جی ایس پی پلس سزائے موت پر پابندی سے مشروط نہیں وفاقی وزیر تجارت

جی ایس پی پلس سے متعلق اقوام متحدہ کے 27کنونشن میں سزائے موت پر پابندی کی کوئی قانونی شرط نہیں ہے، خرم دستگیر


Numainda Express December 19, 2014
توانائی بحران اور روپے کی قیمت میں اضافے کی وجہ سے برآمدات متاثر ہوئیں تاہم حکومت آئندہ سال جنوری سے نئی پالیسی لار ہی ہے، خرم دستگیر فوٹو: فائل

HYDERABAD: وفاقی وزیر تجارت خرم دستگیر خان نے کہا ہے کہ یورپی یونین سے حاصل کردہ جی ایس پی پلس کے ثمرات سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔

رواں سال کے پہلے 9ماہ (جنوری تا ستمبر) کے دوران یورپی یونین کو مجموعی طور پر5ارب 67کروڑ ڈالر کی اشیا برآمد کی گئیں جو گزشتہ سال کے مقابلے میں19.09 فیصدیا 90کروڑ 90لاکھ ڈالر زیادہ ہیں البتہ توانائی بحران اور روپے کی قیمت میں اضافے کی وجہ سے برآمدات متاثر ہوئیں تاہم حکومت آئندہ سال جنوری سے نئی پالیسی لار ہی ہے جس میں ایسے اقدامات متعارف کرائے جا رہے ہیں جس سے مختلف شعبوں میں مسابقت کی صلاحیت میں اضافہ ہو گا،جی ایس پی پلس سے متعلق اقوام متحدہ کے 27کنونشن میں سزائے موت پر پابندی کی کوئی قانونی شرط نہیں ہے۔

گزشتہ روز وزارت تجارت میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہاکہ جی ایس پی پلس سے بین الاقوامی منڈی میں پاکستانی مصنوعات کی مسابقتی صلاحیت میں اضافہ ہوا، جنوری سے ستمبر تک ہوم ٹیکسٹائل ایکسپورٹ27.78 فیصد، کپڑے کی 27فیصد، فٹ ویئر26.10 فیصد، چمڑے اور اس کی برآمدات میں10.36فیصدکا اضافہ ہوا، یہ وفاقی ادارہ شماریات نہیں بلکہ یورو اسٹیٹ کے اعدادوشمار ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز کی حوصلہ افزائی کی جائے گی کہ وہ مشرقی یورپ اور دیگر منڈیوں میں موجود مواقع سے فائدہ اٹھائیں۔ خرم دستگیر نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت کے مطابق ٹریٹی ایمپلے منٹیشن سیل قائم کیا گیا ہے جس میں تمام صوبوں کے علاوہ گلگت بلتستان اور کشمیر سے نمائندے شامل ہوں گے۔ ایک سوال پر وفاقی وزیر نے کہاکہ توانائی بحران، روپے کی قدر اور کم سے کم تنخواہ میں اضافے کے برآمدات پر منفی اثرات مرتب ہوئے تاہم جی ایس پی پلس کے بعد یورپی یونین کو برآمدات 1 ارب ڈالر کے اضافے کے ہدف سے تجاوز کر جائیں گی۔

انھوں نے کہاکہ حکومت کاروباری لاگت کم کرنے پر کام کر رہی ہے، اگرچہ سالانہ برآمدات میں کمی ہوئی ہے تاہم نومبر میں مجموعی برآمدات میں 9.5 فیصد کا اضافہ ہوا اور اب اس صورتحال میں بہتری آ رہی ہے، دھرنوں کی وجہ سے سرمایہ کاروں کا اعتماد متاثر ہوا۔ ایک اور سوال پر انھوں نے کہاکہ آئندہ ہفتے ایک اہل افسر ڈبلیو ٹی او میں پاکستان کے نمائندے کے طور پر تعینات کیا جائے گا، حکومت جنوری سے نئی پالیسی لار ہی ہے جس میں ایسے اقدامات متعارف کرائے جا رہے ہیں جس سے مختلف شعبوں میں مقابلے کی سکت میں اضافہ ہو گا۔

انھوں نے کہاکہ نارمل گروتھ جو 2005میں 4.2 فیصد تھی 2013 میں بڑھ کر 6.62فیصد تک پہنچ گئی، حکومت اپنی مصنوعات کی برآمدات کے لیے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے تاہم ہماری زرعی مصنوعات کی کوالٹی، پیکنگ وغیرہ بین الاقوامی معیار کے مطابق نہیںہے جس کی وجہ سے برآمدات متاثر ہوتی ہیں، آم کی برآمدات میں کوالٹی کو بہتر بناکر اس کی برآمدت میں اضافہ کیا گیا ہے اور ایسے اقدامات دیگر شعبوں کے لیے متعارف کرائے جائیں گے۔

وزیر تجارت نے واضح کیا کہ موت کی سزا پر عمل درآمد سے حکومت کو کسی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ اس کا کسی بھی بین الاقوامی کنونشن سے کوئی تعلق نہیں ہے، ماضی کی حکومت نے دیگر وجوہ کی بنا پر اس سزا پر عمل درآمد نہیں کرایا۔

وزیر تجارت مے کہا کہ جی ایس پی پلس کے تحت ملنے والی مرعات 10سال کے لیے ہیں، ملکی معاہدوں پر عمل درآمد کے لیے وزیر اعظم نے ٹریٹی امپلی منٹیشن سیل قائم کیا جو پاکستان کی تمام اکائیوں کے انسانی حقوق سے متعلق قوانین کو بہتر بنانے اور انھیں مروجہ عالمی قوانین کے مطابق بنانے کے لیے کام کر رہا ہے، جی ایس پی پلس سے متعلق اقوام متحدہ کے 27کنونشن میں سزائے موت پر پابندی کی کوئی قانونی شرط نہیں ہے۔

گزشتہ حکومت نے 2008 سے سزائے موت پر غیر رسمی پابندی لگائی تھی جو گزشتہ حکومت کے پورے دور میں برقرار رہی، جی ایس پی پلس اسکیم کا اصل عنوان 'اچھی طرز حکمرانی اور پائیدار ترقی کے لیے خصوصی ترغیبات' ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حکومت پاکستان کو یورپی یونین کی مکمل حمایت حاصل ہے اور دہشت گردوں کے لیے سزائے موت کے اعلان کا جی ایس پی پلس کے درجے پر کوئی اثر متوقع نہیں ہے۔