اب کوئی سقوط ڈھاکا نہیں ہو گا
بلوچستان کے پاکستانی ذہن کے لیڈروں نے حالات کی اصلاح کا ایک پاکستانی منصوبہ پیش کر کے یہ بساط بالکل الٹ دی ہے
KARACHI:
ہم پاکستانی مشرقی پاکستان کے دودھ کے جلے ہیں اور چھاچھ بھی پھونک پھونک کر پیتے ہیں۔
یہ پرانا محاورہ ہم پر بالکل صادق آتا ہے چنانچہ آج بلوچستان کا ابلتا ہوا دودھ ہمارے سامنے ہے اور سوال یہ ہے کہ ہم اس دودھ کا کیا کریں۔ اسے ٹھنڈا کر کے پئیں جو بالکل ممکن ہے یا پھر چند بدنیت سیاستدانوں کے جال میں پھنس کر اپنا منہ جلا لیں اور جو کچھ بچ گیا ہے وہ بھی گنوا دیں اور اپنا سب کچھ جلا بیٹھیں۔ ہمیں یاد ہے کہ ہمارے ساتھ ایک بار پہلے بھی بالکل ایسا ہی ہو چکا ہے۔ یہ سب پوری قوم کو یاد ہے اس کی تمام تفصیلات ہمارے قومی حافظے پر نقش ہیں اور اس کے باوجود کہ ہمارے پرانے دشمنوں نے اپنی پسند کی بساط ایک بار پھر بچھا لی ہے مگر یہ ہماری خوش قسمتی کہ بلوچستان کے پاکستانی ذہن کے لیڈروں نے حالات کی اصلاح کا ایک پاکستانی منصوبہ پیش کر کے یہ بساط بالکل الٹ دی ہے۔
اس کا ملک کی تین بڑی پارٹیوں نے فوری طور پر خیر مقدم کیا ہے۔ مسلم لیگ ن ،جماعت اسلامی اور تحریک انصاف (عمران خان) اور پاکستان کے اٹھارہ کروڑ عوام جو اس مسئلے کا کسی بھی سیاسی جماعت سے بڑے فریق ہیں بلکہ اصل فریق ہی وہی ہیں باقی سب 'سیاستدان' ہیں۔ حیرت ہے کہ حکمران پیپلز پارٹی اور اس کی بعض ہمنوا فوری طور پر بات سمجھ نہیں پائے یا ان کی نیت نے ان کا ساتھ نہیں دیا یا پھر اپنے سیاسی مخالفوں کی مخالفت میں وہ جذبات پر قابو نہیں پا سکے۔ کچھ بھی ہو ان کا فوری ردعمل وہ نہیں تھا جس کی قوم کو توقع تھی۔ کسی بھی عام سے پاکستانی سے بھی پوچھ لیں، وہ سردار مینگل کے چھ نکات کو تہہ دل سے تسلیم کر لے گا بلکہ شیخ مجیب والے چھ نکات یاد کر کے اﷲ کا شکر ادا کرے گا کہ وہ اس امتحان سے بچ گیا۔ اس وقت آپ کی یاد دہانی کے لیے میں شیخ مجیب اور سردار مینگل دونوں کے چھ نکات نقل کر رہا ہوں۔ شیخ مجیب الرحمن کو حالات نے اس مقام پر پہنچا دیا جہاں اس نے کہا کہ
-1 قرار داد لاہور کی روح کے مطابق آئین سازی کی جائے۔
-2 وفاق کے پاس صرف دفاع اور خارجہ امور کے محکمے ہوں باقی معاملات اکائیوں (صوبوں) کے سپرد کیے جائیں۔
-3 جداگانہ مالیاتی پالیسی اختیار کی جائے اور مشرقی پاکستان کی کرنسی الگ ہو۔
-4 وفاق کو ٹیکس لگانے اور آمدن جمع کرنے کا اختیار نہیں ہونا چاہیے۔
-5 مشرقی اور مغربی پاکستان کے تجارتی حسابات علیحدہ علیحدہ ہوں۔
-6 مشرقی پاکستان کو اپنے نیم فوجی دستے رکھنے کا مکمل اختیار ہو۔
اب آپ ان چھ نکات کو ملاحظہ کریں جو بلوچستان کے سردار اختر مینگل نے پیش کیے ہیں۔
-1 بلوچستان میں ہر طرح کا آپریشن فوری طور پر بند کیا جائے۔
-2 صوبے کے لاپتہ افراد کو فوری طور پر بازیاب کرایا جائے۔
-3 بلوچستان سے ملنے والی مسخ شدہ لاشوں کے ذمے داروں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔
-4 جناب اکبر بگٹی اور حبیب جالب سمیت دیگر بلوچ رہنمائوں اور سیاسی کارکنوں کے قاتلوں کو گرفتار کیا جائے۔
-5 آپریشن کے نتیجے میں بے گھر افراد کی آباد کاری کے انتظامات کیے جائیں۔
-6 بلوچستان میں سیاسی جماعتوں کو کام کرنے کی مکمل آزادی ہو۔
ان نکات کو پیش کرتے وقت عدالت عظمیٰ اور پھر باہر عوام سے بات کرتے ہوئے بلاشبہ سخت زبان استعمال کی گئی لیکن افسوس کہ ہم نرم زبان سننے سمجھنے کے عادی نہیں رہے جب تک جلوس نہ نکلے ہم کسی کی بات نہیں سنتے۔ بلوچستان میں بیرونی عناصر اور بعض مقامی عناصر نے بھی ان کی شہ پا کر جو بدامنی پیدا کر دی اور جس نے اس صوبے کو دشمن کے لیے آسان بنا دیا، اس کے پیش نظر اب حالات کو قابو کرنے کی بہترین صورت ایک بلوچ سردار ، سردار مینگل کے نکات پر عملدرآمد ہے۔ بعض عناصر نے تو صوبے میں اس قدر شورش برپا کر دی کہ علیحدگی کی باتیں ہونے لگیں۔
بلوچستان کے اندر اور باہر بیٹھے بعض بلوچ صوبے کا امن تباہ کرتے رہے اور ہماری حکومت بیان پر بیان جاری کرتی رہی۔ حیرت ہے کہ پورے چار سال کی حکمرانی میں ملک کے سب سے بڑے بلکہ خطرناک اور جان لیوا مسئلے کی طرف کوئی خاص توجہ نہ کی گئی جو ملک اور قوم کے ساتھ ایک زیادتی ہے جس کا جواز کسی کے پاس نہیں ہے۔
اب جب کچھ قومی لیڈر اور جماعتیں بات کر رہی ہیں اور حالات کو پاکستانی رخ دینے کی کوشش ہو رہی ہے تو پوری قوم اٹھ کھڑی ہو اور اس موقع کو ہاتھ سے نہ جانے دے۔ ہمارا دشمن بہت چالاک ،عیار اور کاریگر ہے اور اس کے حامی بھی بہت ہیں، ملک سے باہر بھی اور ملک کے اندر بھی جو سرحدوں کی 'لکیروں' کو مٹانے کی فکر کرتے رہتے ہیں۔ یہ مسئلہ اتنا بڑا اور اہم ہے کہ اس پر بات ہر روز ہو تب بھی کم ہے۔ ذرا سی بھی سستی مار دے گی۔ ان سیاسی جماعتوں کا ساتھ دیں جن کا فوری ردعمل انتہائی مثبت تھا۔