تم مناؤ تو جشن ہماری خوشی بدتمیزی


Saleem Khaliq December 16, 2014
[email protected]

''کوئی کسی کو گالی دے تو وہ کیا کرتا ہے، یقیناً اس کا ردعمل بھی سخت ہوگا، بعض اوقات نوبت ہاتھا پائی کی حد تک پہنچ جاتی ہے، ہمیں تو ایک ساتھ 6،7 ہزار افراد کی جانب سے گالیاں سننا پڑ رہی تھیں، بات صرف یہیں ختم نہیں ہوتی بلکہ وہ سب ہمارے ملک کو بھی برا بھلا کہہ رہے تھے، یہاں ہمارا ماتھا بھی گھوم گیا مگر میچ میں توجہ منتشر نہ ہو اس وجہ سے برداشت کیا۔

درحقیقت ہمارا مقابلہ 11 بھارتی کھلاڑیوں سے نہیں بلکہ ہزاروں افراد سے بھی تھا، سب جانتے ہیں کہ ہمیں کافی عرصے سے کوئی معاوضہ نہیں ملا، مستقل ملازمتیں بھی ہمارے پاس نہیں ہیں، اس کے باوجود اگر ہم چیمپئنز ٹرافی کھیلنے کیلیے گئے تو اس کی وجہ صرف ملک ہے، بس جیسے ہی میچ جیتے تو برداشت نہ ہو سکا، پتا ہی نہ چلا کب چند پلیئرز نے قمیضیں اتار پھینکیں اور پھر ہم نے بھی کراؤڈ کو خوب جواب دیا جس پر کوئی پچھتاوا نہیں ہے''۔

یہ باتیں قومی ہاکی ٹیم کے ایک کھلاڑی نے مجھ سے فون پر کیں، اس سے میرا رابطہ ندیم عمر نے کرایا یہ وہی صاحب ہیں جنھوں نے قومی ٹیم کی بھارت روانگی کیلیے فضائی ٹکٹ اور رہائش کا انتظام کیا تھا، گوکہ ان کا تعلق کرکٹ سے ہے اور سرفراز احمد و اسد شفیق سمیت کئی کھلاڑیوں کو انہی نے متعارف کرایا، مگر ہاکی فیڈریشن کو حکومت کے سامنے گرانٹ کیلیے گڑگڑاتا دیکھ کر ان سے رہا نہ گیا اور چپکے سے مدد کر دی، اس پر پلیئرز بھی ان کے معترف ہو گئے، فائنل کے بعد جب ان کے پاس بعض کھلاڑیوں کے فون آئے تو میں نے بھی بات کرلی۔

اس وقت پاکستانی شائقین کی2رائے ہیں، ایک طبقہ ٹیم کے انداز کو غلط قرار دیتا ہے جبکہ دوسرے کے خیال میں پلیئرز نے صحیح کیا،میں ایک بات دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ اگر بھارتی ٹیم پاکستان میں ہمیں ہراتی تو اس کا ردعمل اور بھی زیادہ ہوتا، چندے کے پیسوں سے گئے ہوئے غیرمعروف لڑکوں نے غیرملکی کوچ سے تربیت لینے والی ایک ایسی سائیڈ کو ہرایا جو مسلسل ہاکی بھی کھیل رہی ہے، یہ کوئی معمولی بات نہیں۔

بھارتی میڈیا کو بھی اس شکست کا اثر کم تو کرنا ہی تھا لہذا اس نے کھلاڑیوں کے جشن میں نازیبا حرکات کا الزام لگا دیا، مگر انھیں یہ نظر نہیں آیا کہ کراؤڈ کا ہمارے پلیئرز کے ساتھ سلوک کیا تھا، مسلسل ہوٹنگ انھیں سنائی نہ دی، کوئی کتنا بھی ٹھنڈے دماغ کا ہو وہ کتنی دیر یہ سب کچھ برداشت کرے گا، ان کے اپنے کرکٹر ساروگنگولی نے لارڈز کی بالکونی میں کھڑے ہو کر جو شرٹ لہرائی تھی وہ تو جیت کا جشن کہہ کر بھلا دی گئی تو اب ہمارے کھلاڑیوں کو کیوں برا کہا جا رہا ہے، آپ منائیں تو جشن ہم کچھ کریں تو بدتمیزی یہ دوہرا معیار کیوں ہے؟

آپ جتنا امن کی آشا کا راگ الاپتے رہیں درحقیقت بھارتی دل سے دوستی چاہتے ہی نہیں ہیں، چاہے سرحد ہو یا ہاکی کا میدان ہر جگہ جارحیت ہی چلتی ہے، آئی پی ایل میں ہمارے کرکٹرز کو حصہ نہیں لینے دیا جاتا، ہاکی لیگ کیلیے بلا کر واپس بھیجا گیا، باہمی سیریز صرف اخباری بیانات تک محدود ہیں، ایسے میں کس بات کی دوستی،اگر بھارتی فلمیں یہاں چل رہی ہیں تو اس پر بھی خوش ہونے کی ضرورت نہیں، درحقیقت اس سے وہی ہمارے کروڑوں روپے اپنے اکاؤنٹس میں منتقل کرا رہے ہیں، دوستی کرنا اچھی بات ہے لیکن یہ برابری کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔

بھارت نے کرکٹ میں پیسے کی بدولت اپنی بادشاہت قائم کر لی اور اب بگ تھری کا زور ہے، چیف بھی وہی سری نواسن ہیں جن کیخلاف اپنے ملک میں کرپشن کیسز چل رہے ہیں، اب ہاکی میں بھی بھارت تیزی سے غلبہ حاصل کرتا جا رہا ہے، ایف آئی ایچ کے اعلیٰ عہدیدار بھی اکثر وہاں کے دورے کرتے رہتے ہیں، چیمپئنز ٹرافی کے اسپانسرز بھی بھارتی ہیں، وہ دن دور نہیں جب ہاکی میں بھی اسی کی حکمرانی ہوگی،جس طرح فائنل سے قبل2 پاکستانی کھلاڑیوں پر پابندی لگی اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی فیڈریشن میں بھارت کا اثرورسوخ کس قدر بڑھ چکا۔

ایک روز قبل ہی ایف آئی ایچ نے پاکستانی معافی قبول کرتے ہوئے معاملے کو ختم کرنے کا اعلان کیا تھا مگر پھر انتہائی قدم اٹھا لیا، یقیناً ایسا بھارتیوں کی ناراضی کو دور کرنے کیلیے کیا گیا، ورنہ اگلے ایونٹ کے اسپانسرز کیسے ملتے، ویسے ہی بھارت نے دھمکی دیدی تھی کہ اگر سخت ایکشن نہ لیا تو آئندہ ایف آئی ایچ ایونٹس کی میزبانی نہیں کریںگے،کرکٹ ویسے ہی فکسنگ وغیرہ سے آلودہ ہو چکی لگتا ہے کہ اب ہاکی کا بھی برا دور آنے والا ہے۔

ہماری ٹیم گوکہ فیصلہ کن معرکے میں جرمنی کو زیر نہ کر سکی مگر اس کے باوجود کھلاڑی داد کے مستحق ہیں، انھوں نے بھارت کو اس کے ملک میں ہرا کر بہت بڑا کارنامہ انجام دیا،فیڈریشن مالی امداد کیلیے بہت عرصے سے شور مچا رہی ہے حکومت کو بھی اب اس کی فریاد سن لینی چاہیے، مگر ساتھ ہی اس بات کو بھی یقینی بنایا جائے کہ یہ رقم واقعی کھیل کے فروغ میں خرچ ہو حکام کی تجوریوں میں نہ جائے۔

ماضی میں کروڑوں روپے پی ایچ ایف کو ملے مگر اس سے ہاکی کوکوئی فائدہ نہ ہوا، اب سب سے پہلے کھلاڑیوں کے واجبات کی ادائیگی ہونی چاہیے، انھیں نیا سینٹرل کنٹریکٹ دے کر ایک سال کا معاوضہ ایڈوانس میں دیا جائے تاکہ مالی مسائل کچھ کم ہوں، ساتھ حکومت ان کی ملازمتوں کا بھی کوئی بندوبست کرے، ورنہ چار دن بعد لوگ حالیہ عمدہ کارکردگی بھول جائیں گے اور بیچارے ہاکی کھلاڑی پھر سے محرومیوں کا رونا رو رہے ہوں گے۔