دھاندلی سے اسٹیٹس کو تک

عمران خان کی تحریک کیا صرف انتخابی دھاندلی کے ازالے تک محدود رہے گی یا ’’اسٹیٹس کو‘‘ کے خاتمے کی طرف جائے گی۔


Zaheer Akhter Bedari December 22, 2014
[email protected]

تحریک انصاف کی قیادت بھی ملک کے اس کرپٹ نظام کو تبدیل کرنے کی نوید دے رہی ہے اور اسی نوید نے عوام کو عمران خان کا گرویدہ بنادیا ۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کی 67 سالہ زندگی میں کسی بھی سیاسی جماعت نے اس قدر زور و شور سے ملک میں چہروں کی تبدیلی کے منافقانہ کھیل کو ختم کرکے نظام کی تبدیلی کا نعرہ نہیں لگایا، اس نعرے نے کراچی سے کشمیر تک عوام کو اس طرح نیند سے بیدار کردیا ہے کہ اگر اس بیداری کو عقل و فہم منصوبہ بندی اور موثر حکمت عملی کے ساتھ استعمال کیا گیا تو کوئی طاقت تبدیلی کو نہیں روک سکتی۔

تحریک انصاف کی جد وجہد کی ابتدا 2013 کے الیکشن میں دھاندلی کے خلاف احتجاج سے ہوئی تھی، 2013 کے الیکشن میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کی شکایت صرف تحریک انصاف ہی کو نہیں بلکہ ملک کی تقریباً تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں کو ہے لیکن یہ جماعتیں اس دھاندلی کے خلاف کوئی تحریک اس لیے نہیں چلائیں کہ اگر مڈ ٹرم الیکشن ہوا تو ان کی کامیابی کی کوئی امید نہیں جب کہ تحریک انصاف کی بڑے پیمانے پر کامیابی کی امید ہے۔

تحریک انصاف اگرچہ اب بھی اسٹیٹس کو توڑنے کا ذکر کردیتی ہے لیکن اس کا زیادہ زور 2013 کے الیکشن میں ہونے والی دھاندلی کے ازالے پر ہے، عمران خان اس دھاندلی کی تحقیقات کے لیے جس قسم کا جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ کررہے ہیں ۔

اس پس منظر میں جو بات اہمیت اختیار کررہی ہے، وہ یہ ہے کہ عمران خان کی تحریک کیا صرف انتخابی دھاندلی کے ازالے تک محدود رہے گی یا ''اسٹیٹس کو'' کے خاتمے کی طرف جائے گی، اس حقیقت سے کسی کو انکار نہیں ہوسکتا کہ تنازعہ یا بحران خواہ مذاکرات کے ذریعے حل ہو یا حکومت کی تبدیلی اور مڈ ٹرم انتخابات پر اتفاق کے ذریعے سب سے بڑا مسئلہ ''اسٹیٹس کو''کو توڑنے کا ہے اگر ''اسٹیٹس کو'' توڑے بغیر کوئی سمجھوتا ہوتا ہے یعنی دھاندلی کی تحقیق پر حکومت تیار ہوجاتی ہے تو پھر منطقی طور پر دھاندلی کا ازالہ ہی مسئلے کا حل بن جائے گا۔

دھاندلی کا ازالہ خواہ کسی شکل میں کیا جائے'' اسٹیٹس کو'' کو توڑنا اس میں شامل نہیں ہوسکتا جب تک کہ عمران خان اس مطالبے کو اپنا مرکزی مطالبہ نہ بنالیں بات مذاکرات سے طے ہو یا جد وجہد کے ذریعے ری الیکشن تک جائے دونوں صورتوں میں اقتدار کی تبدیلی لازمی ہوگی۔ اگر تحریک انصاف کو کسی طرح اقتدار ملتا ہے تو پھر اسٹیٹس کو توڑنے کے اس کام کا کیا ہوگا جس کی خواہش میں عوام عمران خان کے جلسوں جلوسوں میں بصورت سیلاب شریک ہوتے رہے ہیں۔ اگر بالفرض تحریک انصاف اقتدار میں آتی ہے تو اس کی ترجیحات میں اسٹیٹس کو توڑنا کہاں ہوگا...؟

اس وقت صورت حال یہ ہے کہ اسٹیٹس کو کی حامی طاقتیں حکومت کی سرپرستی میں ایک طرف کھڑی ہوئی ہیں اور 'اسٹیٹس کو' توڑنے کی حامی قوتیں دوسری طرف کھڑی ہیں۔ اسٹیٹس کو کی حامی قوتوںکے پیچھے مٹھی بھر سیاسی کارکن ہیں اسٹیٹس کو کی حامی قوتوں کے پیچھے ملک کے 18کروڑ عوام کی طاقت موجود ہے، یہ ایک منطقی بات ہے کہ 67 سال سے طبقاتی استحصال، حکمران طبقات کی لوٹ مار، مہنگائی، بے روزگاری، بجلی گیس کی لوڈ شیڈنگ، جرائم کی بھرمار سے تنگ آئے ہوئے عوام ہر قیمت پر اس 67 سالہ عوام دشمن سسٹم کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ چونکہ عمران خان نے اس پورے استحصالی سیٹ اپ کو توڑنے کی بات کی ہے لہٰذا عوام کا سمندر عمران خان کے ساتھ چل رہا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ انتخابات میں دھاندلی ایک بد ترین جمہوری جرم ہے اور اس کے خلاف سیاست دانوں کو اٹھ کھڑے ہونا چاہیے لیکن اس حوالے سے صورت حال یہ بنتی ہے کہ اگر حکومت انتخابی دھاندلی کی تحقیقات کے لیے تیار ہوجاتی ہے اور انتخابی دھاندلی ثابت بھی ہوجاتی ہے تو اس کا فائدہ تحریک انصاف تک ہی محدود ہوگا اور عوام جس مقصد کے لیے عمران خان کے ساتھ چل رہے ہیں وہ مقصد پس منظر میں چلا جائے گا۔

عمران کی پارٹی میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جن کی واحد دلچسپی اقتدار میں آنا ہے اگر انتخابی دھاندلی ثابت ہوجاتی ہے تو پھر ملک میں مڈٹرم الیکشن یقینی ہوجاتے ہیں اور مڈ ٹرم الیکشن ہوتے ہیں تو یقیناً تحریک انصاف الیکشن جیت کر اقتدار میں آجائے گی، یہی وہ مرحلہ ہے جب تحریک انصاف میں موجود اسٹیٹس کو کے حامی عمران کو صلاح دیں گے کہ بس اب ہاتھ روک لو کیوں کہ اسٹیٹس کو ٹوٹنے سے ان کے مفادات کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے، مثال کے طور پر عمران کے سیکنڈ مین شاہ محمود قریشی ایک بڑے جاگیردار خانوادے کے سربراہ ہیں۔ کیا وہ زرعی اصلاحات کی حمایت کریں گے؟ ہوسکتا ہے تحریک انصاف میں ایسے لوگ بھی موجود ہوں جن کے اثاثے غیر قانونی ہوں کیا ایسے لوگ احتساب کی حمایت کریں گے ان حضرات کی کوشش ہوگی کہ اسٹیٹس کو کو توڑنے کے مسئلے کو لٹکاکر اقتدار کے گھوڑے پر سوار ہوجائیں۔

لاہور بند کامیاب تحریک کے بعد حکومتی اکابرین کا پی ٹی آئی کے حوالے سے رویہ اچانک سخت ہوگیا ہے۔ حکومت کو منطقی طور پر دفاعی پوزیشن مخالفین کو مرعوب کرنا چاہتی ہو۔ بات جو بھی کچھ ہو زیادہ امکان اس بات کا نظر آرہا ہے کہ مذاکرات کی بیل منڈھے نہیں چڑھے گی۔ جس کا نتیجہ بہر حال تصادم کی شکل میں نکلے گا۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ حکمران طبقے کے ہاتھ میں پوری ریاستی مشینری ہوتی ہے اور وہ اپنی بقا کے لیے اس مشینری کا بے دریغ استعمال بھی کرتا ہے لیکن عوام کی طاقت کے آگے حکومتوں کو آخر کار سرنڈر کرنا پرتا ہے۔ 1968 اور 1977 میں اس کا تجربہ ہوچکا ہے، خدانخواستہ اگر یہی صورت حال پیدا ہوتی ہے تو پھر اس کا آخری انجام تیسری طاقت کی آمد کے علاوہ اور کیا ہوسکتا ہے اگر ایسا ہوا تو نہ قادری کا انقلاب باقی رہ سکتا ہے نہ عمران کا نیا پاکستان۔

اس ممکنہ صورت حال سے بچنے اور عوام کی خواہشات کو پورا کرنے کا بہترین اور دانشمندانہ راستہ یہ ہے کہ عمران خان دھاندلی سے زیادہ اسٹیٹس کو اپنا مرکزی مطالبہ بنالیں، دھاندلی کے مسئلے پر تو اسٹیٹس کو کی حامی جماعتیں اپنی بقا کا کوئی نہ کوئی راستہ تلاش کرلیتی ہیں لیکن عمران خان جب ملک میں زرعی اصلاحات، کھربوں روپوں کی لوٹ مار کا احتساب، انتخابی اصلاحات، بلدیاتی انتخابات، موروثی سیاست کو جو اسٹیٹس کو کے عناصر ترکیبی ہیں، اپنا مرکزی مطالبہ بنالیں تو نہ انتخابی دھاندلی کرنیوالوں کو کسی قسم کی ''اگر مگر'' کا موقع ملے گا نہ وہ اسٹیٹس کو توڑنے کی مخالفت کے قابل رہیں گی۔ کیا عمران خان دھاندلی کے مسئلے کو اسٹیٹس کو توڑنے سے جوڑ کر آگے بڑھنے کے فوائد اور اہمیت کو سمجھ سکیں گے؟

مقبول خبریں