ہمیں تتلیوں کے جگنوئوں کے دیس جانا ہے

پشاور میں انتہا پسندوں نے قتل و غارت کا جو کھیل کھیلا اس نے ملک بھر میں کہرام برپا کر دیا ہے۔


Zahida Hina December 20, 2014
[email protected]

ہر شہر، ہر نگر سوگ میں ہے۔ پشاور شہر میں دہشت گردوں نے آرمی پبلک اسکول کے 132 بچے، پرنسپل، ٹیچر اور ڈیوٹی پر موجود اہلکاروں کو جس طرح شہید کیا، اس نے سارے ملک کو بنیادوں سے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ لوگ یہ سوال کر رہے ہیں کہ بے گناہ انسانوں، معصوم بچوں کی لاشوں کو سیڑھیاں بنا کر جنت میں پہنچنے کی خواہش رکھنے والوں کو آخرکار کب نکیل ڈالی جائے گی۔ پشاور میں سفاکی سے قتل کیے جانے والوں کی جو تعداد بتائی جا رہی ہے اس میں ابھی اور اضافہ ہو گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شہید ہونے والوں کے علاوہ 124 بچے زخمی ہوئے جن میں سے درجنوں کی حالت انتہائی نازک ہے اور یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ان میں سے کتنے زندہ بچیں گے۔

صبح کا وقت تھا۔ 9 سے 16 برس کی عمر کے کچھ بچے اپنے اسکول ہال میں فرسٹ ایڈ کی ٹریننگ لے رہے تھے اور چند اپنی اپنی کلاسوں میں امتحان دے رہے تھے جب سیکیورٹی اہلکاروں کی وردی پہنے ہوئے دہشت گرد اسکول کی چار دیواری کود کر اندر داخل ہوئے اور انھوں نے اندھا دھند گولیاں چلانی شروع کر دیں۔ ان میں سے کئی خودکش جیکٹیں پہنے ہوئے تھے۔ وہ اپنے ساتھ کئی دن کا راشن لے کر آئے تھے کیونکہ انھیں یقین تھا کہ وہ ہزار سے زیادہ بچوں کو کئی دن تک یرغمال بنا کر رکھ سکیں گے۔

انھوں نے بچوں کے سروں میں گولیاں ماریں، زندہ بچ جانے والی پرنسپل طاہرہ قاضی نے اپنے شاگردوں کے لیے جان کی امان چاہی تو اس 'جسارت' پر انھیں بچوں کے سامنے زندہ جلا دیا گیا۔ روتے ہوئے بچوں کو یہ خوفناک منظر دیکھنے پر مجبور کیا گیا جس کے بعد ان بچوں میں سے اکثر گولیوں سے چھلنی ہوئے اور کچھ ذبح کر دیے گئے، کچھ ہی دیر بعد طالبان پاکستان نے اس حملے کی ذمے داری قبول کر لی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے شمالی علاقوں میں ہمارے خلاف فوجی کارروائی ہو رہی ہے اس میں ہمارے 500 سے زیادہ لوگ مارے جا چکے ہیں۔ ہم اپنے ساتھیوں کا انتقام لینے کے لیے فوجی افسروں کے بچے قتل کر رہے ہیں۔

بچوں سے ان کے باپ کا عہدہ پوچھ کر انھیں چھلنی کرنے والے قاتل اپنے حسابوں، شمالی علاقوں میں مارے جانے والے اپنے ساتھیوں کا انتقام لے رہے تھے۔ عجیب انتقام تھا کہ انھوں نے کسی ٹینک، کسی توپ، کسی ہیلی کاپٹر کو نشانہ نہیں بنایا بلکہ ان بچوں کے پرخچے اڑا دیے جو بات بے بات ہنستے تھے اور جن کی آنکھوں میں روشن مستقبل کے خواب تھے۔

یہ وہ بچے تھے جنھیں ماؤں اور استادوں نے تربیت دی تھی کہ اگر کسی بزرگ کو بھیڑ میں دیکھو تو اس کا ہاتھ تھام کر اسے سڑک پار کرا دو۔ وہ بچے جنھیں غلیل سے کبوتر یا چڑیا مارنے پر سزا ملتی تھی، وہ بچے جو گھونسلے سے گر پڑنے والے کبوتر کے زخمی بچے کو اٹھا کر گھر لے جاتے تھے اور اس کے زخم پر مرہم رکھتے تھے۔ گولیوں کی بوچھاڑ سے گھائل ہو کر گرتے ہوئے، خنجر سے ذبح ہوتے ہوئے دنیا سے رخصت ہوتے ہوئے انھوں نے شاید سوچا ہو کہ ہم پر تو کبھی باپ، بھائی، چچا اور ماموں نے ہاتھ نہیں اٹھایا تھا۔ یہ کون سے لوگ ہیں جن کی داڑھیاں ہیں، جو عربی بولتے ہیں اور اللہ اکبر کا نعرہ مارتے ہوئے ہمیں قتل کر رہے ہیں۔

انتہا پسندوں اور دہشت گردوں کی ایک ویب سائٹ پر ایک کمانڈر نے کہا کہ ان بچوں کو اس لیے نشانہ بنایا گیا کہ ان کے ماں باپ امریکا کے ساتھ مل کر طالبان کے خلاف آپریشن کر رہے ہیں۔ ہم نے اپنے ساتھیوں کا انتقام لے لیا ہے اور بچوں کو بھی یہ پیغام دیا ہے کہ وہ اپنے والدین کو ہمارے خلاف حملوں سے روکیں ورنہ آیندہ بھی ان کا یہی انجام ہو گا۔ ہم اب بھی اس پوزیشن میں ہیں کہ جب اور جہاں چاہیں حملہ کر سکتے ہیں۔ پاکستان میں ہمیں جہاں حملہ کرنا ہے اس کی ایک طویل فہرست ہمارے پاس موجود ہے۔ پشاور میں انتہا پسندوں نے قتل و غارت کا جو کھیل کھیلا اس نے ملک بھر میں کہرام برپا کر دیا ہے۔ ہر طرف احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں، بچوں کی یاد میں شمعیں جلائی جا رہی ہیں، پھول رکھے جا رہے ہیں۔

زخمی ہونے والوں کو خون دینے کے لیے قطاریں لگ رہی ہیں۔ امریکی سفیر نے اپنا خون عطیہ کیا ہے۔ ہندوستانی وزیر اعظم مودی ہمدردی کا پیغام بھیج رہے ہیں، ہندوستان بھر کے اسکولوں میں جنونیوں کے ہاتھوں شہید ہونے والے ان بچوں کی یاد میں 2 منٹ کی خاموشی اختیار کرنے کی ہدایت جاری کر رہے ہیں۔ سشما سوراج پاکستانی پارلیمنٹرین کے لیے ہونے والی دعوت منسوخ کر رہی ہیں۔ دنیا بھر کے تعزیتی پیغام چلے آتے ہیں۔ خاموش ہیں تو صرف وہ جو اس سر زمین پر رہتے ہیں اور قتال فی سبیل اللہ کا نعرہ بلند کرتے ہیں۔ وزیر اعظم بننے کی خواہش رکھنے والے ہمارے رہنما نے ابھی چند دنوں پہلے ہی یہ اعلان کیا تھا کہ وہ اگر اس عہدہ جلیلہ پر ہوتے تو کبھی فوج کو شمالی وزیرستان نہ بھیجتے۔ اس وقت سیاسی مصلحت کا تقاضا یہی ہے کہ پشاور سانحے پر دھیمے انداز میں افسوس کا اظہار کیا جائے۔

پاکستان بھر میں مائیں ان بچوں کے لیے دعائیہ اجتماعات کر رہی ہیں اور یہ سوال کر رہی ہیں کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ پاکستان اور طالبان ساتھ ساتھ چل سکیں۔ یہی بات ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے بھی کہی ہے کہ طالبان اور پاکستان ایک ساتھ نہیں رہ سکتے۔ وہ بچے جو چلے گئے جاتے ہوئے یہ کہہ گئے کہ

ہمیں ماتھے پہ بوسہ دو
ہمیں تتلیوں کے جگنوؤں کے دیس جانا ہے
وہ چلے گئے اور ہزاروں لاکھوں آنکھوں کو اشک بار چھوڑ گئے۔

ملک کے کونے کونے میں کہرام بپا ہے۔ وہ بازار جو ماوزر اور ٹی ٹی لہرانے کے بعد بہ مجبوری بند کیے جاتے تھے، ان پر لوگوں کے درد و غم کے تالے پڑ گئے۔ کسی مار دھاڑ کے بغیر نوجوان اور بوڑھے، عورتیں اور بچے شب غم میں چٹکی بھر اجالے کی تلاش کرتے ہوئے چراغ اور شمعیں جلاتے نظر آئے۔ ایک دردِ مشترک تھا جس نے ہر آنکھ اشک بار کی اور ہر دل کے ٹکڑے کیے۔

مشرق و مغرب اور شمال و جنوب دنیا کے دور دراز حصوں میں ان معصوم پرندوں کا غم منایا گیا جو شجرِ حیات پر ابھی آ کر بیٹھے ہی تھے کہ انھیں بے رحمی سے شکار کیا گیا۔ گولیاں کچھ کی آنکھوں میں اتاری گئیں اور کچھ کو ذبح کر کے دل ٹھنڈا کیا گیا۔ یہ کون لوگ تھے؟ انھوں نے اپنے ساتھیوں کے انتقام کے لیے ہدف انھیں بنایا جو ابھی اس تنازعے اور تقسیم سے واقف بھی نہ تھے جس نے دنیا کو جہنم بنا دیا ہے۔ پتھر کے زمانے کے لوگ جن کے ہاتھوں میں اکیسویں صدی کے ہتھیار آ گئے ہیں، جن کی آنکھوں میں جنت کے خواب ہیں اور جو بے گناہ اور معصوم لوگوں کی زندگیوں کو جہنم بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔

ہندوستانی اداکار انوپم کھیر کو ہم نے اسکرین پر عموماً ہنستے ہنساتے دیکھا ہے، انھوں نے ہر طرف پھیلے ہوئے دہشت گردوں کے نام ایک خط میں لکھا:

ہر مرتبہ جب تم دہشت گردی کرتے ہو میں تھوڑا مر جاتا ہوں، سچی بات تو یہ ہے کہ میں بہت عرصے سے تھوڑا تھوڑا مرتا آ رہا ہوں، میں اس وقت بھی مرا جب شہری علاقوں میں بم دھماکے ہوئے، جب عام لوگوں کو یرغمال بنایا گیا، جب ہوائی جہاز ہائی جیک ہوئے، جب اپنا دفاع نہ کر پانے والے کمزور ہلاک ہوئے اور جب نہتے غلاموں کی طرح بیچ دیے گئے لیکن جب تم نے 130 سے زیادہ بچوں کو پشاور کے اسکول میں سنگ دلی سے قتل کیا تو شاید میرے اندر مزید مرنے کے لیے کچھ رہا نہیں۔ انوپم کھیر نے لکھا کہ میں نہیں جانتا کہ اس بربریت کے پیچھے تمہارے کیا مقاصد تھے لیکن تم نے مجھے چلتی پھرتی لاش میں تبدیل کر دیا، کیا معصوم چہروں پر گولیاں برسانے کے لیے بہادری چاہیے اور وہ بھی ان بچوں پر جو شیطانی دہشت گردی تو کیا یہ بھی نہیں جانتے کہ تنازعات کیا ہوتے ہیں، کوئی بھی مذہب کسی کو قتل کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دیتا۔

انوپم کھیر سے کون کہے کہ انھوں نے جن لوگوں کے نام یہ کھلا خط لکھا ہے، وہ ان نرم و نازک اور انسانی احساسات سے ناواقف ہیں۔ اسی طرح فاطمہ بھٹو جو اپنے گھر کی دہلیز پر اپنے کڑیل جوان باپ کا قتل دیکھ چکی ہیں انھوں نے بہت درد سے لکھا ہے کہ مارے جانے والے کم سن اور حسین تھے۔ ان میں اکثریت 12 سے 16 برس کی عمر کے جوانوں کی تھی۔ انھوں نے بجا کہا کہ یہ درندگی کرنے والوں کا مقصد پاکستان کو دکھ دینا تھا۔ تم درست کہتی ہو۔ انھوں نے ہم سب کا دل چیر کر رکھ دیا ہے۔ لیکن یہ ماتمِ وقت کی گھڑی نہیں، ماتم برپا کرنے والوں کو شکست دینے کی گھڑی ہے۔

مقبول خبریں