بھارت لچکدار رویہ اختیار کرے

جبار قریشی  جمعرات 18 دسمبر 2014
 jabbar01@gmail.com

[email protected]

گزشتہ دنوں دفتر سے گھر واپسی پر ایک دیوار پر یہ نعرہ لکھا دیکھا ’’منموہن سنگھ ہمارا کشمیر خالی کرو‘‘ نہ جانے یہ نعرہ کس نے لکھا تھا۔ ہمارے ملک کے در و دیوار پر اس نوعیت کے نعرے عموماً لکھے دکھائی دیتے ہیں یہ نعرے ہمارے قومی جذبات کی عکاسی کرتے ہیں۔ انھیں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

مسئلہ کشمیر ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ایک مستقل سیاسی مسئلے کے طور پر موجود ہے یہ مسئلہ ہندوستان اور پاکستان کا جھگڑا نہیں بلکہ یہ کشمیری عوام کی آزادی کا بین الاقوامی مسئلہ ہے۔ یہ مسئلہ انسانی آبادی کے ایک بڑے حصے کی زندگی اور موت کا مسئلہ ہے جب تک یہ مسئلہ حل نہیں ہوتا اس وقت تک اس خطے میں امن قائم نہیں رہ سکتا، اس لیے ضروری ہے کہ اس مسئلے کا حل تلاش کیا جائے۔

سوال یہ ہے کہ یہ مسئلہ اتنا سادہ ہے کہ اسے جذباتی نعروں سے حل کیا جا سکتا ہے۔ یقینا اس کا جواب نفی میں ہو گا۔ پھر سوال یہ ہے کہ اس کے حل کے لیے کیا کیا جانا چاہیے اس کے لیے ہمیں سب سے پہلے اس مسئلے کی نوعیت کو سمجھنا ہو گا۔

یہ بات تاریخ کا ہر طالب علم جانتا ہے کہ کشمیر صدیوں سے ایک مسلم اکثریتی علاقہ رہا ہے، بدقسمتی سے 16 مارچ 1846ء میں ہنری لارنس نے گورنر راجہ گلاب سنگھ کو ایک معاہدے کے تحت جو امرتسر کے مقام پر ہوا کشمیر کو 75 لاکھ ٹانک شاہی روپے کے عوض فروخت کر دیا۔ ظاہر ہے کہ یہ معاہدہ مسلم اکثریتی آبادی کے لیے کسی طور بھی قابل قبول نہ تھا۔ لہٰذا اس معاہدے کے خلاف پورے کشمیری عوام نے علم بغاوت بلند کیا۔ تشدد اور مزاحمت کا یہ سلسلہ ایک صدی تک جاری رہا۔ 1947ء کو جب تقسیم ہند کے منصوبے کا اعلان کیا گیا اس وقت یہاں گلاب سنگھ کے پڑپوتے ہری سنگھ کا راج تھا۔

وائسرائے ہند مائونٹ بیٹن نے تمام ریاستوں کے سامنے تقسیم ہند کے منصوبے کے تحت تین ممکنہ راستے رکھے (1) اپنی خود مختاری کا اعلان کر دیں۔ (2) ہندوستان یا پاکستان سے الحاق کریں (3) ریاستیں باہمی طور پر ایک دوسرے سے الحاق کر لیں۔ مائونٹ بیٹن نے اس بات پر زور دیا کہ ریاستوں کے حکمران راجہ اور نواب اس بات کا فیصلہ کرتے وقت اپنی ریاستوں کے عوام کی خواہشات، جغرافیائی عوامل کو ہر حال میں پیش نظر رکھیں۔

ستم ظریفی کہیے ہری سنگھ نے کشمیری عوام کی خواہش کے برعکس کشمیری عوام جو مذہبی جغرافیائی، ثقافتی اور تاریخی اعتبار سے پاکستانی عوام کا حصہ تھے ان کا ہندوستان سے الحاق کر دیا۔ اس کے نتیجے میں کشمیر پر بھارت کا غاصبانہ قبضہ ہو گیا اس کے رد عمل کے نتیجے میں کشمیر کی آزادی کی تحریک نے شدت اختیار کرلی، بھارت نے اس تحریک کو کچلنے کے لیے اپنی فوج وہاں بھیجی اس نے لاکھوں کشمیری مسلمانوں کا قتل عام کیا جب یہ معاملہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے جایا گیا، سلامتی کونسل نے اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ ریاست جموں و کشمیر کا قطعی فیصلہ اقوام متحدہ کی زیر نگرانی آزاد اور غیر جانبدارانہ استصواب رائے کے ذریعے کیا جائے گا۔

بھارت کئی دہائیوں سے اس سے انحراف کی پالیسی اپنائے ہوئے ہے۔ اس کے برعکس پاکستان کا ہمیشہ سے یہ موقف رہا ہے کہ کشمیر کے مسئلے کا واحد حل اقوام متحدہ کے مینڈیٹ اور استصواب رائے میں پوشیدہ ہے۔بھارت کا موقف ہمیشہ اس کے برعکس رہا ہے بھارت کا موقف ہے کہ بھارت ایک کثیر النسل اور کثیر المذہب ریاست ہے اگر ایک گروہ یا ایک علاقے کو حق خود ارادیت دے دیا گیا بھارت کا جو ایک سیکولر اور جمہوری ملک ہونے کا تصور ہے وہ خطرے میں پڑ جائے گا۔

اس سے بھارت میں سیاسی انتشار پیدا ہو جائے گا۔ بھارت خود ارادیت کے اصول کو اپنا کر اپنی ریاست کے وجود کو خطرے میں نہیں ڈال سکتا۔یہ انتہائی ناقص دلیل ہے اس کے پیچھے یہ مفروضہ کار فرما نظر آتا ہے کہ بھارت کے تمام صوبے مشترکہ قومیت کے جذبے کے تحت نہیں بلکہ طاقت اور تشدد کے ذریعے یکجا کیے گئے ہیں۔ یہ دلیل بھارت کے سیکولر، لبرل اور جمہوری ہونے کی بھی قطعی نفی کرتی ہے۔

بھارت کا ایک موقف یہ بھی ہے کہ مسلم بنیاد پر کشمیری عوام نے پاکستان کے ساتھ الحاق کیا تو اس کا خمیازہ بھارت کے کروڑوں مسلمانوں کو بھگتنا ہو گا۔ پورے بھارت میں فرقہ ورانہ فسادات شروع ہو جائیں گے جس سے بھارت کا وجود خطرے میں پڑ جائے گا۔ بھارت کی یہ دلیل جموں کشمیر کے عوام کو اپنا حق آزادانہ طور پر استعمال سے روکنے کے لیے بلیک میل کرنے کی بھرپور کوشش ہے۔ بھارت کی ایک دلیل یہ ہے کہ بھارت میں کئی مرتبہ انتخابات ہوچکے ہیں جن میں کشمیری عوام نے بھی حصہ لیا ہے اور اس طرح انھوں نے بھارت کے ساتھ الحاق کے حق میں فیصلہ دے دیا ہے۔ اس لیے ریفرنڈم کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

بھارت کا یہ موقف بین الاقوامی معاہدے اور سلامتی کونسل کی قرار دادا کی کھلی خلاف ورزی ہے۔بھارت کا ایک موقف یہ بھی ہے کہ کوئی بھی بھارتی حکومت کسی ریاست کے کسی ایک حصے سے دستبردار ہو تو وہ اپنی حکومت برقرار نہیں رکھ سکتی بالخصوص اس مسئلے سے جس سے بھارتی عوام کے جذبات بھی وابستہ ہوں۔ سیاسیات کا ہر طالب علم یہ بات جانتا ہے کہ جب کسی خطے کے عوام حق خود ارادیت چاہتے ہیں لیکن انھیں اس کے حق سے محروم رکھا جاتا ہے تو مسلح بغاوت جنم لیتی ہے۔ نتیجے میں ملک ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا ہے۔ لہٰذا اسے جذباتی تناظر میں دیکھنے کے بجائے حقائق کی روشنی میں دیکھنا چاہیے۔

بھارت کی جانب سے یہ موقف بھی اپنایا جاتا ہے کہ کشمیری میں کبھی شورش برپا نہیں ہوئی۔ کشمیر میں بیرونی مداخلت کار ہیں جو جموں کشمیر کے عوام کی مدد کے سلسلے میں پاکستان سے وہاں گئے ہیں اور پاکستان ان کی خفیہ فوجی مدد کر رہا ہے۔یہ الزام درست نہیں ہے کیوں کہ پاکستان خود اپنے داخلی مسائل سے دو چار ہے وہ کس طرح اپنے کسی پڑوسی ملک کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ البتہ پاکستان کشمیری عوام کی اخلاقی حمایت کرتا ہے اور کرتا رہے گا کیوں کہ کشمیری عوام کی اخلاقی حمایت نہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے طاقت کے اصول کو تسلیم کر لیا ہے ایک مہذب ملک ہونے کے ناتے یہ ممکن نہیں ہے۔

پاکستان کے لیے کشمیر زمین کا ایک خطہ نہیں ہے پاکستان کی معیشت کا دار و مدار کشمیری سے بہنے والے دریائوں پر ہے۔ کشمیر پاکستان کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے، بھارت کو یہ بات سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے کہ کشمیر کے حوالے سے اس کے سخت گیر رویے کی وجہ سے سرحدی کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے اس سرحدی کشیدگی اور اس کے نتیجے میں اسلحہ سازی کی دوڑ نے دونوں ملکوں کی معاشی پسماندگی میں اضافہ کیا ہے۔ دونوں ملکوں کے بیشتر وسائل اسلحے کے حصول پر خرچ ہو رہے ہیں۔

بھارت کو اس حقیقت کو فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ پاکستان دفاعی نقطہ نظر سے بھارت کے مقابلے میں ایک چھوٹا ملک ہے اگر خدانخواستہ بھارت اور پاکستان کے مابین جنگ ہوئی تو پاکستان آخری حربے کے طور پر ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرے گا۔ بھارت کی جانب سے ممکنہ خطرے کے پیش نظر پاکستان کی انگلی ہر وقت ایٹمی بٹن پر رہے گی وہ نا امیدی کی حالت میں اپنے ایٹمی ہتھیاروں کو بے دھڑک استعمال کر کے تباہی پھیلا سکتا ہے۔

بھارت کو اس بات کا بھی احساس ہونا چاہیے کہ ایٹمی دھماکے کے بارے میں جو تصورات ہیں وہ خیالی نہیں بلکہ سائنسی حقائق پر مبنی ہیں صرف ڈھائی منٹ میں 35 کروڑ انسان لقمہ اجل بن سکتے ہیں۔کوئی دماغ سے خالی اور اول درجے کا پاگل ہی شخص ہو گا جو یہ خواہش کرے گا کہ ایسا ہو ایک با شعور انسان کبھی بھی ایسا نہیں چاہے گا۔ لہٰذا بھارت کو اپنے رویے میں تبدیلی لانی چاہیے۔ بھارت لکچدار رویہ اختیار کرے اس میں ہم سب کی بقا بھی ہے اور سلامتی بھی اور اس میں ہم سب کی ترقی اور خوشحالی کا راز بھی پوشیدہ ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔