پانی کے بحران میں شدت کے باعث کراچی میں کئی ٹیکسٹائل یونٹس بند

ہائیڈرنٹ وٹینکر مافیا کیلیے پانی موجود اور واٹر بورڈ سپلائی میں قلت سازش ہے، چیئرمین نکاٹی


Ehtisham Mufti December 10, 2014
ہائیڈرنٹ وٹینکر مافیا کیلیے پانی موجود اور واٹر بورڈ سپلائی میں قلت سازش ہے، چیئرمین نکاٹی۔ فوٹو : اے پی پی/فائل

صنعتی علاقوں میں پانی کا بحران شدت اختیار کرنے سے کراچی میں کئی پروسیسنگ یونٹ بند اور برآمدی صنعتوں کی پیداواری استعداد محدود ہوگئی ہے۔

3 ماہ سے پانی کے بحران کے سبب صرف نارتھ کراچی صنعتی علاقے میں 10 پروسیسنگ یونٹس بند ہوگئے ہیں جہاں 30 ٹیکسٹائل پروسیسنگ یونٹس قائم ہیں جبکہ علاقے کی برآمدی صنعتوں کی پیداواری استعداد 60 فیصد گھٹ گئی ہے، بندہونے والی پروسیسنگ یونٹس میں عظیم ڈائینگ ملز، ڈی ڈائرز، زینب ڈائینگ، گلزار ہوزری، یوسف پروسیسنگ ملز، حبیب پروسیسنگ ملز، چھیپا ٹیکسٹائل اور انصاری ٹیکسٹائل ملز شامل ہیں، ستمبر 2014 سے پانی کے بحران میں بتدریج اضافے کے نتیجے میں نارتھ کراچی صنعتی علاقے کوہفتے میں صرف 2 دن پانی سپلائی کیا جارہا ہے جبکہ علاقے سے متصل صبا سینما واٹرہائیڈرنٹ کی بندش کے نتیجے میں سخی حسن ہائیڈرنٹ سے فی 2000 لیٹر پانی کے ٹینکر کی قیمت بھی 1500 روپے سے بڑھاکر2500 روپے کردی گئی ہے۔

صنعتی علاقے میں پانی کا بحران حل نہ ہونے کی صورت میں مزید پروسیسنگ یونٹس اور چھوٹی ودرمیانی درجے کی ٹیکسٹائل اور ریڈی میڈ گارمنٹس، ہوزری اورہوم ٹیکسٹائل ایکسپورٹ یونٹس کی بھی بندش کا خطرہ ہے۔ متاثر صنعت کاروں کا کہنا ہے کہ متعلقہ صوبائی وزیر اورکراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے اعلیٰ حکام نے فیصلہ کرلیا ہے کہ صنعتی علاقوں کو پانی سے محروم رکھتے ہوئے صرف ہائیڈرنٹ اور ٹینکر مافیا کی حوصلہ افزائی کی جائے۔

نارتھ کراچی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری کے چیئرمین عبدالرشید فوڈروالا نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ صنعتی علاقے میں قائم 2200 صنعتوں میں سے 75 فیصد برآمدی یونٹس ہیں جو 3 ماہ سے پانی کے بحران میں مبتلا ہیں اور ان صنعتوں میں 3 ماہ سے پیداواری سرگرمیاں صرف 1شفٹ تک محدود ہوگئی ہیں جس کے سبب یومیہ اجرت پرخدمات فراہم کرنے والے ہزاروں ورکرز بے روزگار ہوگئے ہیں جبکہ برآمدی صنعتوں کو کپڑا ودیگر پروسیسڈ خام مال کی 8 تا 10 یوم کی تاخیر سے ڈلیوری کے سبب برآمدی آرڈرز کی بروقت تکمیل میں مشکلات ہیں۔

ایک سوال پر عبدالرشید فوڈر والا نے کہا کہ بھاری اخراجات پرصنعت کاروں کو ہائیڈرنٹس اور ٹینکرمافیا کے ذریعے لاکھوں گیلن پانی حاصل ہوسکتا ہے اور شہر کے ہائیڈرنٹس میں پانی کی کوئی قلت نہیں لیکن اس کے برعکس واٹر بورڈ کی سپلائی لائن میں پانی کا بحران شدت اختیار کرتا جارہا ہے جو انتہائی تعجب خیز امر ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب ہائیڈرنٹس میں پانی وافر مقدار میں دستیاب ہوسکتا ہے تو واٹربورڈ کے کنکشن ہولڈرز کو اس سہولت سے کیوں محروم رکھا گیا ہے، یوں محسوس ہوتا ہے کہ کراچی کے شہریوں اور صنعت کاروں کو پانی سے محروم کرکے مخصوص مافیا کے مفادات کو تحفظ دینے کی خاطر ضرورت مندوں کو انتہائی مہنگے داموں پانی فروخت کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ تاثر بھی غلط ہے کہ تحریک انصاف کے دھرنوں اور جلسوں کی وجہ سے ملکی ٹیکسٹائل برآمدات متاثر ہورہی ہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ بجلی کے بعد گیس اور اب پانی جیسے بحرانوں اور خراب حالات صنعتی پیداوار اور برآمدات کو متاثر کررہی ہیں۔

مقبول خبریں