انقرہمولانافضل الرحمن کی ترک وزیراعظم طیب اردگان سے ملاقات

مسئلہ کشمیر پرپاکستان کے اصولی موقف کی حمایت پرترک وزیراعظم اورعوام سے اظہارتشکر


Online October 02, 2012
مسئلہ کشمیر پرپاکستان کے اصولی موقف کی حمایت پرترک وزیراعظم اورعوام سے اظہارتشکر, فوٹو:ایکسپریس

جمعیت علمائے اسلام( ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے ترک وزیراعظم طیب اردگان سے ملاقات کی ہے۔

ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے باہمی تعلقات اوردیگر معاملات زیرغورآئے۔ مولانا فضل الرحمن جو کہ پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی برائے کشمیر کے چیئرمین کی حیثیت سے ان دنوں ترکی سینیٹر، ممبر نیپرا،SECPاور سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ پالیسی انسٹی ٹیوٹ(SDPI) کی سالانہ رپورٹ برائے2012میں نشاندہی کی گئی خلاف ورزیوں سے متعلق آگاہ کیا تھا، ترجمان نے کہا کہ حکومت پاکستان اور کے ای ایس سی کے درمیان اپریل2009میں جو معاہدہ کیا گیا تھا اس میں قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے تھے۔

اس میں جو وفاقی حکومت نے کے ای ایس سی کی نجکاری کیلیے شرائط رکھی تھیں وہ پوری نہیں کی گئی ہیں، نجکاری کے سلسلے میں2005کے قوانین میں2009میں ترامیم کرکے نجکاری کے عمل میں دیگر کمپنیوں کو شامل ہونے سے روکا گیا، سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنے دو فیصلوں پاکستان اسٹیل پرائوٹائزیشن 2006 اور رینٹل پاور پلانٹس30 مارچ 2012 کو محض اس لیے منسوخ کیا تھا کہ نجکاری کیلیے قواعد و ضوابط کو تبدیل کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ کے ای ایس سی نے اپنے اعلامیے میں ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے اس موقف کوتسلیم نہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ جس تنظیم کی اپنی ساکھ مشکوک ہے اس کی کوئی بات تسلیم نہیں کی جا سکتی، ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے مزید کہا کہ2009میں نیپرا نے اپنے فیصلے جبکہ ممبر نیپرا شوکت علی کنڈی نے18دسمبر 2009 کو جاری کردہ اپنی رپورٹ میں واضح طور پر لکھا تھا کہ نجکاری قوانین کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا، ٹی آئی پی نے کہا ہے کہ کے ای ایس سی کا دعویٰ ہے کہ اس نے پچھلے تین برس میں ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کری کی ہے جس کی بدولت ایک ہزار میگا واٹ بجلی کی پیداوار میں اضافہ ہوا لیکن اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے کہ نیپرا نے 13 اکتوبر 2009 کو کے ای ایس سی کو نادہندہ قرار دیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے رہنما سینیٹررضا ربانی نے 27 جنوری 2012 کو اپنی پیش کردہ رپورٹ میں کے ای ایس سی کی نجکاری کو ''اقتصادی دہشت گردی '' قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کے ای ایس سی کی انتظامیہ کراچی کے لوگوں سے اربوں روپے وصول کرکے غیر ملکی بینکوں میں جمع کرا رہی ہے، انھوں نے کہا کہ SDPI کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ لگتا ہے کہ کے ای ایس سی کی بجلی کی پیداوار اور قیمت مقرر کرنے پر نیپرا کا کوئی اختیار نہیں، ترجمان نے کہا کہ اعلیٰ عدلیہ کو ہم نے ایسے حقائق بیان کیے ہیں جو کہ ناقابل تردید ہیں۔

مقبول خبریں