ہم سیاست فہم نہیں نئے پاکستان کے طرفدار ہیں
پرانے صرف ’’ماں باپ‘‘ اچھے لگتے ہیں، وہ بھی کچھ عرصے کے لیے باقی سب کچھ نیا ہونا چاہیے۔
نئے پاکستان کے بارے میں اب تک جو لکھا ہے، بولا ہے، سوچا ہے، ان سب پر ''خط تنسیخ'' پھیرتے ہوئے ''ببانگ کالم'' یہ اعلان کرتے ہیں کہ جو کچھ ہم سے اس سلسلے میں ''صادر'' ہوا ہے اور قدمے سخنے، دامے درمے جو بھی بھول چوک ہوئی ہے اس کے لیے ہم معافی کے خواہستگار ہیں۔ ہم کا معافی دے دو ۔۔۔۔ کیونکہ جو بھی ہوا ہے وہ نادانی اور ناسمجھی میں ہوا ہے اور پشتو میں کہاوت ہے ''ناسمجھ نا سزا'' جو نہیں سمجھتا اس کے لیے کوئی ملامت ،کوئی سزا اور کوئی مواخذہ نہیں ہے، لیکن اب ہم اچھی طرح جان بھی گئے ہیں پہچان بھی گئے ہیں اور مان بھی گئے ہیں کہ نیا پاکستان کیا ہے۔
کیا کریں ہم ذرا اولڈ مائنڈ رکھتے تھے اور نہیں جانتے تھے کہ ہر نیا نو دن اور پرانا سو دن ہوتا ہے بلکہ اب تو ایک اور پشتو کہاوت کے بھی قائل ہو گئے ہیں کہ پرانے صرف ''ماں باپ'' اچھے لگتے ہیں، وہ بھی کچھ عرصے کے لیے باقی سب کچھ نیا ہونا چاہیے۔ ہمارے گاؤں میں ایک موچی تھا جو آرڈر پر ''ساہی دار'' جوتے بناتا تھا، اس کے بنائے ہوئے جوتے بہت مہنگے ہوتے تھے لیکن وہ پورے پانچ سال چلتے تھے۔
آرڈر کی تکمیل کے لیے کم از کم چار مہینے کی مدت لیتا تھا لیکن اس کا بیڑا ایک اور موچی نے غرق کر دیا جو ''موچی'' تھا بھی نہیں بلکہ کہیں سے جوتے لایا کرتا تھا، اس کے لائے ہوئے جوتے صرف ایک سال چلتے تھے لیکن اس نے پبلسٹی یہ کی کہ پانچ سال تک پرانے جوتے گھسیٹنے سے بہتر ہے کہ آدمی پانچ سال میں پانچ نئے جوڑے پہنے اور وہ بھی کم قیمت پر، یہی بات ہماری سمجھ میں آ گئی کہ پرانے پاکستان کو گھسیٹنے اور پیوند لگانے سے پالش کرنے وغیرہ سے یہ بدرجہا اچھا ہے کہ ہر سال نیا نویلا پاکستان استعمال کیا جائے۔ ویسے بھی ہم مومن ہیں اور ہر لحظہ ہے مومن کی نئی آن نئی شان۔
لیکن نیا پاکستان کے طرف دار، پرہ دار اور جانب دار بن جانے کی صرف یہی ایک وجہ نہیں ہے بلکہ اور بھی بہت ساری چند در چند، تہہ در تہہ اور درجہ بہ درجہ وجوہات ہیں، جن میں سب سے بڑی وجہ ۔۔۔ ہمارا ۔۔۔ ''نیا پاکستان'' کو بچشم خود دیکھنا تھا اور اس سعادت کے لیے ہم ٹی وی چینلوں کے احسان مند اور ممنون ہیں جھنوں نے ہمیں نئے پاکستان کی جھلکیاں بلکہ پورا ماڈل دکھا دیا، چینلوں کی برکت سے اس ''نیا پاکستان'' کے درشن ہوئے تو صرف ہماری آنکھیں ہی نہیں اور بھی نہ جانے کیا پھٹے کا پھٹا رہ گیا۔
ایسا لگا جیسا ہم اب تک جو پاکستان دیکھ رہے تھے بلکہ بھگت رہے تھے بلکہ جھیل رہے تھے اس میں صرف دو ہی رنگ تھے بلیک اینڈ وائٹ ۔۔۔ اور سب کچھ انھی دو رنگوں میں رنگا ہوا تھا ۔ کالے وائٹ منی اور بلیک منی، کالے ضمیر اور سفید چہرے، کالی داڑھیاں اور سفید مونچھیں، کالے شلوار اور سفید ساڑھیاں، کالے باغ اور سفید داغ، کالے کوے اور سفید بگلے، کالے جھونپڑے سفید بنگلے، وائٹ پیپر اور بلیک وارنٹ، کالے بھوت سفید چڑیلیں، کالا جھوٹ اور سفید جھوٹ، کالا خون اور سفید جون، کالے کاغذ اور سفید سیاہی کالا پانی اور بلیک واٹر، سفید لوگ کالے کرتوت، مطلب یہ کہ اب تک بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی دیکھ رہے تھے لیکن یہ نیا پاکستان ہم نے دیکھا، اس میں رنگ ہی رنگ تھے بلکہ رنگ بھی وہ کہ رنگ باتیں کریں اور ٹی وی سے خوشبو آئے۔
پتہ نہیں یہ ہمارا وہم تھا یا واقعی ایسا تھا لیکن وہم تو اس لیے نہیں تھا کہ ہم بالکل بھی ہوش و حواس میں تھے بلکہ زیادہ ہوش و حواس میں تھے کیوں کہ ہمیں لگ رہا تھا جیسے پانچ حواس کے ساتھ دو چار اور حواس بھی ہمارے بیدار ہونے اور کام کرنے لگے تھے، کیوں کہ آج تک ہم نے صرف دو رنگوں کے چہرے دیکھے تھے ،کالے یا گورے ۔۔۔ لیکن یہاں تو نہ صرف ہر رنگ کا چہرہ نظر آ رہا تھا بلکہ ہر چہرے کا رنگ بھی نظر آ رہا تھا، تھوڑی دیر تک نیا پاکستان دیکھنے کے بعد ہماری پرانی ساری معلومات غلط اور ادھوری ثابت ہوئیں، بچپن سے سنتے آئے تھے کہ رنگ صرف سات ہوتے ہیں یا مزید واضح الفاظ میں یوں کہئے کہ سورج کی روشنی میں سات عدد رنگ ہوتے ہیں لیکن یہاں سورج ایک ہی تھا جسے ہم نے کنٹینر سے نکلتے اور غروب ہوتے بھی دیکھا اور بیچ فلک میں پورا چمکتے ہوئے بھی دیکھا، لیکن اس سورج میں کم سے کم بارہ سو رنگ تو صاف نظر آ رہے تھے لیکن ممکن ہے اور بھی رنگ ہوں، یہ بارہ سو رنگ تو صرف وہی تھے جو متحرک تھے، لہرا رہے تھے، ناچ رہے تھے، اچھل رہے تھے کود رہے تھے، ہنس رہے تھے، بول رہے تھے، مسکرا رہے تھے بلکہ چیخ چلا بھی رہے تھے ۔
سب سے زیادہ مزا اس وقت آ جاتا تھا جب کوئی مائیک ہاتھ میں لے کر نغمہ طراز ہوتا تھا، نغمے تو سمجھ میں نہیں آ رہے تھے، عین ممکن ہے کہ نیا پاکستان کے ترانے اور ملی نغمے ہوں، لیکن جوش کا اندازہ اس ہوش سے ہو جاتا تھا جو مجمع کھو دیتا تھا۔ مطلب یہ کہ نیا پاکستان ''آیا''، ہم نے ''دیکھا'' اور اس نے ''فتح کیا'' یہی وہ فیصلے کا لمحہ تھا جب ہماری کایا پلٹ گئی، اختیار میں ہوتا تو ہم پرانے پاکستان کو اسی وقت کسی کباڑی مثلاً آئی ایم ایف کو تول کر دے ڈالتے اور بدلے میں نئے پاکستان کے طرف دار ہو جائیں اور وہ ہو گئے، ہیں اور ہمیشہ رہیں گے، پرانے پاکستان والے جانیں اور ان کا بلیک اینڈ وائٹ پاکستان ۔۔۔ ہم تو چلے ۔۔۔ ساغر کو میرے ہاتھ سے لینا کہ چلا میں
اے ساکنان کوچہ دلدار دیکھنا
تم کو کہیں جو غالب آشفتہ سر ملے