پاک امریکا تعلقات امداد سے تجارت کی جانب بڑھ رہے ہیں رچرڈ اولسن

امریکا پاکستان کو خود انحصاری کی منزل کی جانب گامزن دیکھنا چاہتا ہے، امریکی سفیر


Business Reporter December 04, 2014
امریکی حکومت پاکستان میں معاشی بہتری اور کاروباری سرگرمیوں کے اضافے کے لیے ہر طرح کا تعاون کر رہی ہے، رچرڈ اولسن فوٹو: فائل

پاکستان میں امریکی سفیر رچرڈ جی اولسن، کراچی میں امریکی قونصل جنرل برائن ہیتھ اور دوسرے سینئر امریکی عہدیداروں نے بدھ کو اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (اوآئی سی سی آئی) کا دورہ کیا اور ارکان منیجنگ کمیٹی اور ممبران کے ساتھ ملاقات کی۔

اس موقع پر او آئی سی سی آئی کے نائب صدر عاطف باجوہ نے او آئی سی سی آئی کے ممبران کی جانب سے پاکستانی معیشت میں اپنی شراکت داری اور براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کے علاوہ ٹیکنالوجی کے ٹرانسفر اور بیسٹ پریکٹیسز متعارف کرانے جیسی کوششوں سے آگاہ کیا۔ او آئی سی سی آئی پاکستان میں کام کرنے والی 200 بڑی کمپنیوں کی نمائندہ آواز ہے اور پاکستان میںبراہ راست غیرملکی سرمایہ کاری لانے میں او آئی سی سی آئی کا بہت اہم کردار ہے۔

عاطف باجوہ نے ورلڈ بینک کے ایز آف ڈوئنگ بزنس میں پاکستان کی گرتی ہوئی پوزیشن پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو ترقی کے لیے اس معاملے پر ٹھوس اور فوری اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ عاطف باجوہ نے امریکی حکومت کی جانب سے 6 دہائیوں میں پاکستان کے لیے تعاون اور امریکی کاروباری اداروں کی جانب سے پاکستانی معیشت میں کردار کو سراہتے ہوئے دونوں ملکوں کے درمیان مزید معاشی اور کاروباری تعاون بڑھانے پر زور دیا۔ انہوں نے پاکستان میں امریکی سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے جلد بات چیت پر زور دیا اور اس سلسلے میں کاروباری تعاون کے معاہدے پر جلد عمل کو اہم قرار دیا۔

اس موقع پر امریکی سفیر نے او آئی سی سی آئی کے ممبران سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں کام کرنے والے غیرملکی سرمایہ کاروں سے ملنا اور ان کے تجربات جاننا نہایت اہم اور باعث مسرت ہے۔ انہوں نے او آئی سی سی آئی ممبران کا پاکستانی معیشت میں کردار اور جی ڈی پی میں 14 فیصد جبکہ مجموعی ٹیکس آمدن میں 33 فیصد حصے کو سراہا اور کہا کہ یہ کمپنیاں پاکستان کی بڑی آبادی کو معاشی مواقع بھی فراہم کررہی ہیں، امریکا اور پاکستان مل کر ملک میں کاروبار اور سرمایہ کاری کے لیے بہتر ماحول بنانے پر کام کررہے ہیں۔

امریکی سفیر نے بتایا کہ امریکا پاکستان کا بڑا کاروباری شراکت دار اور ملک میں سرمایہ کاری کرنے والا بڑا ملک ہے، سال 2013 میں دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا حجم 5 ارب ڈالر جبکہ گزشتہ 7 برسوں میں امریکی کمپنیوں نے پاکستان میں 1.3 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری بھی کی ہے۔ رچرڈ اولسن نے کہا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان تعلق کی نوعیت امداد سے زیادہ تجارت اور سرمایہ کاری کی جانب بڑھ رہی ہے اور امریکا پاکستان کو خود انحصاری کی منزل کی جانب گامزن دیکھنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی حکومت پاکستان میں معاشی بہتری اور کاروباری سرگرمیوں کے اضافے کے لیے ہرطرح کا تعاون کر رہی ہے۔

امریکی سفیر نے اکتوبر 2014 میں اکنامک اینڈ فنانس ورکنگ گروپ کی میٹنگ جس میں پاکستانی وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور امریکی انڈر سیکریٹری برائے انرجی، معیشت اور کاروبار کھیترین نویلی نے شرکت کی تھی کے متعلق بتایا کہ اس اسٹریٹجک میٹنگ میں بھی پاکستان اور امریکا کے درمیان معاشی اور تجارتی تعلقات بڑھانے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کا جائزہ لیا گیا جن میں 2015 کے اوائل میں یو ایس پاکستان اکنامک پارٹنرشپ ویک کا مشترکہ اعلان بھی شامل ہے۔ امریکی سفیر نے کہا کہ پاکستانی اور امریکی عوام اور کاروباری تعلقات دونوں حکومتوں سے زیادہ اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔