انتہاپسندی کے تدارک کے لیے اقدامات
امریکی حکومت نے مذہب کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے نقصانات کا خمیازہ بھگت لیا تھا۔
مولانا عبدالعزیز نے آرمی پبلک اسکول پشاور میں طالب علموں کے قتل عام کی مذمت سے انکارکیا۔ انھوں نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ آپریشن 'ضربِ عضب' اسلامی اصولوں کے مطابق نہیں ہے۔ اسلام آباد کی سول سوسائٹی کے اراکین نے لال مسجد کے سامنے مظاہرہ کیا۔ مظاہرین کے خلاف دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ قائم ہوا۔ ایک خاتون سمیت کئی مظاہرین گرفتار ہوئے۔ بعد میں وزیر داخلہ چوہدری نثار کی مداخلت پر یہ افراد رہا ہوئے۔ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے کراچی میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ مولانا عبدالعزیزکوگرفتار کیا جائے۔
لال مسجد اور مدرسہ پر پابندی لگا دی جائے۔ اس سے قبل مدرسہ حفصہ کی طالبات نے عراق اور شام میں متحرک انتہاپسند تنظیم داعش کے خلیفہ ابوبکر بغدادی کی حمایت کا اعلان کیا۔ ایک طرف مولانا عبدالعزیز کے حامیوں اور دوسری طرف انتہاپسند طالبان کی مخالفت کرنے والے لوگوں نے مظاہرے کیے اس طرح ملک میں ایک نئی کشیدگی پیدا ہو گئی۔ پشاور میں پبلک اسکول کے طلبہ کا قتلِ عام اس ملک کی تاریخ کی بدترین دہشت گردی ہے۔ خارجہ امور کے مشیر سرتاج عزیز نے اس دہشت گردی کو پاکستان کا نائن الیون قرار دیا ہے۔ نائن الیون کی دہشت گردی کے بعد دنیا تبدیل ہو گئی۔ امریکی حکومت نے مذہب کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے نقصانات کا خمیازہ بھگت لیا تھا۔ اب پاکستان کی ریاست کو بھی مذہبی انتہاپسندی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی سزا مل گئی۔ اب انتہاپسندی کی جڑوں کو کاٹنے اور مولانا عبدالعزیز جیسے لوگوں کو تنہا کرنے کی پالیسی سے ہی ایک نئے دور کا آغاز ہو سکتا ہے۔
16 دسمبر کو انتہاپسند طالبان نے آرمی پبلک اسکول پشاور کے طلبہ کو نشانہ بنایا۔ ان میں سے کچھ کے والدین کا تعلق مسلح افواج سے تھا اور پھر وہ جدید تعلیم حاصل کر رہے تھے، جدید تعلیم طالبان کے عزائم میں بڑی رکاوٹ ہے، پشاور کے سانحے پر پورے ملک میں شدید ردعمل ہے۔ گزشتہ ہفتے سے ہر گھر میں سوگ کی صورتحال ہے، عورتیں اور مرد ٹیلی وژن پر شہید ہونے والے طلبہ اور ان کے والدین کے بارے میں خبریں سنتے ہیں، ڈاکیومنٹریز دیکھتے ہیں اور زارو قطار روتے ہیں۔ ملک بھر میں پریس کلبوں کے سامنے کارکنان موم بتیاں اور دیے روشن کر رہے ہیں۔ روزانہ اس سانحے کی مذمت کرنے والے مظاہرین کی بڑھتی ہوئی تعداد کی بناء پر کراچی اور دیگر شہروں میں ٹریفک جام ہو رہا ہے۔ اگرچہ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں باقاعدہ کلاسیں نہیں ہو رہیں مگر شہیدوں کی غائبانہ نمازِ جنازہ ادا کی گئیں۔ یہ سب احتجاج انتہاپسند مذہبی گروہوں کو تنہا کر رہا ہے۔
ان انتہاپسندوں کو مستقل بنیادوں پر تنہا کرنے کے لیے ادارہ جاتی اقدامات کی شدید ضرورت ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ مسلح افواج کے دہشت گروں کے خلاف آپریشن میں تیزی آئی ہے۔ چند گھنٹوں بعد سے ملک کے مختلف علاقوں سے دہشت گردوں کے مارے جانے کی خبریں نشر ہو رہی ہیں مگر ماضی کے تجربات سے ظاہر ہوتا ہے کہ دہشت گردوں کا ایک گروہ ختم ہوتا ہے تو کچھ عرصے بعد دوسرے گروہ وجود میں آ جاتے ہیں۔
ان گروہوں کی ہمیشہ کے لیے بیخ کنی کرنے کے لیے سب سے پہلے امن و امان کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ امن و امان کی بہتری کے لیے غیر قانونی اسلحے پر پابندی ضروری ہے۔ حکومت کو سب سے پہلے غیر قانونی اسلحہ رکھنے کے جرم کی سزا کو عمر قید تک بڑھانا چاہیے، پورے ملک سے غیر قانونی اسلحے کی بازیابی کے لیے مربوط آپریشن ہونا چاہیے۔ ناجائز اسلحے کے کاروبار میں سردار، جاگیردار اور سول و فوجی افسران ملوث ہیں۔ پورے ملک میں اسلحہ افغانستان سے بلوچستان اور 'کے پی کے' کے راستے ملک بھر میں پھیلتا ہے۔
کراچی سے گوادر تک سمندری راستے سے اسلحہ اسمگل ہوتا ہے۔ ملک کے بڑے شہروں میں اسلحہ تقسیم ہوتا ہے۔ اگر پورے ملک میں ایک ساتھ مربوط آپریشن کیا جائے۔ اسلحے کی خریداری کرنے والے بااثر افراد کو حراست میں لیا جائے اور غیر قانونی اسلحہ رکھنے والے افراد کو عمرقید تک کی سزائیں دی جائیں، اس ضمن میں پولیس کا تحقیقاتی نظام بہتر کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ ملک میں بڑھتے ہوئے جرائم کی بناء پر طالبان کو اپنی کارروائیاں کرنے کا موقع ملتا ہے۔ پولیس کا انٹیلی جنس نیٹ ورک تقریباً مفلوج ہو چکا ہے۔ کراچی پولیس کے بہادر افسر چوہدری اسلم کو شہید کیا گیا تھا تو یہ الزام لگایا گیا تھا کہ ان کی آمدورفت کے بارے میں طالبان کو پہلے سے علم تھا۔
اسی طرح کے اور کئی واقعات میں انٹیلی جنس نیٹ ورک میں انتہاپسندوں کی موجودگی کے الزامات لگے تھے۔ یہ انتہائی مناسب وقت ہے کہ پولیس اور خفیہ ایجنسیوں کی تطہیر کی جائے۔ انتہاپسندوں اور جرائم پیشہ افراد کو اس فورس سے نکالا جائے۔ ججز، وکلاء اورگواہوں کے تحفظ کے لیے خصوصی فورس بنائی جائے۔ یہ عجب ستم ظریفی ہے کہ گواہوں کے تحفظ کا قانون نافذ نہیں ہو سکا۔ صدر ممنون حسین نے بھی فرمایا ہے کہ حکومت اس قانون کو نافذ کرنے پر غور کر رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی انسدادِ دہشت گردی کی عدالتوں کی تعداد میں خاطرخواہ اضافہ ہونا چاہیے۔ ان عدالتوں کو جیلوں کے احاطے میں قائم ہونا چاہیے تا کہ سیکیورٹی کے مسائل پیدا نہ ہوں۔
بعض اخبارات میں یہ خبریں شایع ہوئی ہیں کہ حکومت فوجی عدالتوں کے قیام پر غور کر رہی ہے۔ فوجی عدالتیں مسائل کا حل نہیں۔ 1998 میں سپریم کورٹ فوجی عدالتوں کے قیام کو غیر قانونی قرار دے چکی ہے۔ سپریم کورٹ نے ایڈیشنل سیشن ججوں پر مشتمل عدالتوں کے قیام کی تجویز دی ہے۔ اب ججوں کی تعداد بڑھا کر مقدمات کو نمٹانے کی مدت کم کی جائے۔ پھر ملک میں کئی لوگ دہشت گردوں کے ہاتھوں قتل ہوئے، ان میں ملتان کے معروف وکیل راشد رحمن، گجرات کے پروفیسر شبیر شاہ، کراچی کی پروین رحمن اور ڈاکٹر شکیل اوج وغیرہ شامل ہیں۔ پولیس کے مطابق ان بہادر افراد کے مقدمات کی فائلیں بند کی جا چکی ہیں۔ ان افراد کو قتل کرنے والے ملزمان آزاد پھر رہے ہیں۔
حکومت کو ان افراد کے قتل کے ذمے دار افراد کی گرفتاری پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ اس کے ساتھ انتہاپسندانہ مواد پر پابندی ضرورت ہے۔بہت سی مساجد کے امام انتہاپسندانہ تقریریں کرتے ہیں۔ یہ لوگ انتہاپسندوں کو ہیرو بنا کر پیش کرتے ہیں اور غریب لوگوں کے ذہنوں کو پراگندہ کرتے ہیں۔ دوسری طرف بعض تعلیم یافتہ افراد سوشل میڈیا پر نفرت آمیز اور اشتعال انگیز پروپیگنڈہ کرتے ہیں۔ حکومت نفرت آمیز پروپیگنڈا کے تدارک کے لیے قانون بنائے۔ ان تمام افراد کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ الطاف حسین نے انتہاپسندی کے تدارک کے لیے جو تجاویز دے رہے ہیں ' اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے ۔ جب تک انتہاپسندی کے خاتمے کے لیے تمام ذرایع استعمال نہیں ہونگے ملک کو اس عذاب سے نجات نہیں ملے گی۔