلے جائیں گے۔ اس مرحلے پر تخفیف اسلحہ کی عالمی تحریک ہمیں ایک روشن لکیر کی طرح نظر آتی ہے ۔ یہ تحریک جس کا نام گلوبل زیرو ہے اس کے اعلامیے پر چار لاکھ سے زیادہ افراد دستخط کرچکے ہیں ۔
اس کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اپنے بچوں ، ان سے اگلی نسلوں اور پوری انسانی تہذیب کو ایٹمی خطرے سے محفوظ رکھنے کے لیے ہمیں پوری دنیا میں موجود تمام ایٹمی ہتھیار لازماً تلف کردینے چاہئیں ۔ چنانچہ ہم ایک ایسے قانونی طور پر پابند اور قابل تصدیق معاہدے کے لیے کام کرنے کا عزم رکھتے ہیں جس میں سب ہی ملک شامل ہوں تاکہ ایک خاص مدت میں ایٹمی ہتھیاروں کاخاتمہ ممکن بنایا جاسکے ۔' آج تخفیف اسلحہ اور ترک اسلحہ خواب وخیال کی باتیں محسوس ہوتی ہیں لیکن انسان کے خواب زمین و آسمان بدل دینے کی طاقت رکھتے ہیں ۔ سو ہم یہ امیدکیوں نہ رکھیں کہ اس انسانی خواب کی تعبیر بھی ممکن ہے ۔
اس وقت مجھے ممکنہ ایٹمی جنگوں یا حادثوں کے بارے میں بننے والی فلمیں دی وار گیم، بلیک رین، کاؤنٹ ڈاؤن ٹو لکنگ گلاس'' اور 'لیٹر فرام اے ڈیڈ مین'، یاد آرہی ہیں۔ 'لیٹر فرام اے ڈیڈ مین' کے ڈائریکٹر نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا۔
''مجھے اپنی ذمے داریوں کا احساس ہے اور اسی احساس نے مجھ سے یہ فلم بنوائی ہے جسے دیکھنے کے بعد انسان کے ذہن میں صرف ایک ہی سوال گردش کرتا ہے کہ ایٹم بم کی شکل میں انسان نے کہیں اس 'جن' کو بوتل سے آزاد تو نہیں کردیا جو آخرکار اپنے آزاد کرنے والے کو سموچا نگل جائے گا اور ہماری دھرتی ریزہ ریزہ ہوکر کائناتی دھول میں بدل جائے گی ۔'' اپنے اس انٹرویو میں اس نے کہا تھا کہ میں نہیں چاہتا کہ جنگ کا خوف انسانوں کے ذہنوں سے کابوس کی طرح چمٹ جائے ۔
میں نہیں چاہتا کہ شدید بارش کے دوران جب بادل کڑکیں تو میرا پانچ سالہ بچہ مجھ سے چمٹ جائے اور پوچھے... 'ڈیڈی، کیا جنگ شروع ہوگئی ہے؟' میں یہ نہیں چاہتا' اور یہ ہم میں سے بھلا کون چاہتا ہے ۔ شاید دنیا کے بیشتر انسانوں کو اس صورت حال سے نفرت ہے جس نے کم عمر بچوں کے ذہنوں کو بھی جنگ کی ہیبت اور دہشت سے یوں بھر دیا ہے کو وہ آسمانی بجلی کے کڑکنے کو جنگ کا آغاز تصور کرلیتے ہیں اور بارش سے لطف اندز ہونے کے بجائے خوف سے لرزنے لگتے ہیں ۔
مجھے اس جاپانی ماں کی نظم پھر یاد آتی ہے جس نے اپنے بیٹے کے قاتلوں سے معذرت طلب کی تھی ۔ ایسی کوئی نظم ہمارے یہاں کی کوئی ماں کبھی نہ لکھے ۔ ہم عظمت کے خواب نہ دیکھیں اور طاقت کے سراب کا تعاقب نہ کریں کہ اسی میں ہماری نجات ہے ۔
(''طاقت کا سراب'' کی تعارفی تقریب میں پڑھا گیا)